پرامن مظاہرین پر فائرنگ شرمناک عمل ہے، مولاناعبدالحمید

پرامن مظاہرین پر فائرنگ شرمناک عمل ہے، مولاناعبدالحمید
molana_26-ہزاروں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوران تاکید کی مشرق وسطی میں اٹھنے والی تحریکیں آمریت، ظلم، ناانصافی اور جبر کیخلاف ہیں، انہوں نے آمرحکمرانوں کی جانب سے عوامی تحریکوں کو دبانے اور پرامن مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے آمروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مولاناعبدالحمید نے لیبیا کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے معمر قذافی کو ایک پاگل آدمی قرار دیا جو اپنے ہی عوام کو گولیوں سے چھلنی کرنے پر تلا ہواہے۔ جامع مسجد مکی کے نمازیوں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا: دعا کریں اللہ تعالی لیبیائی عوام سمیت تمام مسلمانوں کو کرنل قذافی جیسے تمام پاگلوں کے شکنجے سے نجات دلائے جو عوام پر رحم نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا تعجب کی بات ہے کہ بعض ممالک کے حکمران اپنی مدت اقتدار کو طول دینے یا اپنی اولاد کو اقتدار منتقل کرانے کیلیے پرامن عوامی احتجاجوں کو پرتشدد طریقوں سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حکمران عوامی مطالبات سننے اور ماننے کے بجائے شرمناک اور ظالمانہ اندازمیں عوام کے قتل عام پر اتر آئے ہیں۔ ان جابر حکام کو معلوم نہیں کہ یزید نے بھی اقتدار کی خاطر کربلا کی سرزمین کو خون سے نہلادیا مگر اقتدار نے اس سے وفا نہیں کی، سب کا انجام یہی ہوگا۔

عذاب خداوندی کی تشخیص بہت ضروری ہے:
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوران جاپان کے حالیہ زلزلے وسونامی کے حوالے سے ٹوکیو کے گورنر کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب میں نے سنا کہ ٹوکیو کے گورنر نے جاپان زلزلہ کو عذاب خداوندی کا نتیجہ قرار دیا ہے مجھے از حد خوشی ہوئی۔ بلاشبہ یہی مسئلہ کہ بعض حکام عذاب الہی کو تشخیص دیدیں اور زلزلے کو مکمل طور پر ظاہری اسباب سے ربط نہ دیں بہت اہم بات ہے۔
جان لینا چاہیے کہ یہ طوفان وسیلاب اور زلزلے خدا کی طرف سے ہیں، ہمیں امید ہے جاپانی عوام ان عذابوں کے مشاہدے کے بعد زیادہ سے زیادہ راز ونیاز میں لگ جائیں اور خدائے یکتا و برتر کی جانب رجوع کریں۔

اسلام کی بہترین تعلیمات سے ایک ’اخلاق‘ حسنہ ہے:
ممتاز عالم دین نے خطبہ جمعہ کے پہلے حصے میں سورت آل عمران کی آیت 134 کی تلاوت کے بعد اسلامی اخلاق اور سماجی تعلقات کے بارے میں گفتگو کی۔
انہوں نے کہا اخلاق حسنہ اسلام کی رو سے انتہائی اہم مسئلہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر اخلاق تھے، آپ (ص) نے فرمایا میری بعثت اخلاقیات کی تکمیل کیلیے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے اہم خصوصیت ان کا اخلاق ہے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا پوری دنیا میں اسلام لوہے کی تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق حسنہ کی تلوار سے پھیل گیا، مسلمانوں نے ’شمشیرِاخلاق‘ سے دلوں کو فتح کرکے دنیا کو متاثر کیا۔ آج کی دنیا میں نئی تہذیب کو جو اہمیت ملی ہوئی ہے اس کا سہرا اسلامی تعلیمات کے سر جاتاہے، نئی تہذیب اسلامی اخلاق سے بے نصیب نہیں البتہ خود مسلمانوں میں اخلاق کی کمی ہے جو افسوسناک بات ہے۔

دوسروں کو معاف کرنا بزرگی کی علامت ہے:
سرپرست دارالعلوم زاہدان نے حاضرین کو برداشت اور معاف کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: اگر آپ کے ساتھ کوئی اچھا برتاؤ نہ کرے یا کوئی نقصان پہنچائے آپ مقابلہ و انتقام کے بجائے عفو وبخشش سے کام لیں، اگرچہ شریعت نے انتقام کی اجازت دی ہے مگر معاف کرنا بہتر ہے اور بڑائی کی علامت۔
شیخ سعدی رحمہ اللہ کا شعر ہے:
بدی را با بدی سہل باشد جزا اگر مردی احسن الی من اساء
برائی کو برائی سے جواب دینا آسان ہے، ہر کوئی یہ کام کرسکتاہے لیکن مردانگی اور بزرگی اس میں ہے کہ آپ اس آدمی سے بھلائی کا معاملہ کریں جس نے برا کام کیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کل لوگ ڈبل انتقام لیتے ہیں، پتھر کا جواب اینٹ سے بلکہ گولی سے دیتے ہیں جو سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔

جھوٹ بولنا خدا کی لعنت کو دعوت دیناہے:
ایرانی اہل سنت کے عظیم رہنما نے آخر میں ’جھوٹ‘ بولنے اور دروغ گوئی کو برے اخلاق کے مظاہر و علامات سے قرار دیتے ہوئے مزید کہا: جھوٹ بولنا خدا کی لعنت کا باعث ہے، یہ ان گناہوں میں سے ہے جس کے مرتکبین پر اللہ تعالی نے پوری صراحت کے ساتھ قرآن پاک میں لعنت بھیجی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے بعض کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے منفی اثرات پر گفتگو کی، انہوں نے کہا جب کسی کا ایمان کامل ہوجائے وہ حسد، تکبر اور بدنظری جیسے گناہوں کا ارتکاب نہیں کرے گا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین