‘انتہا پسند ہندو تنظیمیں القاعدہ طالبان سے بڑا خطرہ ہیں’

‘انتہا پسند ہندو تنظیمیں القاعدہ طالبان سے بڑا خطرہ ہیں’
hindu-terroristsواشنگٹن (ایجنسیاں+نیشن رپورٹ) وکی لیکس کے تازہ انکشافات میں کہا گیا کہ امریکہ نے بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیموں کو القاعدہ و طالبان سے بھی بڑھ کر عالمی و علاقائی امن کیلئے خطرہ قرار دیا تھا.

وکی لیکس کے مطابق امریکہ کو پاکستان میں بھارت کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی کافی ثبوت ملے ہیں۔ ایک اور مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ بھارتی فوج کی شمالی کمانڈ کے سابق جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کو جنگی جرائم کے ذریعے مسلمانوں کے قتل عام کی وجہ سے سرب جنرل میلاسووچ سے تشبیہہ دی گئی۔
مراسلے میں واشنگٹن پر زور دیا گیا کہ وہ خفیہ طور پر اقوام متحدہ کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرائے اور امریکہ کو بھارت کے ساتھ اس وقت تک کسی قسم کی مشترکہ فوجی مشقیں نہیں کرنی چاہئیں۔ جب تک بھارت کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں نہیں روکتا۔مراسلے میں بھارتی فوج کے سرینگر میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اے کے ماتھور کو برائی کا محور قرار دیا گیا تھا۔
ایک اور مراسلے میں بھارتی فوجی قیادت کے ہندو انتہا پسندوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث کرانے کا اشارہ دیا گیا ہے جس کا مقصد بھارتی مسلمانوں کو پیچھے دھکیلا جائے اور پاکستان کی فوج و انٹیلی جنس پر دباﺅ برقرار رکھا جائے۔ خفیہ دستاویز میں بھارت میں آئی ایس آئی کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے تاہم یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ آئی ایس آئی بھارت میں کسی دہشت گردانہ سرگرمی میں ملوث ہے۔
ایک کیبل میں بھارت کی اعلیٰ فوجی قیادت اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کے درمیان رابطوں کی تصدیق کی گئی ہے‘ اس کیبل میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بھارت کے ایک انسداد دہشت گردی سپیشل پولیس آفیسر ہیمنت کرکرے نے ان رابطوں کی اس وقت کسی حد تک نشاندہی کی تھی جب اس نے سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے پر ایک حاضر سروس بھارتی فوج کے کرنل لیفٹیننٹ کرنل پروہت کو گرفتار کیا تھا۔ اس نے امریکی سفارتکار کو مزید بتایا کہ بھارتی فوج کی مرکزی کمانڈ کے سابق کمانڈر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل پی این ہون ہندو انتہا پسندوں کے عسکری ونگ کی قیادت کرتے ہیں اور انہیں سینئر فوجی افسران کی مکمل تکنیکی، لاجسٹک اور مالی مدد حاصل ہے۔
ایک اور کیبل میں ہندو توا خاص طور پر شیو سینا کو دہشت گردی و انتہا پسندی کے حوالے سے ٹائم بم قرار دیا گیا تھا اور ہندو سٹوڈنٹس کونسل آف امریکہ سمیت دیگر فنڈز جمع کرنے والی تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کی تجویز دی گئی تھی کیونکہ یہ تنظیمیں فلاحی اداروں کے نام پر ہندو انتہا پسند تنظیموں کیلئے فنڈز جمع کرتی ہیں۔
ایک اور سفارتی دستاویز میں ہندو توا کو طالبان اور القاعدہ سے بڑھ کر علاقائی و عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیا گیا تھا اور بعد میں مذکورہ تنظیموں کو مونگ پھلی کے دانے سے تشببہہ دی گئی اور واشنگٹن پر زور دیا گیا کہ اس معاملے کو نئی دہلی کے ساتھ اٹھایا جائے ایک اور کیبل میں بھارتی حکومت کی نکسل باغیوں سے نمٹنے کیلئے صلاحیت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارت کی اسی فیصد جوہری تنصیبات شورش زدہ علاقوں میں واقع ہیں اور مخصوص علاقہ جسے ”ریڈ کوریڈور آف انڈیا “کا نام دیا گیا ہے وہاں بھارتی فوج حکومتی رٹ یقینی بنانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے.
وکی لیکس کے مطابق اسلام آباد سے بھیجی گئی ایک اور کیبل میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں بشمول بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کے کافی ثبوت ملے ہیں۔ ایک اور کیبل میں ممبئی حملوں میں آئی ایس آئی کے بلاواسطہ ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کیا گیا تاہم ممبئی حملوں کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کو بھیجے گئے اجمل قصاب کے اعترافی جرم کے حوالے سے ڈوزیئر کو عجیب اور ناقص قرار دیا گیا تھا۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین