معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت جوابدہ نہیں / شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کے حقوق کی پیروی جاری رہے گی
جمعہ خونین زاہدان کا واقعہ ناقابل فراموش ہے
مہسا امینی کا واقعہ ملک میں عوامی تحریک کا باعث بنا/اگر حکام لوگوں کی بات سنتے تو ہمارے ہم وطن قتل نہ ہوتے اور ملک اس سخت صورتحال میں نہ ہوتا
“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں
ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے
ہم اتحاد کے نعرے کو قبول نہیں کرتے؛ اتحاد عملی ہونی چاہیے
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کی علامت» ہے
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛ اعتدال، دور اندیشی اور عوام کے احترام کی پاسداری ہی سے نتائج ممکن ہیں
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام کریں اور ’’مکالمے اور مذاکرات‘‘ کو فروغ دیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اور ایک دوسرے کے خلاف صف بندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔