دنیا اورموت کی حقیقت سے غفلت نہیں ہونی چاہیے، مولاناعبدالحمید

دنیا اورموت کی حقیقت سے غفلت نہیں ہونی چاہیے، مولاناعبدالحمید
molana-damenخطیب اہل سنت زاہدان حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم جمعہ رفتہ میں زاہدان شہر کے مضافاتی علاقہ ’’گلوگاہ‘‘ تشریف لے گئے تھے جہاں مقامی افراد سے ان کی ملاقات ہوئی۔
آپ نے ’’گلوگاہ‘‘ کی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حاضرین سے خطاب کیا جو بڑی تعداد میں آس پاس کے علاقوں سے اکٹھے ہوئے تھے۔

قرآن پاک سنگ دلوں کو نرم دل بنانے والی کتاب ہے:
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کا آغاز سورت النحل اور عنکبوت کی بعض آیات کی تلاوت سے کرتے ہوئے گویاہوئے: قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے یا سننے والے اس عظیم کتاب سے متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، یہ کتاب دلوں کو جذب کرکے سب کو اپنی طرف بلاتی ہے۔ ملائکہ قرآن پاک کی تلاوت کی آواز سنتے ہی تلاوت کرنے والے کی جانب لپکتے ہیں۔ قرآن مجید وہی کتاب ہے کہ جب جنات نے اس کی تلاوت کی آواز سنی تو ایک دوسرے کو خاموش کراکے اس پر ایمان لائے اور واپس جاکر اپنی قوم کو اس کتابِ ہدایت کی جانب دعوت دی۔
انہوں نے مزیدکہا عصر جاہلیت کے عرب اَس زمانے کے سخت ترین لوگ تھے، پتھر اور لکڑی جیسی چیزوں کی پوجا کیا کرتے تھے، یہ قرآن عظیم الشان ہی تھا جس نے ان کے دلوں کو موم کرکے بدل دیا، جب وہ اس کے الفاظ سنتے تھے تو بے اختیار ہوکر سرِتسلیم خم کرتے اور اعتراف کرتے کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔
جب خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مکہ میں قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے تو لوگ سننے کیلیے جمع ہوتے، بہت سارے مشرکین نے اس طرح ایمان لایا اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔

انسان ہرگز قرآن وسنت کی تعلیمات سے بے نیاز نہیں ہوسکتا:
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزید کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور تعلیمات کسی مخصوص زمانے اور قوم کیلیے نہیں بلکہ تمام عہدوں اور زمانوں کیلیے ہیں۔ بنی نوع انسان اگر ظاہری ومادی ترقی کی بلندترین سطح پر پہنچے پھر بھی قرآن وسنت کی آفاقی تعلیمات سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے مزیدکہا جہاں بھی قرآن پاک اور اس کے خوبصورت ارشادات نافذ ہوں وہاں آسمانی و معنوی برکات نازل ہوکر روحانی بہار ہوگی۔

آج کل ہم مسلمان دنیا اور موت کی حقیقت سے غافل ہوچکے ہیں:
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں دنیاکی زندگی کو ایک بازیچہ قرار دیتے ہوئے مزید گویا ہوئے: یہ زندگی کھیل تماشا کی طرح ہے جو جلد ختم ہوتی ہے۔ جوانی، صحت، مال ودنیا، عہدہ اور مقام سمیت دنیا کی ہر شے فانی ہے۔ آپ سر گریبان میں ڈال کر خود سوچیں کہ ان زمینوں کے مالکان اب کہاں؟ دنیا کے اچھے اور برے لوگ کدھر گئے؟
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا ارشاد خداوندی ہے کہ دنیا سے متاثر مت ہوجائیں، یہ پائیدار نہیں ہے۔ آج کے بادشاہ و سربراہانِ مملکت کچھ لیے بغیر فرار پر مجبور ہوجاتے ہیں، یہ سب کیلیے عبرت ہے۔ حقیقی زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے۔
انہوں نے کہا آج کل مسلمان دو اٹل حقائق سے غافل ہیں، ایک دنیا اور اس کے اسباب کی حقیقت کے ادراک سے، دوسری حقیقت جو متفقہ ہے یعنی موت سے غفلت، آئے روز لوگ ہمارے آس پاس مرتے ہیں مگر ہم موت کیلیے تیاری نہیں کرتے۔

اپنی اولاد کو تعلیم کے زیورسے آراستہ کرائیں:
حضرت شیخ الاسلام حفظہ اللہ نے جامع مسجد گلوگاہ کے نمازیوں کو مخاطب کرکے مزید کہا: جب قرآن کی تعلیم معاشرے میں عام ہوجائے اور آلودگیاں دور ہوجائیں تو نئی نسل دین کی طرف لوٹ آئے گی اور انسانی معاشروں میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ ہمیں اپنی اولاد کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہیے۔ خواہ جدید تعلیم ہو یا دینی تعلیم، دونوں معاشرے کی ضروریات سے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا: الحمدللہ قرآن مجید کی تعلیم کے سلسلے میں کچھ قابل قدر اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں، لیکن مزید محنت کی ضرورت ہے تاکہ ہر گھر میں حافظ قرآن ہو۔ بچوں اور بچیوں کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ جو افراد قرآنی مکاتب اور پبلک سکولز چلارہے ہیں ان کی مدد وحمایت آپ مومن و دیندار لوگوں کے ذمے میں ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین