رمضان المبارک اللہ تعالی کی طرف سے اصلاحی پروگرام ہے

رمضان المبارک اللہ تعالی کی طرف سے اصلاحی پروگرام ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے اس عظیم مہینے کو اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے گئے ایک اصلاحی پروگرام یاد کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے سترہ جون دوہزار سولہ (گیارہ رمضان المبارک) میں زاہدان کے مرکزی اجتماع برائے نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: “شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ”، (رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں) کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے انسانوں کی روحانی تربیت و اصلاح کے لیے کچھ مکانوں اور زمانوں کو خاص فرمایاہے جن میں عبادت کرنے کی خاص فضیلت ہے۔ تمام مساجد اللہ ہی کی ہیں اور ان میں برکت پائی جاتی ہے لیکن مسجدالحرام، مسجد النبی اور مسجد الاقصی میں اللہ رب العزت نے خاص تاثیر، کشش اور برکت رکھی ہے۔ ہر مسلمان کی خواہش ہے ان مقدس مکانات میں باربار اسے حاضری کی سعادت نصیب ہوجائے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: رمضان المبارک ان خاص اوقات میں سے ہے جس میں اللہ تعالی نے خاص فضیلت رکھی ہے اور اس میں عبادت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ رمضان زندگی کا مہینہ ہے اور ایک ایسی نعمت ہے جو ہمارے دلوں کو پاک و صاف کرنے اور تبدیلی لانے کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا: رمضان ایک خاص موقع ہے اور خوش نصیب لوگ ایسے مواقع کو غنیمت سمجھ کر خالق اور مخلوق کے درمیان موجود فاصلے کو ہٹادیتے ہیں۔ رمضان ہمیں اللہ تک پہنچانے کے لیے آیاہے۔ یہ توبہ و استغفار اور تضرع کا مہینہ ہے۔ رمضان اللہ تعالی کا اصلاحی پروگرام ہے تاکہ انسان گناہوں کو چھوڑدے۔ اس ماہ میں گناہ کی چھٹی اور نیک اعمال کی کثرت ہونی چاہیے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: نیک اعمال کے ذریعے بندہ اللہ تک پہنچ سکتاہے۔ اس ماہ میں بطور خاص صدقہ و انفاق سے کام لیں جو سنت حبیب ﷺ بھی ہے۔ رمضان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ کے بہت سارے نیک بندوں نے اپنی آخرت سنواری ہے۔ رمضان کے شب و روز کو عبادت میں گزارکر بندہ عذاب الہی سے نجات حاصل کرسکتاہے۔ لہذا اس مبارک مہینے کا فائدہ اٹھائیں اور آسمانی پروگرام کے مطابق اپنی اصلاح کرائیں۔

حکام فراڈی لوگوں کو قانون کے کٹھہرے میں لائیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے صوبہ سیستان بلوچستان میں پیش آنے والے فراڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ ہفتوں میں بلوچستان خاص کر جنوبی اضلاع میں سستی قیمت پر کار دلوانے کے بہانے ایک تاریخی فراڈ پیش آیا۔ ایک فراڈی اور دھوکے باز شخص دارالحکومت سے یہاں آیا اور اپنی جال بچھانے کے بعد اربوں روپے اڑاکر بھاگ گیا۔
انہوں نے مزید کہا: اس فراڈ سے صوبے کی کمزور معیشت کو شدید جھٹکا لگ گیا ہے اور بہت سارے شہری شدید پریشان ہوچکے ہیں۔ متاثرین کو چاہیے صبر سے کام لیں اور قانونی راستوں سے اپنے حق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
حکام کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: تمام حکام خاص کر عدلیہ اور حساس ادارے سنجیدگی سے اس کیس کی پیروی کریں اور فراڈی شخص کی گرفتاری اور لوگوں کو انصاف دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ اگر وہ ملک سے فرار ہوچکاہے، اسے انٹرپل کے ذریعے واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ یہ حکام کی ذمہ داری بھی ہے اور اس سے عوام کی نیک دعائیں بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔
اپنے خطاب کے آخر میں صدر دارالعلوم زاہدان نے اہل سنت ایران کے عظیم دینی ادارہ جو سب سے بڑا دینی ادارہ بھی ہے، کے معاشی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عوام سے درخواست کی اس جامعہ سے خصوصی تعاون کریں۔

سب کو برکت کی ضرورت ہے
خطیب اہل سنت سے قبل مولانا مفتی محمد قاسم قاسمی نے زاہدانی نمازیوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا: بعض عبادات مثلا حج اور زکات کی خاص شرطیں ہیں اور ہر مسلمان کو ان عبادات کی برکتیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔ لیکن رمضان میں روزہ اور عبادت سب کو نصیب ہوتی ہے تاکہ ہم تقوا و اصلاح حاصل کریں۔
استاذ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: تقوا ایک بہت بڑی نعمت ہے جو اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کا ذریعہ ہے۔ تقوا سے زندگی لذت بخش ہوتی ہے۔ ہم سب کو برکات کی ضرورت ہے۔ انفرادی و اجتماعی زندگی میں برکت کی ضرورت ہے۔ قوم، حکومت، معیشت، سیاست و غیرہ سب کو برکتوں کی ضرورت ہے۔ برکت بھی تقوا ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
صدر دارالافتاء دارالعلوم زاہدان نے کہا: رمضان ہمیں متقی بنانے کے لیے آیاہے۔ لہذا اس مبارک مہینے میں اپنی زبان، آنکھیں، کان اور پیٹ کو حرام سے بچائیں۔ ہر وہ کام جو روزے کی شان کے خلاف ہے، اس سے بچیں۔ روزے کی روح اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب اس کی شرایط اور آداب کا خیال رکھا جائے۔ نیک کاموں کے ساتھ ساتھ گناہوں اور ناجائز کاموں سے بھی سختی کے ساتھ دوری کرنی چاہیے۔
اپنے خطاب کے آخر حضرت مجدد الف ثانیؒ کا ایک قول نقل کرتے ہوئے مفتی قاسمی نے کہا: جو شخص رمضان کو عبادت اور خیر میں گزارے، اس کا پورا سال خیر میں گزرے گا۔ لیکن جو رمضان میں بھی غفلت سے رہے اور اللہ تعالی سے دور ہو، اس کا پورا سال خراب ہوجائے گا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین