کوئٹہ( نمائندہ جنگ) انٹرنیشنل ریڈ کراس بلوچستان کے سربراہ ایڈ رین زمیرمین نے کہا ہے کہ ہم نے دھمکی ملنے کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان میں اپنے ادارے کی سرگرمیاں محدود کردی ہیں اپنے عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے.
ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا انہوں نے بتایا کہ آئی سی آر سی پاکستان ہلال احمر کے تعاون سے بلوچستان میں صحت اور دیگر منصوبوں پرکام کررہا ہے گزشتہ روز دھمکی ملنے کے بعد ہم نے اپنے ادارے میں کام کرنے والے دو غیرملکی باشندوں کو حفاظتی نقطہ نظر سے ہوٹل منتقل کردیا ہے اور اپنے ادارے اور عملہ کی سرگرمیاں محدود کردی ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہم اس وقت یہ نہیں بتاسکتے کہ کس گروپ یا شخص کی طرف سے دھمکی موصول ہوئی ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس سلسلے میں تحقیقات کررہی ہیں انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں ہمارے دو دفاتر ہیں جن میں 40 کے قریب اہلکار کام کررہے ہیں اور ان کی حفاظت کوہمیں یقینی بنانا ہے اور اس سلسلے میں سیکورٹی بڑھادی گئی ہے ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور اس سلسلے میں ہم ہر ممکن اقدامات کرینگے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز کالز کالعدم مزاحمتی تنظیم نے سیٹلائٹ ٹیلیفون کے ذریعے کی جس میں ریڈ کراس کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور اس سلسلے میں ہم ہر ممکن اقدامات کرینگے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز کالز کالعدم مزاحمتی تنظیم نے سیٹلائٹ ٹیلیفون کے ذریعے کی جس میں ریڈ کراس کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

آپ کی رائے