تہران (سنی آن لائن) ایرانی مجلس شورا کے اہل سنت نمائندوں نے اپنے دینی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید سے تہران میں ملاقات کرکے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ sunnionline.us کی ایک رپورٹ کے مطابق، اتوار تئیس اکتوبر کو دارالحکومت تہران میں ممتاز دینی رہ نما اور صدر دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایرانی پارلیمنٹ کے بیس سے زائد سنی ارکان کے علاوہ تہران سے تعلق رکھنے والی بعض سنی شخصیات نے بھی شرکت کی۔
خطے کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ملک میں موجودہ امن کی فضا ایک بڑی نعمت ہے۔ ہمارے دشمن اس امن اور ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ لہذا ہمیں چوکس رہنا چاہیے۔
ممتاز عالم دین نے سنی ارکان پارلیمنٹ اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ سنی عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کے حل کے لیے محنت کریں۔
انہوں نے بعض مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حکومتی اداروں اور محکموں میں اہل سنت کو خدمت کا موقع نہیں دیا جارہا جس طرح ان کا حق بنتاہے۔ نیز مذہبی آزادیوں کے حوالے سے رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔
مولانا عبدالحمید کے خطاب سے پہلے مختلف شہروں اور اضلاع کے نمائندوں نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے قومی اتحاد اور اسلامی بھائی چارہ پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی سنی شہریوں کی وفاشعاری کا مثبت اور مناسب صلہ دیا جائے اور انہیں کابینہ میں جگہ ملنی چاہیے۔ نیز وفاقی و صوبائی سطح پر ان کی خدمات حاصل کرنی چاہیے۔
یاد رہے گزشتہ دہائیوں سے اہل سنت برادری سرکاری امتیازی رویے کی شکایت کرتی چلی آرہی ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد اب تک کوئی وزیر، صوبائی گورنر اور سفیر اہل سنت شہریوں سے متعین متعین نہیں ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے ایران کی سفارت کے لیے ایک سنی شہری کو گزشتہ سال متعین کیا جو بڑی پیشرفت سمجھی جاتی ہے۔

آپ کی رائے