واشنگٹن (ایجنسیاں) امریکا کے صدر براک اوباما کو نائن الیون کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور ان کے چارساتھیوں کے خلاف نیویارک میں مقدمہ چلانے کی تجویزپرشدید مخالف کا سامنا ہے لیکن انہوں نے القاعدہ کے سرغنہ کے خلاف امریکی فیڈرل عدالت میں مقدمہ چلانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جبکہ وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ القاعدہ جوہری ایران کی نسبت ایک زیادہ بڑا خطرہ ہے.
اوباما انتظامیہ کو نائن الیون کے مبینہ حملہ آوروں کے خلاف مین ہٹن میں مقدمہ چلانے کے منصوبے کی وجہ سے مقامی قانون سازوں اورحکام کی شدید مخالفت کا سامنا ہے اوران کا کہنا ہے کہ ملزموں کے خلاف اس علاقے میں مقدمہ چلانے کی بھاری قیمت چکاناپڑسکتی ہے جبکہ بعض نے ممکنہ سکیورٹی خطرات اور مضمرات کے بارے میں بھی خبردارکیا ہے.
براک اوباما نے اتوار کو وائٹ ہاٶس سے براہ راست نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ”میں نے مقدمہ چلانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا لیکن میرے خیال میں ہمارے لئے یہ بات اہم ہے کہ ہم عملی لاجسٹیکل ایشوزکو بھی ملحوظ خاطر رکھیں”.
اوباما کا کہنا تھا کہ ”اگر شہر کے باسی مقدمہ چلانےکو تیار نہ ہوں،محکمہ پولیس نے ناں کردی ہواور مئیر بھی انکار کرچکے ہوں تو پھرایسے فیصلے پر عمل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے”.ان کا مزید کہنا تھا کہ ”ہم نے کسی چیزکے امکان کو مسترد نہیں کیا.ہم تمام متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کریں گے”.
نیویارک کے مئیر مائیکل بلومبرگ نے پہلے نائن الیون کے ملزموں کے خلاف مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں مقدمہ چلانے کی تجویز کی حمایت کی تھی لیکن گذشتہ ماہ انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کرلیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ملزموں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ایک فوجی اڈا زیادہ مناسب رہے گا.
خالد شیخ محمد اوران کے دیگرچارساتھی اس وقت امریکا کے کیوبا میں واقع بدنام زمانہ حراستی مرکزگوانتا ناموبے میں قید ہیں.صدراوباما نے گذشتہ سال جنوری میں برسراقتدارآنے کے بعد اس فوجی حراستی مرکز کو ایک سال کے عرصہ میں بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کی ڈیڈلائن گزرچکی ہے اورگوانتا نامو بے میں ابھی تک دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کئے گئے دوسوسے زیادہ افراد موجودہیں.ان کو گذشتہ آٹھ سال سے کوئی مقدمہ چلائے بغیر قیدرکھا جارہا ہے.
القاعدہ کا خطرہ
درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایران کا خطرہ امریکا کے لئے حقیقی ہے لیکن القاعدہ اس سے بڑا خطرہ ہے.
ہلیری کلنٹن نے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ”ایک ملک کے طورپرصاف ظاہر ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح شمالی کوریا یا ایران دونوں ہی ایک واضح خطرہ ہیں”.لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایرانیوں کے پاس ابھی جوہری ہتھیار نہیں ہیں”.
انہوں نے کہا کہ ”میرے خیال میں ہم سے بہت سے اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ بین القومی غیرریاستی نیٹ ورکس اس سے بھی بڑا خطرہ ہیں”.وہ القاعدہ اوراس کے افغانستان،شمالی افریقہ ،پاکستان،سعودی عرب اوریمن میں موجود اتحادیوں کا حوالہ دے رہی تھیں.
ہلیری کلنٹن نے القاعدہ کے آپسی روابط کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا اورکہا کہ اسامہ بن لادن کے دہشت گردی کے نیٹ ورکس اپنے صلاحیت اورحملوں کی منصوبہ بندی کو مزیدپیچیدہ بنارہے ہیں.

آپ کی رائے