خطیب اہل سنت زاہدان حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے اپنے اس جمعے کے خطبے کا آغاز سورۃ آل عمران کے بعض آیات کی تلاوت سے کرتے ہوئے تقوی اور خوف خدا کے اہم موضوع کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا تقوی قرآن مجید اور تمام پیغمبروں کا اہم ترین موضوع بحث رہا ہے۔ دراصل آج کل انسانی معاشرے کے مسائل و مشکلات کی بنیادی وجہ عدم تقوی اور خوفِ خدا کا فقدان ہے۔
مولانا عبدالحمید نے تاکید کی آج کل لوگوں کے دلوں میں خدا کا خوف باقی نہیں رہا ہے، گناہ کرنا عام سی بات بن چکی ہے، کوئی گناہوں کے برے انجام کے بارے میں سوچتا نہیں، حالانکہ اللہ تعالی کی پکڑ بہت سخت ہے۔
حاضرین کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا آپ حال ہی میں بر طرف عرب حکام کو دیکھیں جو گناہوں کی لعنت میں گرفتار تھے، کئی سالوں تک گناہ کے ارتکاب کے بعد اللہ تعالی کی پکڑ عوامی احتجاجوں اور مظاہروں کی شکل میں ان کے سر پر آ پڑی، دراصل عرب عوام خود سڑکوں پر نہیں نکلے بلکہ اللہ تعالی نے انہیں سڑکوں پر لایا تا کہ ظالم و فاسق حکمرانوں کو نشان عبرت بنادے۔ اس سے دیگر حکمرانوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں، اب انہیں ظالموں کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
جامع مسجد مکی زاہدان میں خطبہ دیتے ہوئے خطیب اہل سنت نے مزید کہا تقوی و خداترسی حکم الہی ہے، اللہ تعالی نے بار بار قرآن کریم میں تقوا اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور متقی و پرہیزگار لوگوں کو کامیابی و سربلندی کا وعدہ دیا ہے۔ اللہ تعالی نے متقین کو دو جنتوں سے نوازنے اور اپنی معیت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ جو بندہ اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرے، زکات، عشر وغیرہ کی ادائیگی میں سستی نہ کرے، والدین کے حقوق کا خیال رکھے اور انسانوں بلکہ جانوروں پر بھی رحم کرے، اللہ تعالی اس پر نعمتوں اور رحمتوں کی بارش برسائے گا۔
حضرت شیخ الاسلام نے کہا بلا شبہ حکومت اور حکام کا حق عوام کے ذمے پر ہے جس کاخیال رکھنا ضروری ہے، اسی طرح حکام کے ذمے پر بھی عوام کے حقوق ہیں، بیوی کا حق خاوند پر ہے، والدین پر بچوں کے کچھ حقوق ہیں، ان سب سے قیامت کے دن سوال ہوگا۔ اس لیے سب کو چوکس رہنا چاہیے، آپ کے ذمے میں جس شخص یا چیز کا حق ہے اس کا خیال رکھیں اور احتساب کا دن بھول نہ جائیں۔
توبہ شرائط کے ساتھ قبول ہوگی:
خطیب اہل سنت زاہدان نے خطبہ کے ایک حصے میں سورت آل عمران کی آیت نمبر ۱۳۵ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا اس آیت میں اللہ تعالی نے متقین کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا ہے متقی آدمی وہ ہے جس سے اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور وہ اپنی جان پر ظلم کرکے خود کو غضب الہی کا مستحق قرار دیدے تو فوراً اللہ کو یاد کرکے توبہ کرے گا، اپنے ماضی پر اصرار کے بجائے پشیمانی کا اظہار کرکے اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔ حقیقی توبہ یہی ہے کہ گناہکار گناہ ہی چھوڑدے اور اللہ کی طرف رجوع کرے۔
جو قومیں بار بار توبہ کرتی ہیں اللہ تعالی ان پر اپنا عذاب نازل نہیں فرمائے گا۔
اپنے بیان کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے انسانی معاشرے میں گناہوں کے رواج پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا آج کل گناہ کے اسباب بہت عام چکے ہیں، ٹی وی چینلز اور موبائل فونز کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ ایک بہت بری رسم گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ رکھنے کا کلچرہے جو مغربی تہذیب کا تحفہ ہے، اس سے سخت اجتناب ضروری ہے۔ مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ کسی مرد یا خاتون کو اجنبی لوگوں سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسے تعلقات حرام ہیں۔ اس لیے اپنی اولاد کو سنبھال لیں تا کہ مکار لوگوں کے مکر وفریب کی جال میں پھنس نہ جائیں۔

آپ کی رائے