اسلام آباد(خبررساں ادارے) پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع اپر دیر میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کو پاک افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں ستائیس سکیورٹی اہلکاروں سمیت اکتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں چار عام شہری بھی شامل ہیں۔
اپر دیر سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں بارہ لیویز کے اور پندرہ پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔
اپر دیر کے ضلعی رابط افسر غلام محمد نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ پاک افغان سرحدی علاقے شل تالو میں سینکڑوں مسلح شدت پسندوں نے پولیس اور لیویز کی چیک پوسٹ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں اٹھائیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جن میں پچیس پولیس اور لیویز کے اہلکار اور تین عام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام لاشیں قبضہ میں لے کر متعلقہ علاقوں تک پہنچائی جارہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ پہاڑی علاقوں میں اب بھی سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان اکا دکا جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے علاقوں میں دو سرکاری سکولوں کو بھی آگ لگا دی تھی۔
دریں اثناء سوات طالبان کے ترجمان عمر حسن اہرابی نے سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس لڑائی میں ان کا بھی ایک جنگجو مارا گیا ہے جبکہ دو زخمی ہیں۔
ضلع اپر دیر کے دور افتادہ پہاڑی علاقے شل تالو میں فغانستان کے علاقے سے داخل ہونے والے سینکڑوں مسلح عسکریت پسندوں نے پاکستانی علاقے میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا تھا۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز بھی بھاری نفری کے ہمراہ علاقہ میں پہنچ گئی تھیں جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں نےبھی شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی سارا دن اور رات کے وقت بھی جاری رہی۔
واضح رہے کہ شل تالو کا علاقہ پاک افغان سرحد پر واقع ایک دور افتادہ پہاڑی مقام پر واقع ہے ۔ اس علاقے میں حال ہی میں پولیس اور لیویز کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ سرکاری سکول میں قائم کی گئی تھی۔
تقریباً دو ماہ قبل لوئیر دیر میں بھی افغانستان سے آنے والے شدت پسندوں نے پاکستانی چوکی پر حملہ کرکے تیرہ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔تاہم ابھی تک ان دونوں واقعات پر پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی جانب سے کوئی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

آپ کی رائے