تہذیب اخلاق مؤمن کی اہم ترین ذمہ داری ہے، مولاناعبدالغنی

تہذیب اخلاق مؤمن کی اہم ترین ذمہ داری ہے، مولاناعبدالغنی
m_abdulghaniجامع مسجد مکی زاہدان کے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے ناظم تعلیمات دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطبے کا آغاز سورت المؤمنوں کی ابتدائی آیات کی تلاوت سے کرتے ہوئے اہل ایمان کی صفات و خصائل کی تشریح کی۔

مولانا عبدالغنی نے تزکیہ و اصلاح نفس کی کوشش کو مؤمنوں کی اہم ترین صفت قرار دیتے ہوئے کہا جو لوگ اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں وہ کامیاب ہوجائیں گے اور ایسے ہی لوگ جنت کے وارث ہوتے ہیں۔
مؤمنوں کی صفات کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا مفسرین نے ’’والذین ھم للزکوۃ فاعلون‘‘ کے دو معنی و مفہوم بیان کیا ہے۔ پہلی تفسیر یہ ہے کہ مسلمان اپنی جائیداد اور مال کی زکات ادا کرے اور یہ سوچے کہ جو دولت اسے ملی ہے وہ بلاشبہ اللہ تعالی کی نعمت ہے نہ کہ اس کی چالاکی کا نتیجہ، لہذا اس نعمت کے بدلے جو احکامات دیے گئے ہیں ان پر علمدار آمد ضروری ہے۔
دوسری تشریح کو واضح کرتے ہوئے مولانا عبدالغنی نے کہا بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مذکورہ آیت میں ’’زکات ‘‘ سے مراد مال ودولت کی زکات نہیں بلکہ خود انسان کی زکات یعنی پاکی مراد ہے۔ چونکہ زکات کا لفظی معنی پاکی و طہارت ہے نیز مذکورہ آیت میں مال و جائیداد کا تذکرہ نہیں ہوا ہے۔ لہذا آیت کا مقصود درونی پاکی ہے جسے باطنی طہارت یا اخلاق و تہذیب نفس کہا جاتا ہے۔ مطلب خداوندی بھی یہی ہے کہ بندے اپنے آپ کو باطنی آلائشوں سے پاک رکھیں۔
استاذ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا افسوسناک بات ہے کہ آج کل مسلمان دین کو چند چیزوں مثلاً نماز و روزہ و غیرہ میں محدود سمجھتے ہیں حالانکہ ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے ہر پل پر اور ہر شعبے میں اسلام پر عمل کرنا چاہیے، عبادات، معاملات، معاشرات، سیاست اور اخلاق (تزکیہ نفس و باطن) میں بھی دیندار ہونا ضروری ہے۔
مولانا عبدالغنی نے اصلاح و تزکیہ کو انبیاء وعلیھم السلام کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شمار کرتے ہوئے بعض قرآنی آیات سے استدلال کیا۔ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پاکی کی اہمیت کو ایک مختصر وجامع حدیث میں بیان فرمایا ہے: ’’ألا ان فی الجسد لمضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ و اذا فسدت فسد الجسد کلہ، الا و ھی القلب‘‘، خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگروہ ٹھیک ہوجائے تو پورا جسم ٹھیک رہے گا، اگر وہ ٹکڑا خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجائے گا اور وہ ٹکڑا ’دل‘ ہے۔
نائب خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا قلب اور دل پورے انسانی جسم پر کنٹرول رکھتا ہے، رحم مادر میں سب سے پہلے یہی عضو کام شروع کرتا ہے۔ قلب زندگی کے پہلے لمحے سے آخری دم تک حرکت میں رہتا ہے۔ جب آدمی سوتا ہے تو اس کے تمام اعضا و جوارح بھی آرام کرنے لگتے ہیں سوائے دل کے جو اپنی سرگرمی جاری رکھتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ قلب ایک منٹ کے اندر ۷۲ مرتبہ پورے جسم تک خون کی سپلائی کرتا ہے، اسی لیے اس کی خاص نگہداشت پر زور دیا جاتا ہے۔
مولانا عبدالغنی نے تاکید کی جس طرح دل کی صحت پورے جسم کی صحت کیلیے اہم ہے اور اس کے بغیر زندگی ہی ختم ہوتی ہے، اسی طرح روحانی زندگی ا ور حیات کی بقا کے لیے اس کا ٹھیک ہونا لازمی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث مبارک میں اسی بات پر زور دیا ہے کہ اپنے قلوب کا خیال رکھیں کہیں یہ فاسد نہ ہوجائیں۔
مولانا عبدالغنی نے آخر میں کہا بہت سارے لوگ بظاہر عبادات و اعمال کے پابند ہیں مگر اپنے باطنی امراض سے بیخبررہتے ہیں، اس لیے قلبی اعمال پر توجہ دینی چاہیے۔ جیسا کہ بعض ظاہری کام جائز یا ناجائز ہیں اسی طرح قلب کے بعض کام ضروری جبکہ بعض ناجائز ہیں، مثلاً اخلاص فرض ہے اور کبر و حسد جیسے امور ناجائز ہیں۔ حقیقی مومن اپنے اعمال کو اخلاص و صدق کے زیور سے آراستہ کرتاہے اور تکبر وحسدجیسی برائیوں سے اپنے دل کو صاف رکھتاہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین