خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے قرآن پاک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گزشتہ ہفتے میں دارالعلوم زاہدان اور جامع مسجد مکی میں مقابلہ حفظ قرآن وحسن قرائت کی محفل منعقد ہوئی جس میں ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلباء نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا قرآن پاک انسانی زندگی کی ضرورت ہے۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے یہ سب قرآن وسنت اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ہے۔ قرآن کے بغیر کوئی بھی شخص کامیابی کا دعوی نہیں کرسکتا، کیاخوب کہا ہے علامہ اقبال رحمہ اللہ نے کہ:گر ہمی خواہی مسلمان زیستن نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن
اگر مسلمان بن کر جینا ہے تو یہ کام قرآن کے بغیر ناممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا جو قرآن و سنت پر عمل پیرا ہو وہ ہرگز گمراہ نہیں ہوگا، بلکہ ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کامیابی و عزت کی بنیاد انہی چیزوں پر ہے۔
جامع مسجد مکی کے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مزید کہا اسلامی معاشرے کو اس بات پر فخر ہے کہ آخری آسمانی پیغام مسلمانوں کے پاس ہے جو سب بڑی تاریخی دستاویز اور گواہ ہے۔ قرآن پاک لوگوں سے بات کرکے انہیں مخاطب کرتا ہے، ان کی رہنمائی کرتاہے اور صراط مستقیم کی راہ انہیں دکھاتاہے۔ جب ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں گویا ہم اللہ تعالی سے باتیں کرتے ہیں۔ اگر قرآن وسنت نہ ہوتے تو ہمیں اب زندگی گزارنے کا طریقہ معلوم نہ ہوتا۔
حضرت شیخ الاسلام نے مزید کہا قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے جس نے چودہ صدیاں پہلے پوری دنیا کو چیلنج کیا تھا۔ آج تک نہ کوئی قرآن کی مثل پیش کرسکا نہ مستقبل میں پیش کرسکے گا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا جو آیت آپ کے سامنے تلاوت ہوئی اس میں اعتدال کا سبق ہے، قرآن کا منہج و طریقہ بھی اعتدال پر ہے۔ جب مسلمان قرآنی تعلیمات پر عمل کرتے تھے تو اہل دنیا کے دلوں میں ان کا ایک خاص مقام تھا۔ ہم نے تہذیبیں بنائیں اور ہماری ایک شاندار تاریخ ہے۔ غلام اور لونڈیوں کو قرآن کی برکت سے اعلی مقام مل گیا، رہزن رہبر ورہنما بن گئے اور اسی عظیم کتاب کی برکت سے دنیا میں انقلابات رونما ہوئے۔
جب مسلمان صبح وشام قرآن پاک کی تلاوت کرتے ، اس کو حفظ کرکے اس کی تعلیمات پر عمل کرتے تو خیر وبرکت کا دروازہ ان پر کھلا ہواتھا اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی، لیکن جب مسلمانوں نے قرآن سے دوری اختیار کی تو ذلت و مصائب کا دور دورہ شروع ہوا۔
مولانا عبدالحمید حفظہ اللہ نے حاضرین کو قرآن کی تلاوت کی ترغیب دی اور کہا کہ تجوید کے ساتھ قرآن کی تلاوت سے غفلت نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی تلاوت سے اللہ کی رحمتیں برسنے لگتی ہیں۔ آپ یقین کریں جو دولت تمہارے پاس ہے وہ مغربی سپر پاورز کے پاس بھی نہیں ہے۔ ہماری دنیا وآخرت میں عزت اسی کتاب کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے تاکید کی اگر ہم نے قرآنی تعلیمات پر عمل کیا، معاشرے کے تمام افراد خاص طورپر طلباء و اساتذہ نے اس کی آیات سمجھنے کی کوشش کی تو ضرور اللہ تعالی ہماری مشکلات میں کمی کردے گا، ہماری شان و شوکت لوٹ آئے گی اور ہم متحد ومتفق ہوجائیں گے۔
جامع مسجد مکی کے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مزید کہا اسلامی معاشرے کو اس بات پر فخر ہے کہ آخری آسمانی پیغام مسلمانوں کے پاس ہے جو سب بڑی تاریخی دستاویز اور گواہ ہے۔ قرآن پاک لوگوں سے بات کرکے انہیں مخاطب کرتا ہے، ان کی رہنمائی کرتاہے اور صراط مستقیم کی راہ انہیں دکھاتاہے۔ جب ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں گویا ہم اللہ تعالی سے باتیں کرتے ہیں۔ اگر قرآن وسنت نہ ہوتے تو ہمیں اب زندگی گزارنے کا طریقہ معلوم نہ ہوتا۔
حضرت شیخ الاسلام نے مزید کہا قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے جس نے چودہ صدیاں پہلے پوری دنیا کو چیلنج کیا تھا۔ آج تک نہ کوئی قرآن کی مثل پیش کرسکا نہ مستقبل میں پیش کرسکے گا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا جو آیت آپ کے سامنے تلاوت ہوئی اس میں اعتدال کا سبق ہے، قرآن کا منہج و طریقہ بھی اعتدال پر ہے۔ جب مسلمان قرآنی تعلیمات پر عمل کرتے تھے تو اہل دنیا کے دلوں میں ان کا ایک خاص مقام تھا۔ ہم نے تہذیبیں بنائیں اور ہماری ایک شاندار تاریخ ہے۔ غلام اور لونڈیوں کو قرآن کی برکت سے اعلی مقام مل گیا، رہزن رہبر ورہنما بن گئے اور اسی عظیم کتاب کی برکت سے دنیا میں انقلابات رونما ہوئے۔
جب مسلمان صبح وشام قرآن پاک کی تلاوت کرتے ، اس کو حفظ کرکے اس کی تعلیمات پر عمل کرتے تو خیر وبرکت کا دروازہ ان پر کھلا ہواتھا اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی، لیکن جب مسلمانوں نے قرآن سے دوری اختیار کی تو ذلت و مصائب کا دور دورہ شروع ہوا۔
مولانا عبدالحمید حفظہ اللہ نے حاضرین کو قرآن کی تلاوت کی ترغیب دی اور کہا کہ تجوید کے ساتھ قرآن کی تلاوت سے غفلت نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی تلاوت سے اللہ کی رحمتیں برسنے لگتی ہیں۔ آپ یقین کریں جو دولت تمہارے پاس ہے وہ مغربی سپر پاورز کے پاس بھی نہیں ہے۔ ہماری دنیا وآخرت میں عزت اسی کتاب کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے تاکید کی اگر ہم نے قرآنی تعلیمات پر عمل کیا، معاشرے کے تمام افراد خاص طورپر طلباء و اساتذہ نے اس کی آیات سمجھنے کی کوشش کی تو ضرور اللہ تعالی ہماری مشکلات میں کمی کردے گا، ہماری شان و شوکت لوٹ آئے گی اور ہم متحد ومتفق ہوجائیں گے۔

آپ کی رائے