نیویارک /واشنگٹن (اے پی پی/ثناءنیوز) وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ گوانتاناموبے جیل کے قیدیوں کی اکثریت کو انتہائی بودے الزامات اور تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے اعترافی بیانات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیاجبکہ اسامہ کی گرفتاری یا ہلاکت کی صورت میں القاعدہ نے مغرب پر جوہری حملوں کی دھمکی تھی، گوانتانامو بے میں تفتیش کے دوران خالد شیخ محمد نے انکشاف کیاکہ ایٹم بم یورپ میں چھپا رکھاہی ۔
تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وکی لیکس پر جاری خفیہ امریکی فوجی دستاویزات میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ بدنام زمانہ گوانتاناموبے جیل میں رکھے گئے 779 قیدیوں کی ایک بڑی اکثریت کو انتہائی بودے الزامات اور تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے اعترافی بیانات کی بنیاد پر گرفتار کرکے کیوبا منتقل کیا گیا۔
وکی لیکس کی طرف سے گوانتاناموبے کے قیدیوں کے بارے میںخفیہ فوجی دستاویزات میں اس خوفناک تشدد کا کوئی ذکر نہیں جو امریکی فوجیوں نے قیدیوں پر کیا۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق اس وقت گوانتاناموبے کی کیمپ ایکسرے جیل میں موجود تمام 172 قیدیوں کو امریکی سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا لیکن رہا کیے جانے والے دو تہائی سے زیادہ قیدیوں کو بھی امریکی سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیے جانے کے باوجود رہا کیا جا چکا ہے۔
خفیہ فوجی دستاویزات کے مطابق امریکی فوجیوں نے محاذ جنگ سے دشمن کے بارے میں خفیہ معلومات کے حصول میں عقل سے زیادہ اپنے وجدان سے کام لیا اور ان معلومات کی بنیاد پر حراست میں لیے جانے والوں کو کئی کئی سال تک گوانتاناموبے جیل میں ناقابل بیان تشدد اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وکی لیکس کی جانب سے جاری خفیہ دستاویزات کے مطابق 11ستمبر حملوں کے چوتھے روز اسامہ بن لادن نے افغانستان میں جنگجووں سے خطاب کیا اور مغرب کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔اس وقت خالد شیخ محمد، لبی، رمزی بنہ الشیبہ اور دیگر اہم رہنما افغانستان موجود تھے۔
گوانتاناموبے میں تفتیش کے دوران خالد شیخ محمد نے امریکی تفتیش کاروں کو بتایا کہ اگر اسامہ بن لادن کو گرفتار کیا گیا تو القاعدہ مغرب پر ایٹمی حملے شروع کردے گی۔ القاعدہ نے ایٹمی بم یورپ میں چھپا رکھاہے۔
اوباما انتظامیہ کے خصوصی نمائندے اور پینٹاگان کے ترجمان جیف موریل نے گوانتاناموبے کے حوالے سے حساس نوعیت کی معلومات کی اشاعت پر مغربی اور یورپی میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وکی لیکس کی غیر قانونی دستاویزات شائع کر کے بہت غیر ذمہ دارانہ اقدام کیا جو افسوسناک ہے ۔
وکی لیکس کی طرف سے گوانتاناموبے کے قیدیوں کے بارے میںخفیہ فوجی دستاویزات میں اس خوفناک تشدد کا کوئی ذکر نہیں جو امریکی فوجیوں نے قیدیوں پر کیا۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق اس وقت گوانتاناموبے کی کیمپ ایکسرے جیل میں موجود تمام 172 قیدیوں کو امریکی سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا لیکن رہا کیے جانے والے دو تہائی سے زیادہ قیدیوں کو بھی امریکی سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیے جانے کے باوجود رہا کیا جا چکا ہے۔
خفیہ فوجی دستاویزات کے مطابق امریکی فوجیوں نے محاذ جنگ سے دشمن کے بارے میں خفیہ معلومات کے حصول میں عقل سے زیادہ اپنے وجدان سے کام لیا اور ان معلومات کی بنیاد پر حراست میں لیے جانے والوں کو کئی کئی سال تک گوانتاناموبے جیل میں ناقابل بیان تشدد اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وکی لیکس کی جانب سے جاری خفیہ دستاویزات کے مطابق 11ستمبر حملوں کے چوتھے روز اسامہ بن لادن نے افغانستان میں جنگجووں سے خطاب کیا اور مغرب کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔اس وقت خالد شیخ محمد، لبی، رمزی بنہ الشیبہ اور دیگر اہم رہنما افغانستان موجود تھے۔
گوانتاناموبے میں تفتیش کے دوران خالد شیخ محمد نے امریکی تفتیش کاروں کو بتایا کہ اگر اسامہ بن لادن کو گرفتار کیا گیا تو القاعدہ مغرب پر ایٹمی حملے شروع کردے گی۔ القاعدہ نے ایٹمی بم یورپ میں چھپا رکھاہے۔
اوباما انتظامیہ کے خصوصی نمائندے اور پینٹاگان کے ترجمان جیف موریل نے گوانتاناموبے کے حوالے سے حساس نوعیت کی معلومات کی اشاعت پر مغربی اور یورپی میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وکی لیکس کی غیر قانونی دستاویزات شائع کر کے بہت غیر ذمہ دارانہ اقدام کیا جو افسوسناک ہے ۔

آپ کی رائے