مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے مطالبہ پر مسلم پرسنل لا سے متعلق جن مسائل پر اپنا حلف نامہ داخل کیا ہے، وہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے اعلیٰ اخلاقی ومذہبی اقدار کے قطعی خلاف ہے۔
اس حلف نامہ میں طلاق اور ایک سے زیادہ شادی کے مسئلہ پر مرکزی حکومت نے آئین ہند اور دستور کا سہار الے کر عورتوں کے حقوق کو بچانے کے نام پر تین طلاق اور ایک سے زیادہ شادی کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کی ہے، اور مذہبی معاملات میں بے جا دخل اندازی کی ہے۔ گویا کہ اس نے یکساں سول کوڈ کی جانب فضا کو سازگار کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے، جو اس آزاد جمہوری ملک میں ناقابل عمل ہے۔
بہار کی مختلف تنظیموں اور دینی ملی اداروں مثلا امارت شرعیہ، جمعیۃ علماء بہار، جماعت اسلامی اور ادارہ شرعیہ وغیرہ نے حکومت کے اس موقف کی مخالفت کی ہے۔
امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی، جمعیۃ علماء بہار کے ناظم اعلیٰ حسن احمد قادری، جماعت اسلامی کے امیر حلقہ رضوان احمد اصلاحی، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے پرنسپل مولانا مشہود احمد قادری ندوی، ادارہ شرعیہ کے ناظم اعلیٰ حاجی ثناء اللہ نے حکومت کے اس موقف پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ موقف آئین میں ہر ہندوستانی کو اپنے مذہب پرعمل کرنے اور اپنے مذہبی قانون پر چلنے کی دی گئی آزادی کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے، اور وہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی بیجا کوشش کر کے ایک سیکولر ملک کو یکساں سول کوڈ کے ناقابل عمل طریقہ پر لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہندوستان کے مسلمان خواہ کسی مسلک و فرقہ کے ہوں اس بات کو قطعی برداشت نہیں کر سکتے کہ قرآن و حدیث کے قانون پر کوئی دست درازی کرنے کی کوشش کرے۔ کیوں کہ اسلامی قانون انسانوں کا بنایا ہوا قانون نہیں ہے کہ اس کو کچھ نا دان لوگوں کے ووٹوں سے اور ناعاقبت اندیش لوگوں کے دستخطی پرچوں یا عوامی بھیڑ کے بے تکے مطالبوں کی مدد سے تبدیل کیا جاسکے۔ بلکہ یہ قانون الٰہی ہے، جس میں تبدیلی و ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے مرکزی حکومت کو طلا ق کے معاملہ میں مذہب اسلام کے قوانین کو نافذ کرنے کی سفارش کرنی چاہئے، خواہ وہ ایک طلاق کا معاملہ ہو یا دویاتین کا۔ اس لئے حکومت ہند سپریم کورٹ میں اپنے دیئے گئے حلفیہ بیان کی فورا اصلاح کرے۔ حکومت کو اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ طلاق کے معاملہ میں اسلامی شریعت (قرآن وحدیث ) کے خلاف کوئی دوسری رائے دے۔ جو لوگ بھی اصلاح کے نام پر اسلامی قوانین میں تبدیلی کی آواز اٹھارہے ہیں، ان کو اس کا کوئی حق نہیں۔ چاہے وہ نام نہاد مسلمان ہو ںیا دوسرے لوگ۔ جن لوگوں کو اسلامی قانون پسند نہیں ہے یا وہ ملکی قانون پر عمل کرنا چاہتے ہیں، وہ کریں، ان کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ موجود ہے، دوسرے متبادل قانون موجود ہیں، ان کے دامن میں جا کر پناہ لیں، مگر اپنے ہوائے نفس کی تسکین کے لیے اسلامی قانون کو تختہ مشق بنانے کی کوشش نہ کریں۔
ان حضرات نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ بے جے پی کی قیادت میں بننے والی یہ حکومت ہمیشہ سے یکساں سول کوڈ کی حامی رہی ہے اور وہ مسلم پرسنل لا کے خلاف اپنے جارحانہ رخ کو ظاہر کر کے ملک میں یکساں سول کوڈکے اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ لیکن اس ملک کے مسلمان ایسا نہیں ہونے دیں گے، مسلمانوں کے لیے قرآن و حدیث ہی سب سے بڑا دستور ہے، اور مذہبی امور میں شریعت ہی قابل تقلید، اس میں تا قیامت ترمیم ممکن نہیں ہے۔ ماضی میں بھی مسلمانوں نے مسلم پرسنل لا کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کیا ہے اور آئندہ بھی مخالفت کرنے والوں کو خاموش ہو نا پڑے گا۔
بصیرت آن لائن

آپ کی رائے