شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بعض بداخلاقیوں کی بہتات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’علمائے کرام اور شخصیات کی باتوں کو توڑجوڑ کرنا اور اپنی خواہش کا مطلب نکالنا‘ سب سے بڑی بے اخلاقی ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اٹھارہ مارچ دوہزار سولہ (۸ جمادی الثانی) کے خطبہ جمعہ میں نبی کریم ﷺ کے اعلی اخلاق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: قرآن پاک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلی اخلاق کے حامل یاد کیاہے؛ ”وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ “، (اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو)۔ آپ ﷺ کے خوبصورت اخلاق کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ آپ پورے قرآن پر عامل تھے۔
انہوں نے مزیدکہا: آپ ﷺ ہرگز اپنی ذات کی خاطر کسی سے انتقام نہیں لیتے تھے۔ آپ ﷺ ایسے ہی تھے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ”خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ“، (درگزر کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے الگ رہ) اعراف: ۱۹۹
مولانا نے بہتان اور الزام تراشی کی برائی واضح کرتے ہوئے کہا: جاہل شخص وہ ہے جو سچ کو جھوٹ سے تمیز نہیں کرسکتا، حقائق کو نہیں دیکھتا اور دوسروں پر بہتان لگاتا ہے اور الزام تراشی اس کا کام ہے۔ یہ بہت بڑی بداخلاقی ہے کہ جب بندے کو کسی سے نفرت ہوجائے تو اس کے خلاف جھوٹ اور الزام تراشی کا سہارا لے۔ البتہ قدروالے لوگ ایسی الزام تراشیوں اور برائیوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور جو افراد ان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں ، ان سے اعراض کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ضدی لوگ ہیں جنہیں متاثر کرنا بڑی مشکل ہے۔
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے مزید گویا ہوئے: حدیث شریف میں آیاہے جو شخص بغیر تحقیق کے کسی کا جھوٹ آگے پہنچائے، وہ بھی جھوٹا شمار ہوتاہے۔اللہ تعالی کا حکم ہے جب کوئی شخص کوئی خبر لے کر تمہارے پاس پہنچائے، ضرور اس کی سچائی اور صحت کے بارے میں تحقیق کریں۔ افسوس کی بات ہے کہ اس حوالے سے بہت سستی کا مظاہرہ ہوتاہے اور لوگ آسانی سے دوسروں کی باتوں کو شائع کرتے ہیں۔ حتی کی افواہ کے بنا پر لوگ قتل بھی ہوئے ہیں جو بعد میں ثابت ہوا ہے خبر جھوٹی تھی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے خطاب جاری رکھتے ہوئے ’علمائے کرام کے بیانات توڑ مروڑ کرنے‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: بہت سارے لوگ اپنی طرف سے جھوٹے بیانات گڑھ لیتے ہیں اور دوسروں سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کا مقصد علما کی کردارکشی اور اپنے ہم نشینوں کی رضامندی حاصل کرنا ہے؛ جو لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں ان کا شمار سب سے زیادہ فاسد اور برے لوگوں میں ہوتاہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: جو لوگ جھوٹ بولنے سے دوسروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا اپنے ساتھیوں کے لیے منفی پروپگینڈا کے لیے مواد فراہم کرتے ہیں، یہ بدترین لوگ ہیں جو دروغ گوئی کا ارتکاب کرتے ہیں اور جھوٹ بولنا بڑی بداخلاقی ہے۔ جھوٹ، افترا، الزام تراشی، خیانت اور گالی گلوچ نفاق کی نشانیاں ہیں۔ دورنگی بہت بری عادت ہے، مسلمان یکرنگ ہوتاہے۔ مگر آج کل بہت سارے مسلمان عالمی سامراجی طاقتوں اور صہیونی قوتوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان سے ملکر دورنگی سے کام لیتے ہیں۔
ممتاز عالم دین نے بے پردگی کو ’بداخلاقی‘ شمار کرتے ہوئے مزید گویا ہوئے: بعض خواتین میک اپ کرکے گلیوں اور بازاروں میں گھومنے لگتی ہیں یا سفر پر جاتی ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے بے پردگی ایک بہت بڑی بداخلاقی ہے۔ حیا اور غیرت سب سے اعلی اخلاق ہے۔ خوبصورتی، حسب و نسب، قوت اور دولت حیا کے بغیر بے قیمت ہیں۔ حیا سب سے بڑی زینت اور زیور ہے۔
نئے سال کے مسافر ہمارے مہمان ہیں
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایران میں نئے سال کی آمد کے موقع پر بڑے پیمانے پر شہریوں کے سیر و سیاحت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان دنوں میں جو لوگ ہمارے صوبے کا رخ کرتے ہیں سب ہمارے مہمان ہیں اور ان سے اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ بدخلقی ظلم ہے اور اس سے بدنامی ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: مہمانوں سے خاص برتاو رکھ کر دوکاندار حضرات اپنی اشیا مہنگی نہ کریں۔ منافع حد سے زیادہ نہ لیا جائے، بلکہ اچھے اخلاق سے پیش آئیں جس سے خوشنامی ہوتی ہے۔
قتل ناحق شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے آخری حصے میں قتل کے واقعات میں اضافے پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہمارے شہر اور بعض دیگر شہروں میں قتل کے واقعات بہت پیش آتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ خنجر اور چھری ساتھ لے کر اکثر نوجوان قتل کا مرتکب ہوتے ہیں یا ایسے واقعات میں اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں۔ حالانکہ شرک و کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ قتل ہی ہے۔
انہوں نے نمازیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: نوجوانوں کو نصیحت کریں کہ اپنے ساتھ چھری اور خنجر نہ لیں، بندہ جب غصے میں آتاہے تو فورا چھری نکالتاہے اور اپنے دفاع کا بہانہ کرکے ہمیشہ کے لیے جیل جاتاہے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتاہے۔ لہذا اس سلسلے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

آپ کی رائے