اسلام میں وصیت کا قانون

اسلام میں وصیت کا قانون

وصیت کیا ہے؟
وصیت اس کام کو کہتے ہیں جس پر عمل کرنے کا حکم موت کے بعد ہو، یعنی اس کام پر عمل زندگی میں نہیں بلکہ موت کے بعد ہو، مثلاً اگر کوئی شخص انتقال کے وقت یہ کہے کہ میرے مرنے کے بعد میری جائداد میں سے اتنا مال یا اتنی زمین فلاں شخص یا فلاں دینی ادارہ یا مسافرخانہ یا یتیم خانہ کو دے دی جائے تو یہ وصیت کہلاتی ہے۔
وصیت کو دو گواہوں کی موجودگی میں تحریر کرنا چاہیے، تا کہ بعد میں کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔شریعت اسلامیہ میں وصیت کا قانون بنایا گیا ہے، تاکہ قانونِ میراث کی رو سے جن عزیزوں کو میراث میں حصہ نہیں پہنچ رہا ہے اور وہ مدد کے مستحق ہیں مثلاً کوئی یتیم پوتا یا پوتی موجود ہے یا کسی بیٹے کی بیوہ مصیبت زدہ ہے یا کوئی بھائی یا بہن یا کوئی دوسرا عزیز سہارے کا محتاج ہے تو وصیت کے ذریعہ اس شخص کی مدد کی جائے۔ وصیت کرنا اور نہ کرنا دونوں اگرچہ جائز ہیں، لیکن بعض اوقات وصیت کرنا افضل و بہتر ہے۔ ایک تہائی جائیداد میں وصیت کا نافذ کرنا وارثوں پر واجب ہے، یعنی مثلا اگر کسی شخص کے کفن دفن کے اخراجات، دیگر واجبی حقوق اور قرض کی ادائیگی کے بعد ۹؍لاکھ روپے کی جائیداد بچتی ہے تو ۳؍لاکھ تک وصیت نافذ کرنا وارثین کے لیے ضروری ہے۔ ایک تہائی سے زیادہ وصیت نافذ کرنے اور نہ کرنے میں وارثین کو اختیار ہے۔
کسی وارث یا تمام وارثین کو محروم کرنے کے لیے اگر کوئی شخص وصیت کرے تو یہ گناہِ کبیرہ ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے وارث کو میراث سے محروم کیا، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو جنت سے محروم رکھے گا (کچھ عرصہ کے لیے)۔‘‘ (ابن ماجہ و بیہقی)
انتقال کے بعد ترکہ (جائداد یا رقم) کی تقسیم صرف اور صرف وراثت کے قانون کے اعتبار سے ہوگی۔ ابتداء اسلام میں جب تک میراث کے حصے مقرر نہیں ہوئے تھے، ہر شخص پر لازم تھا کہ اپنے وارثوں کے حصے بذریعہ وصیت مقرر کرے، تا کہ اس کے مرنے کے بعد نہ تو خاندان میں جھگڑے ہوں اور نہ کسی حق دار کا حق مارا جائے، لیکن جب بعد میں تقسیم وراثت کے لیے اللہ تعالی نے خود اصول و ضوابط بنادیئے جن کا ذکر سورۃ النساء میں ہے تو پھر وصیت کا وجوب ختم ہوگیا، البتہ دو بنیادی شرائط کے ساتھ اس کا استحباب باقی رہا:
۱: جو شخص وراثت میں متعین حصہ پارہا ہے اس کے لیے وصیت نہیں کی جاسکتی، مثلاً: ماں، باپ، بیوی، شوہر اور اولاد، جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مجمع کے سامنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی نے ہر وارث کا حصہ مقرر کردیا ہے، لہذا اب کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘ (ترمذی، باب ما جاء لا وصیۃ لوارث) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں مزید وضاحت موجود ہے کہ میراث نے ان لوگوں کی وصیت کو منسوخ کردیا جن کا میراث میں حصہ مقرر ہے، دوسرے رشتہ دار جن کا میراث میں حصہ نہیں ہے، ان کے لیے حکم وصیت اب بھی باقی ہے۔
۲: وصیت کا نفاذ زیادہ سے زیادہ ترکہ کے ایک تہائی حصہ پر نافذ ہوسکتا ہے، الا یہ کہ تمام ورثا پوری وصیت کے نفاذ پر راضی ہوں۔
امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ جن رشتہ داروں کا میراث میں کوئی حصہ مقرر نہیں ہے، ان کے لیے وصیت کرنا اب فرض و لازم نہیں ہے، کیونکہ وصیت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا ہے۔ (تفسیر جصاص، تفسیر قرطبی) یعنی بشرطِ ضرورت وصیت کرنا صرف مستحب ہے۔

وصیت کی مشروعیت قرآن کریم سے
۱: اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’تم پر فرض کیا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی اپنے پیچھے مال چھوڑ کر جانے والا ہو تو جب اس کی موت کا وقت قریب آجائے، وہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں دستور کے مطابق وصیت کرے، یہ متقی لوگوں کے ذمہ ایک لازمی حق ہے۔ پھر جو شخص اس وصیت کو سننے کے بعد اس میں کوئی تبدیلی کرے گا، تو اس کا گناہ ان لوگوں پر ہوگا جو اس میں تبدیلی کریں گے۔ یقین رکھو کہ اللہ (سب کچھ) سنتا جانتا ہے۔ ہاں! اگر کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ کوئی وصیت کرنے والا بے جا طرف داری یا گناہ کا ارتکاب کررہا ہے اور وہ متعلقہ آدمیوں کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ تعالی بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۱۸۰۔۱۸۲)
وصیت کا لازم اور فرض ہونا، یہ حکم اس زمانہ میں دیا گیا تھا جبکہ وراثت کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ اللہ تعالی نے وصیت کا حکم بتدریج نازل فرمایا، غرضیکہ مذکورہ بالا آیت میں وصیت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا ہے، البتہ استحباب باقی ہے۔
۲: اللہ تعالی نے سورۃ النساء میں جہاں وارثوں کے متعین حصے ذکر فرمائے ہیں، متعدد مرتبہ اس قانون کو ذکر فرمایا: ’’یہ ساری تقسیم اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی جو مرنے والے نے کی ہے، یا اگر اس کے ذمہ کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کے بعد۔‘‘
سورۃ النساء میں متعدد مرتبہ وصیت کے ذکر سے وصیت کی مشروعیت روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔
۳: اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو!جب تم میں سے کوئی مرنے کے قریب ہو تو وصیت کرتے وقت آپس کے معاملات طے کرنے کے لیے گواہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ تم میں سے دو دیانت دار آدمی ہوں (جو تمہاری وصیت کے گواہ بنیں) یا اگر تم زمین میں سفر کررہے ہو، اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیروں (یعنی غیرمسلموں) میں سے دو شخص ہوجائیں۔‘‘ (سورۃ المائدۃ: ۱۰۶) اس آیت میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضر کے ساتھ سفر میں بھی وصیت کی جاسکتی ہے اور وصیت کرتے وقت دو امانت دار شخص کو گواہ بھی بنالیا کرو، تا کہ بعد میں کسی طرح کا کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔

وصیت کی مشروعیت حدیث نبوی سے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس وصیت کے قابل کوئی بھی چیز ہو، درست نہیں کہ دو رات بھی وصیت کو لکھ کر اپنے پاس محفوظ کیے بغیر گزار دے۔ (صحیح بخاری، کتاب الوصیہ۔ صحیح مسلم، کتاب الوصایا، باب الوصایا) قرآن و حدیث کی روشنی میں علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہے جس کے ذمہ قرضہ ہو یا اس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو یا اس کے ذمہ کوئی واجب ہو جسے وہ خود ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو اس کے لیے وصیت میں یہ تفصیل لکھ کر رکھنا ضروری ہے، عام آدمی کے لیے وصیت لکھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔

وصیت کی مشروعیت اجماعِ امت سے
قرآن و حدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا وصیت کے جواز پر اجماع ہے، جیسا کہ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب (المغنی، جلد:۸، صفحہ:۳۹۰) میں وصیت کے جواز پر اجماع امت کا ذکر کیا ہے۔

وصیت کی حکمتیں
وصیت کی متعدد حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انسان کے انتقال کے بعد وراثت قرابت کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہے، نہ کہ ضرورت کے پیش نظر، یعنی جو میت سے جتنا زیادہ قریب ہوگا اس کو زیادہ حصہ ملے گا، خواہ دوسرے رشتہ دار زیادہ غریب ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن شریعت اسلامیہ نے انسان کو یہ ترغیب دی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کو مدد کا زیادہ مستحق سمجھتا ہے اور اس کو میراث میں حصہ نہیں مل رہا ہے، اس کے لیے اپنے ایک تہائی مال تک وصیت کرجائے، مثلاً کسی شخص کے کسی بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے اور پوتا پوتی حیات ہیں تو انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی جائداد میں سے ایک تہائی مال تک اپنے یتیم پوتے اور پوتی کے لیے وصیت کر جائے۔ اللہ تعالی نے سورۃ النساء میں اس کی ترغیب بھی دی ہے۔

وصیت کی اقسام

واجب وصیت
۱: اگر کسی شخص پر قرضہ ہے تو اس کی وصیت کرنا واجب ہے۔
۲: اگر زندگی میں حج فرض کی ادائیگی نہیں کرسکا تو اس کی وصیت کرنا واجب ہے۔
۳: اگر زکوۃ فرض تھی، ادا نہیں کی تو اس کی وصیت کرنا واجب ہے۔
۴: اگر روزے نہیں رکھ سکا، اس کے بدلہ میں فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرنا واجب ہے۔
۵: اگر کوئی قریبی رشتہ وصیت کے قانون کے مطابق میراث میں حصہ نہیں حاصل کر پارہا ہے، مثلاً یتیم پوتا اور پوتی اور انہیں شدید ضرورت بھی ہے تو وصیت کرنا واجب تو نہیں ہے، لیکن اُسے اپنے پوتے اور پوتی کا ضرور خیال رکھنا چاہیے۔ بعض علماء نے ایسی صورت میں وصیت کرنے کو واجب بھی کہا ہے۔

مستحب وصیت
شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے ایک تہائی کی کسی بھی ضرورت مند شخص یا مسجد یا مدرسہ یا مسافرخانہ یا یتیم خانہ کو وصیت کر جائے، تا کہ وہ اس کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے اور اس کو مرنے کے بعد بھی اس کا ثواب ملتا رہے۔

مکروہ وصیت
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، میں اس وقت مکہ مکرمہ میں تھا (حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس سرزمین پر موت کو پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سے کوئی ہجرت کرچکا ہو، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالی ابن عفراء (سعد) پر رحم فرمائے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال و دولت کی وصیت (اللہ کے راستے میں) کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پوچھا پھر آدھے کی کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی فرمایا کہ: نہیں۔ میں نے پوچھا کہ: پھر تہائی مال کی کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تہائی مال کی کرسکتے ہو، اور یہ بھی بہت ہے۔ اگر تم اپنے رشتہ داروں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑدو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اس میں کوئی شبہ نہ رکھو کہ جب بھی تم کوئی چیز جائز طریقہ پر خرچ کروگے تو وہ صدقہ ہوگا۔ وہ لقمہ بھی جو تم اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں دوگے (وہ بھی صدقہ ہے) اور (ابھی وصیت کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ) ممکن ہے کہ اللہ تعالی تمہیں شفا دے اور اس کے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو اور دوسرے بہت سے لوگ (اسلام کے مخالف) نقصان اٹھائیں۔ (بخاری، کتاب الوصایا۔ ترمذی، باب ما جاء فی الوصیۃ بالثلث) غرضیکہ اگر اولاد و دیگر وارثین مال و جائداد کے زیادہ مستحق ہیں تو پھر دوسرے حضرات اور اداروں کے لیے وصیت کرنا مکروہ ہے۔

وضاحت
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفا کی دعا کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تقریبا پچاس سال تک حیات رہے اور انہوں نے عظیم الشان کارنامے انجام دیئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ہی ۱۷؍ہجری میں کوفہ شہر بسایا تھا جو بعد میں علم و عمل کا گہوارہ بنا۔ آپ ہی کی قیادت میں ایران جیسی سپر پاور کو فتح کیا گیا۔ آپ نے ہی دریائے دجلہ میں اپنے گھوڑے ڈال دیئے تھے، علامہ اقبال رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا ہے:
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑادیئے گھوڑے ہم نے

ناجائز وصیت
ایک تہائی سے زیادہ جائداد کی وصیت کرنا، وارث کے لیے وصیت کرنا۔ اس نوعیت کی وصیت نافذ نہیں ہوگی۔
اولاد یا کسی دوسرے وارث کو اپنی جائداد سے محروم کرنے کے لیے کسی دوسرے شخص یا دینی ادارہ کو وصیت کرنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کئی لوگ (ایسے بھی ہیں جو) ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گزارتے ہیں، پھر جب موت کا وقت آتا ہے تو وصیت میں وارثوں کو نقصان پہنچادیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان پر جہنم واجب ہوجاتی ہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت (سورۃ النساء:۱۲) پڑھی: ’’جو وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کرنے کے بعد اور مرنے والے کے ذمہ جو قرض ہوا اس کی ادائیگی کے بعد، بشرطیکہ (وصیت اور قرض کے اقرار کرنے سے) اس نے کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔ یہ سب کچھ اللہ کا حکم ہے، اور اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا، بردبار ہے۔‘‘ (سنن ترمذی، باب جاء فی الوصیۃ بالثلث)

وصیت سے متعلق چند مسائل
۱: کوئی بھی صحت مند شخص اپنی زندگی میں کسی بھی اولاد کی تعلیم، اس کے مکان کی تعمیر و غیرہ پر کم یا زیادہ رقم خرچ کرسکتا ہے، اسی طرح عام زندگی میں اولاد کے درمیان جائداد کی تقسیم کچھ کم یا زیادہ کے ساتھ کرسکتا ہے، تا ہم اس کو چاہیے کہ حتی الامکان اولاد کے مصارف اور جائداد کو دینے میں برابری کرے۔ عام صحت مند زندگی میں وصیت یا وراثت کا قانون نافذ نہیں ہوتا۔ عام صحت مند زندگی میں اولاد و دیگر رشتہ داروں کو دی جانے والی رقم یا جائداد دہبہ کہلاتی ہے۔ غرضیکہ عام صحت مند زندگی میں باپ اپنی اولاد میں سے اگر کسی کو مالی اعتبار سے کمزور محسوس کررہا ہے یا اپنے یتیم پوتے یا پوتی کو اپنی طرف سے مخصوص رقم یا جائداد کا کچھ حصہ دینا چاہتا ہے تو دے سکتا ہے۔

۲: ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہما کے بھائی حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت سوائے اپنے سفید خچر، اپنے ہتھیار اور اپنی زمین کے جسے آپ نے صدقہ کردیا تھا، نہ کوئی درہم چھوڑا تھا نہ دینار، نہ غلام نہ باندی اور انہ کوئی اور چیز۔ (بخاری، کتاب الوصایا) غرضیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ترکہ نہیں چھوڑا تھا، اسی وجہ سے ترکہ کے تعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی وصیت موجود نہیں ہے۔

۳: قرض کو وصیت پر مقدم کیا جائے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض وصیت سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا ہے، (یعنی انسان کے ترکہ میں سے سب سے پہلے قرض کی ادائیگی کی جائے گی، پھر وصیت نافذ ہوگی) جبکہ تم لوگ قرآن کریم میں وصیت کو پہلے اور قرض کو بعد میں پڑھتے ہو۔ (ترمذی، باب ما جاء یبدأ بالدین قبل الوصیۃ) مذکورہ بالا و دیگر احادیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے۔

۴: شرعاً وارث کے لیے وصیت نہیں کی جاسکتی ہے، لیکن اگر کسی شخص نے وارثین میں کسی وارث کے لیے وصیت کردی اور تمام ورثاء میت کے انتقال کے بعد اس کی وصیت پر عمل کرنے کی اجازت دے رہے ہیں تو وہ وصیت نافذ ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کردی اور تمام ورثاء میت کے انتقال کے بعد اس کی وصیت پر عمل کرنے کی اجازت دے رہے ہیں تو وہ وصیت نافذ ہوجائے گی۔

۵: تحریر کردہ وصیت نامہ میں تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے، یعنی اگر کسی شخص نے کوئی وصیت تحریر کرکے اپنے پاس رکھ لی، پھر اپنی زندگی میں ہی اس میں تبدیلی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

ایک اہم نقطہ
جس طرح ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کے انتقال کے بعد اس کا مال و جائداد صحیح طریقہ سے اولاد اور دیگر وارثین تک پہنچ جائے اور اولاد اس کے مال و جائداد کا صحیح طریقہ سے استعمال کرکے اس میں مزید بڑھوتری کرے۔ اسی طرح ہمیں اس بات کی بھی فکر و کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے مرنے کے بعد ہماری اولاد کیسے اللہ کے احکام و نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق زندگی گزارے؟ تا کہ وہ مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ والی زندگی میں کامیاب ہوسکے، جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے پاک کلام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کے لیے ان کی وصیت کا ذکر فرمایا ہے: ’’اور اسی بات کی ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹوں کو وصیت کی، اور یعقوب علیہ السلام نے بھی (اپنے بیٹوں کو) کہ: ’’اے میرے بیٹو! اللہ نے یہ دین تمہارے لیے منتخب فرمالیا ہے، لہذا تمہیں موت بھی آئے تو اس حالت میں آئے کہ تم مسلم ہو۔ کیا اُس وقت تم خود موجود تھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تھا، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟ ان سب نے کہا تھا کہ ہم اُسی ایک خدا کی عبادت کریں گے، جو آپ کا معبود ہے اور آپ کے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا معبود ہے۔ اور ہم صرف اسی کے فرمانبردار ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۱۳۲ و ۱۳۳)

دوسرا اہم نقطہ
جیسا کہ ہم اپنی زندگی کے تجربات سے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر شخص اپنی زندگی کے آخری وقت میں بہت اہم اور ضروری بات ہی کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور چچازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا آخری کلام ’’نماز، نماز اور غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو‘‘ تھا۔‘‘ (ابوداود، مسند احمد)
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت یہ ارشاد فرمائی: نماز، نماز، اپنے غلاموں (اور ما تحت لوگوں) کے بارے میں اللہ سے ڈرو، یعنی ان کے حقوق ادا کرو۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وصیت فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے پورے لفظ نہیں نکل رہے تھے۔‘‘ (مسند احمد)
اس سے ہم نماز کی اہمیت و تاکید کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت نماز کی پابندی کے متعلق کی، لہذا ہمیں پوری زندگی نماز کا اہتمام کرنا چاہیے۔

بقلم: مفتی محمدنجیب قاسمی سنبھلی
اشاعت: ماہنامہ بینات۔محرم الحرام ۱۴۳۸ھ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین