خطیب اہل سنت زاہدان حضرت شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید دامت برکاتہم نے اپنے خطبہ جمعہ کاآغاز سورت الحشر کی آیت18 سے کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے مذکورہ قرآنی آیت میں فرمایاہے، اے مومنو! اللہ سے ڈرو اور یہ دیکھ لو کہ تم نے روزقیامت کیلیے کیاتیار کیا ہے۔
مولاناعبدالحمید نے مزیدکہا یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اللہ تعالی ہمارے فردفرد کو ’مؤمن‘ کہہ کرپکارتاہے اور قیامت کیلیے تیاری کا فرماتاہے۔ قرآن پاک میں کہیں بھی یہ نہیں کہاگیاہے کہ تم نے مستقبل کی زندگی کیلیے کتنا مال تیار کیاہے لیکن قیامت اور حساب وکتاب کے حوالے سے اللہ تعالی ہم کو وارننگ دیتاہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے ہمیں دنیا کی کامیابی سے بدرجہا زیادہ آخرت کی کامیابی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاآج کامسلمان آخرت کیلیے اس طرح تیاری نہیں کرتا جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیاکرتے تھے، ہمیں ان کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، کس کے پاس آخرت میں کامیابی کی ضمانت موجودہے؟ بلاشبہ کوئی بھی شخص روزقیامت میں اپنے انجام کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم قیامت کے دن میرے اور آپ کیساتھ کیا ہوگا؛ پھر ہم کسی شمار میں بھی نہیں آتے۔
خطیب اہل سنت نے مزید کہا آج کل توبہ و استغفار کم ہوتی ہے۔ آخرت کے لیے رونا کم ہوا ہے، ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ کمزوری کیوں عام ہوتی جارہی ہے؟ اصلاح اعمال، شب بیداری وذکر اللہ کا فقدان کیوں ہے؟ لوگ کہتے ہیں ’’ اللہ ٖغفور و رحیم ہے!‘‘ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی صرف آخرت میں غفور و رحیم نہیں، دنیا میں بھی غفور و رحیم ہے، پھر آپ دنیا کے حصول کے لیے کیوں سر توڑ کوششیں کرتے ہیں؟ ہم مال دنیا کے لیے کوشش و محنت کرتے ہیں لیکن آخرت کے حوالے سے خدا کی رحمت پر محض بھروسہ کرتے ہیں۔
نامور سنی عالم دین نے کہا اگر جانوروں کو قیامت کی حقیقت معلوم ہوتا اور انہیں اس دن کی ہولنا کیوں اور دہشت کا علم ہوتا تو وہ ضرور ڈر کے مارے لاغر ہوجاتے، لیکن ہم انسان غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں حالانکہ قیامت کے اوصاف ہمارے علم میں ہیں۔ قرآن پاک نے کہا ہے روز قیامت لوگ اپنے قریب ترین عزیزوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے، ماں باپ اپنی اولاد کو چھوڑ جائیں گے، میاں بیوی ایک دوسرے سے غافل ہوکر سب اپنی نجات کیلیے فکرمند ہوجاتے ہیں۔
جامع مسجد مکی میں موجود ہزاروں نمازیوں کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: اللہ سے ڈرتے رہو اور شک نہ کرو کہ اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال، اچھے ہوں یا برے، سب سے باخبر ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ اس کے باوجود بعض لوگ دوسروں کا حق مارتے ہیں، لوگوں کو اذیتیں دیکر انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں۔ بہن بھائی، ماں باپ، میاں بیوی سب ایک دوسرے سے ناراض ہیں۔ لوگوں کے حقوق ادا کرکے ان کی تضییع سے بچیں۔ آپ کے اعضا و جوارح امانت ہیں، اس امانت میں ہرگز خیانت مت کریں۔

آپ کی رائے