شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے انیس اگست دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ میں اسلام میں انسانی حقوق پر خصوصی توجہ اور اہمیت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے میاں بیوی اور ماں باپ کے حقوق پورے کرنے پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے صوبہ سیستان بلوچستان کے صدرمقام میں اہل سنت کے مرکزی اجتماع برائے نماز جمعہ میں خطبہ دیتے ہوئے کہا: بہت سارے لوگوں کا گمان ہے اسلامی شریعت صرف احکام اور نماز و روزہ جیسی عبادات تک محدود اور خاص ہے، حالاں کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ اسلام میں حقوق الناس پر بھی خصوصی توجہ دی جاچکی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اللہ تعالی نے بعض جگہوں پر لوگوں کے حقوق کو اپنے حقوق سے پہلے یاد کیاہے۔ جو شخص حقوق اللہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ معاملات، معاشرات اور حقوق الناس کو بھی خاطر میں لائے اور انھیں پورے کریں، تب جنت الفردوس میں داخل ہوسکتاہے۔ جو شخص سودی کاروبار کرتاہے، وہ شخص انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی کا ارتکاب کرچکاہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: والدین کے حقوق کے بارے میں اسلامی شریعت میں بڑی تاکید آئی ہے۔ قرآن پاک میں توحید کے بعد والدین کے حقوق پر تاکید آئی ہے۔ قرآن مجید نے سب کو حکم دیاہے کہ ماں باپ سے اچھائی کریں اور پیار سے پیش آئیں۔
انہوں نے کہا: یہ اللہ تعالی کے لیے ناقابل قبول ہے کہ ایک مسلمان اللہ تعالی کے حقوق کو پورا کرے لیکن اس کے بندوں کے حقوق کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کرے اور اپنے والدین کا احترام نہ کرے۔ ایک روایت سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ بسا اوقات والدین کی خدمت کرنا جہاد سے بھی بڑھ کر افضل اور نیک عمل ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ ماں باپ کے حقوق کے معاملے کی سنگینی سے واقف نہیں ہیں اور ان کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالی کی رضامندی ماں باپ کی رضامندی سے وابستہ ہے۔ والدین کے رشتے داروں اور قریبی دوستوں سے محبت کرنا بھی دراصل والدین ہی سے محبت ہے۔
شیخ الاسلام نے پڑوسیوں کے حقوق کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اسلامی نقطہ نظر سے پڑوسی اگر غیرمسلم ہو، تب بھی اس کے حقوق پورے کرنے ہوں گے۔ اگر پڑوسی مسلمان ہو، اس کے دو حق بنتے ہیں اور اگر رشتہ دار ہو تو یہ تین حق ہوجاتے ہیں۔ لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ اگر پڑوسی بیمار ہوگیا اس کی عیادت کی جائے، اسے ہماری طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچے اور ان سے نرمی کے ساتھ پیش آئیں۔
مولانا عبدالحمید نے میاں بیوی کے حقوق کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور احترام کریں۔ حدیث شریف میں آیا ہے تم میں سب سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے زیادہ اچھا ہو اور میں (آپﷺ) اپنے اہل خانہ سے (برتاو میں) تم سب سے زیادہ اچھا ہوں۔
انہوں نے کہا: مرد حضرات اپنی بیویوں کے جائز مطالبات کو پورا کریں۔ اگر ان سے کوئی بدزبانی کرے یا درشتی کا اظہار کرے، تو صبر و برداشت کا مظاہرہ کریں۔ محض سخت کلامی کی وجہ سے بیوی کو طلاق دینا اور مارپیٹ کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ بلکہ چشم پوشی اختیار کرکے اچھائی و بھلائی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اپنے خطاب کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے ایک بار پھر حقوق الناس پر زور دیتے ہوئے کہا: حقوق اللہ اور حقوق الناس میں فرق یہی ہے کہ حقوق اللہ میں سستی و کوتاہی اللہ تعالی کی مغفرت سے معاف ہوجاتی ہے اور اس کا ازالہ ہوسکتاہے، لیکن بندوں کے حقوق میں سستی محض توبہ سے ازالہ نہیں ہوسکتی بلکہ صاحب حق کی رضامندی بھی حاصل کرنی چاہیے۔
سرکاری ٹی وی اہل سنت سے باقاعدہ معافی مانگے
ایران کے ممتاز دینی رہ نما نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں ایران کے ایک سرکاری ٹی وی چینل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی پر شدید تنقید کرتے ہوئے سرکاری ٹی وی کے عہدیداروں سے مطالبہ کیا سنی برادری سے باقاعدہ معافی مانگیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: ’نسیم‘ ٹی وی چینل میں ایک مزاحیہ پروگرام میں میزبان نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا جس کی خبر اندرونِ ملک اور خطے میں پھیل گئی۔ بہت سارے علمائے کرام اور دانشور حضرات نے شکوہ کیا اور مجلس شورا (پارلیمنٹ) میں بھی اہل سنت کے نمائندوں نے تحریری طور پر احتجاج کیا ۔ بعض شیعہ ارکان مجلس نے بھی اہل سنت کے احتجاج کو درست قرار دیا۔
انہوں نے کہا: یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کسی بھی دین، مذہب اور مسلک میں جائز نہیں ہے، توہین و گستاخی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے صرف دوریوں میں اضافہ ہوتاہے اور اتحاد کو نقصان پہنچتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: حالیہ گستاخی کے واقعے کے بعد صرف آئی آر آئی بی (سرکاری ٹی وی و ریڈیو) کے ایک مشیر اور مجلس شورا میں ان کے نمائندے نے تحریری طورپر گستاخی کے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیاجس میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ پروگرام کے کنٹرولر کو برطرف کیا گیاہے اور میزبان کو نوٹس مل چکاہے؛ ہماری توقع یہ ہے کہ ایسی خبروں کو خود سرکاری میڈیا میں کوریج ملے اور ٹی وی کے اعلی عہدیدار باقاعدہ طورپر پوری قوم خاص کر اہل سنت برادری سے معافی مانگیں۔
انہوں نے مزاحیہ پروگرام کی گستاخی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: حالیہ گستاخی کی ذمہ داری سرکاری ٹی وی ہی پر آتی ہے اور ہم ملک کے اعلی حکام کے موقف کو اس حوالے سے سراہتے ہیں؛ مرشد اعلی نے کئی مرتبہ واضح الفاظ میں نام لے کر صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کی شان میں گستاخی اور ان کی توہین کو حرام قرار دیا ہے اور اپنے پیروکاروں کو سختی سے منع کیاہے۔
سرکاری ٹی وی کے منیجرز دوسروں سے زیادہ رہبر کے فتوا پر توجہ دیں
صدر دارالعلوم زاہدان نے سرکاری ٹی وی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: سرکاری ٹی وی اور ریڈیو براہ راست مرشد اعلی کی ادارت میں سرگرم ہیںاور سب سے بڑا اعتراض ان ہی پر ہوتاہے۔ انہیں چاہیے تھا اپنے مشرف اور مدیراعلی کے فتوا پر دوسروں سے زیادہ توجہ دیتے۔
انہوں نے مزیدکہا: آئین کے رو سے اسلامی جمہوریہ ایران میں سب سے بااختیار شخص مرشد اعلی اور رہبر انقلاب ہیں۔ ان کی بات اور فتوا اگر (شیعہ) انتہاپسندوں کی جانب سے نظرانداز ہوجائے، یہ زیادہ حیران کن نہیں ہے، لیکن جب ایسے ادارے اور شخصیات جو حکومتی ڈھانچے میں شامل ہیں، وہ اگر ایسی حرکت کریں تو یہ ناقابل قبول ہے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے سوشل میڈیا میں بعض افراد کی جانب سے اشتعال انگیزی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جب ایک ادارے میں کوئی غلطی ہوجاتی ہے، سوشل میڈیا میں اشتعال انگیزی نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری کوشش اصلاح کے لیے ہونی چاہیے ۔ لوگوں کو اشتعال دلانا اور فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانا غلط اقدام ہے۔ ہمارے دشمن موقع پرست ہیں اور اشتعال دلاکر غلط فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
اہل تشیع کی مقدسات کی توہین حرام ہے
ممتاز دینی شخصیت نے تمام مسالک کی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا: اہل سنت کے ایک پیش نماز کے طورپر میرا فتوا یہی ہے کہ اہل تشیع کی مقدسات کی مذہبی توہین حرام ہے؛ یہ کوئی سیاسی فتوا نہیں ہے، ہمارا عقیدہ ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: ہمیں یہ حق نہیں پہنچتاہے کہ یہود و نصاری کی مقدسات کی توہین کریں ۔ گرچہ یہودی و عیسائی ہمارے عقائد کی توہین کرتے ہیں؛ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کارٹون بناتے ہیں اور بعض اوقات قرآن جلانے کی جسارت کرتے ہیں۔ لیکن کوئی مسلمان ہرگز خود کو مجاز نہیں سمجھتا کہ العیاذباللہ حضرت موسی و عیسی سمیت کسی اور پیغمبر کی شان میں گستاخی کرے یا تورات و انجیل جلانے کی جسارت کرے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے آخر میں کہا: ہم نے کبھی یہود و نصاری پر تعرض نہیں کیا، یہ یہود و نصاری ہی ہیں جو ہماری مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور ہمارے ملکوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ لہذا کسی بھی دین و مذہب کی مقدسات کی گستاخی جائز نہیں اور مسلمانوں کو ایسے مسائل سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مسلمان ایسی گستاخانہ حرکت کرے، اسے تشفی بخش دلائل سے سمجھانا چاہیے تاکہ گستاخی سے رک جائے۔

آپ کی رائے