شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ’شریعت مخالف تعویذنویسی‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو ’مکار‘ یاد کیا اور عوام کو ان سے دور رہنے کی نصیحت کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے یکم اپریل دوہزار سولہ (بائیس جمادی الثانی) کے خطبہ جمعہ میں زاہدانی اہل سنت سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو ہمارے لئے نمونہ اور قابل تقلید شخصیت قرار دی ہے۔ آپ ﷺ کے اخلاق، کردار اور عادات کو اللہ تعالی نے پسند فرمایاہے۔ اللہ رب العزت نے خود ان کی تربیت فرمائی اور ان کے ظاہر و باطن کو زینت بخشی۔ ہمیں زندگی کے ہر لمحے اور موڑ پر ان کی اتباع کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے معاشرے میں جادو کی بہتات پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہمیں پریشان کن رپورٹس مل رہی ہیں کہ لوگ پیسہ کمانے کے لیے جادو اور سحر سے کام لے کر دوسروں کو گمراہ کرنے پر اور ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بہت ساری خواتین جب کسی تعویذنویس کی خبر سنتی ہیں، تو گلی کوچوں میں گھوم کر ان کے پاس جایا کرتی ہیں تاکہ سحر باطل کرائیں۔ حالانکہ مکار اور جھوٹے لوگوں کے پاس جانا اچھا نہیں ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: کچھ اہل علم کو عوام ہی تعویذنویسی پر مجبور کرتے ہیں۔ لیکن عاملوں اور تعویذنویسوں کی اکثریت اسی راستے سے کماتی ہے۔ یہ عاملین بعض مخصوص کتابوں اور اشیا کے سہارے جو دین و شریعت کے مخالف ہیں، تعویذ لکھتے ہیں اور خود بھی شریعت اور دین پر عمل نہیں کرتے۔ نامعلوم عاملوں نے بڑے مسائل پیدا کیے ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے یاد دہانی کرتے ہوئے کہا: جو شخص ساحروں اور جادوگر عاملوں کے پاس جاتاہے تاکہ میاں بیوی کے درمیان اختلافات ڈالے، وہ اپنا ایمان کھوجائے گا۔ ہمیں سحر باطل کرنے کے لیے قرآن پاک سے کام لینا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات میں آیاہے جادو سے حفاظت کے لیے معوذتین (قرآن پاک کے آخری دو سورے) ہر نماز کے بعد تین مرتبہ پڑھا جائے۔ ان شاء اللہ جادو کے آثار ختم ہوں گے۔
جادوگروں کی مذمت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا: سحر اور جادو کفر یا کم از کم فسق کی حد تک گناہ ہے ۔ سب سے زیادہ انبیائے کرام علیہم السلام نے جادوگروں کا مقابلہ کیا ہے۔ یہی جادوگروں نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے مسائل پیدا کیے۔
ہم صرف شریعت پر گامزن طریقت کے حق میں ہیں
اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے ’تصوف‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے مزید گویا ہوئے: تصوف حق ہے اور عرفان کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ الحمدللہ ہم اور ہمارے علما صحیح تصوف کی تصدیق کرتے ہیں؛ جو تصوف اور طریقت شریعت کی حدود کے اندر ہو، ہم اس کے مخالف نہیں ہیں اور جو صوفی حضرات شرعی مسائل کا خیال رکھیں، ہم ان کی تائید کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اہل علم اور سچے صوفیوں کا لبادہ اوڑھ کر اپنی دنیا آباد کرتے ہیں اور صرف اپنے مفادات کو عزیز رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ برے اور جھوٹے صوفیوں کے پاس نہ جائیں اور ہر پیر پر بھروسہ نہ کریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیال کرو کس سے اپنا دین لیتے ہو۔ دین اور دینی مسائل کو متقی اور نیک لوگوں سے لینا چاہیے جن کا تقوا چاند اور سورج کی طرح واضح ہو۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: ہم خرافات اور بدعتوں کے مخالف ہیں، لیکن اگر کوئی طریقت اور تصوف شریعت کے مطابق ہو، ہم اس کی تائید کرتے ہیں۔ جو شخص خود کو صوفی کہلائے لیکن اس کا عمل شریعت اور سنت کے خلاف ہو، ہم اس کو صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔ تصوف کا اصلی مقصد اتباع شریعت و سنت، اخلاص اور للہیت ہے۔ یہی تصوف اور طریقت کا خلاصہ ہے۔
حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: چوکس رہیں اور لوگوں کو خوب پہچان لو۔ پہچان کے بغیر ہر کسی پر بھروسہ مت کریں۔ ہر عامل یا صوفی کے پاس نہ جایا کریں۔ ہم سب کو اپنے دین کی حفاظت کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالغنی نیک، عابد اور ذاکر عالم دین تھے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطاب کے آخر میں ضلع زاہدان کے ’گلوگاہ‘ ٹاون کے خطیب اور ممتاز عالم دین، مولانا عبدالغنی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مولانا عبدالغنی ایک انتہایی نیک، عابد اور ذاکر عالم دین تھے۔ آپ کثرت سے قرآن پاک تلاوت کرتے تھے۔ مرحوم انتہائی نیک سیرت، متقی اور سحرخیز شخص تھے۔ اللہ تعالی مرحوم کو غریق رحمت فرمائے اور جنت میں آپ کے درجات بلند فرمائے۔

آپ کی رائے