نوٹ: استاذالعلما شیخ التفسیر مولانا محمدیوسف رحیم یارخانی کا شمار پاکستان کے اجل علمائے کرام، ماہر فقہا اور سیاستدانوں میں ہوتاہے۔ آپ کے دینی ادارہ ’جامعہ عثمانیہ رحیم یارخان‘ وفاق المدارس العربیہ سے منسلک ممتاز مدارس میں ایک ہے جس میں سینکڑوں طلبا اپنی علمی و دینی پیاس بجھارہے ہیں۔ اہل سنت ایران کے علمی حلقوں میں بھی انہیں خاص مقام ہے۔ کچھ مہینے پہلے دارالعلوم زاہدان میں ان کی آمد کے موقع پر ’سنی آن لائن‘ نے ان سے خصوصی گفتگو کی تھی جو دو قسطوںمیں شائع ہوگئی تھی۔
ذیل میں حد رجم (سنگسار) کی ضرورت اور قرآن و سنت سے اس کے ثبوت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جامع مضمون پیش خدمت ہے۔
بحث دوم: حد رجم کا شرعی ثبوت: حد رجم کے ثبوت پر امت کا اجماع ہے۔ درج ذیل احادیث سے عملی اور قولی تواتر ثابت ہوتا ہے جو حد رجم کے ثبوت کی دلیل ہے۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرماتھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوکر کہنے لگا یا رسول اللہ بے شک میں نے زنا کیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا تو اس نے چار مرتبہ اس بات کو دہرایا سو جب چار دفعہ اس شخص نے اپنے اوپر گواہی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا اور فرمایا ’’تجھے جنون تو نہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا نہیں۔ فرمایا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا ’’ہاں‘‘۔ فرمایا اس کو لے جاؤ اور اس کو پتھروں سے ماردو۔ ابن شہاب نے کہا سو خبر دی مجھے اس شخص نے جس نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنھوں نے اسے رجم کیا۔ سو ہم نے اسے مصلی (نماز عید پڑھنے کی جگہ) پر رجم کیا تو جب اس کو پتھروں نے کمزور کردیا تو وہ بھاگا، ہم نے اس کو حرۃ کے مقام پر جا پایا اور پتھروں سے اس کو مارڈالا۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رجم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہوا اس لئے اس کو شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا جائے گا۔) [بخاری، ص۱۰۰۶]
ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت جنہوں نے زنا کیا تھا لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں سے کہا کہ تم اپنی کتاب میں کیسے پاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ بے شک ہمارے احبار نے تحمیم اور تجبیہ (منہ کالا کر کے ایک دوسرے کو پیٹھ دیکر گدھے پر سوار کرنا) ایجاد کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا یا رسول اللہ انہیں توراۃ لانے کا کہیے۔ چنانچہ توراۃ لائی گئی (جس میں آیت رجم موجود تھی) تو ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر کھ لیا اور وہ اس کا ماقبل اور مابعد پڑھ رہا تھا۔ حضرت ابن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ اوپر اٹھاؤ تو اچانک آیت رجم اس کے نیچے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے بار ے حکم دیا اور وہ دونوں پتھروں سے ماردیے گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خالی ہموار میدان میں ان کو سنگ سار کیا گیا اور میں نے دیکھا کہ یہودی اس یہودیہ پر پلٹ رہا تھا۔ [بخاری، جلد۲، ص۱۰۰۷]
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا کہ میں آپ کو قسم دیتا ہوں مگر یہ کہ آپﷺ اللہ کے حکم کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیں۔ تو اس کا فریق کھڑا ہوگیا جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا اس نے کہا کہ ہمارے مابین اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کہو‘‘۔ تو اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا جس نے اس کی بیوی سے زنا کرلیا اس کے بدلے میں نے ایک سو بکری اور ایک خادم اس کو دیا۔اس کے بعد میں نے چند علماء سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو درے اور ایک سال کی شہر بدری ہے اور اس کی بیوی پر رجم ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضے میں میرے جان ہے کہ میں تمہارے مابین اللہ کے حکم کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ سو بکری اور خادم تجھے واپس ہیں۔ تیرے بیٹے کو سو درے اور شہر بدری ہے اور حضرت انیس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ صبح اس کی بیوی کے پاس جاؤ سو اگر وہ اقرار کرلے تو اس کو سنگ سار کردو۔ صبح وہ اس کے پاس گئے تو اس نے اقرار کرلیا چنانچہ حضرت انیس نے اسے سنگ سار کردیا۔ [بخاری، جلد۲، ص۱۰۰۸]
ترجمہ: منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ آج میں ایک ضروری بات کہنے والا ہوں جو میرے ذہن میں آئی کہ میں کہوں ہو سکتا ہے کہ میری موت کا وقت قریب ہو۔ تو جو شخص اسے سمجھے اور اسے یاد رکھے تو جہاں تک اس کی سواری پہنچے وہاں تک اس کو پہنچادے اور جو یہ خطرہ کرتا ہے کہ اسے نہیں سمجھے گا اسے میں اجازت نہیں دیتا کہ میرے اوپر جھوٹ کہے۔ بے شک اللہ نے محمد کو سچا دین دیکر بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اتاری ہے۔ سو اس سے جو اللہ نے اتارا ہے آیت رجم بھی ہے۔ سو اس سے جو اللہ نے اتارا ہے آیت رجم بھی ہے۔ ہم نے اس کو پڑھا، اسے جو سمجھا اور اس کو محفوظ کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم والی حد جاری فرمائی اور ان کے بعد ہم نے بھی اس کو جاری کیا۔ سو مجھے خطرہ محسوس ہرتا ہے کہ لوگوں پر زمانہ دراز گزرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ قرآن میں آیت رجم نہیں ہے سو گمراہ ہوجائیں اللہ کے قانون کو ترک کرکے جس کو اس نے اتارا ہے۔ رجم اللہ کے حکم میں بر حق ہے اس شخص پر جو زنا کرے مرد ہوں یا عورتیں جب کہ وہ شادی شدہ ہوں اور ان پر گواہی قائم ہوجائے یا عورت کا حمل (زنا سے) ظاہر ہوجائے یا اقرار پایا جائے۔ [بخاری، جلد۲، ص۱۰۰۹]
یہ عملی احادیث ہیں جو قریباً باون صحابہ سے منقول ہیں جو کہ معنوی تواتر ہے (تکملہ فتح الملہم)۔ ابن ھمام رحمہ اللہ نے فتح القدیر ص ۱۳، جلد ۵، محمود آلوسی رحمہ اللہ نے روح المعانی، ص۸۹، جلد۱۵ اور شیخ شاہ ولی اللہ دہلوی نے حجۃ اللہ البالغہ، ص۱۵۸، جلد۲ میں واضح طور پر یہی بیان کیا ہے۔ رجم کی سزا کے بیان میں قولی حدیث درج ذیل ہے۔
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم الولد للفراش و للعاھر حجر۔ (بخاری ص۱۰۰۷، جلد۲)
ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بچہ اس کا ہے جس کا نکاح ہے اور زانی کیلئے پتھر ہیں‘‘۔
یہ حدیث انہی الفاظ کے ساتھ تیس سے بھی کچھ اوپر صحابہ سے نقل ہے۔ جیسا کہ حافظین نے فتح الباری ص۳۳، ج۱۲ اور عمدۃ القاری ص۱۰۰، ج۱۱ میں تصریح کی ہے اور اس طرح تکملہ شرح المہذب للمصطفی، ص۴۴۰، ج۱۴ میں بھی اس کی وضاحت ہے۔
القصہ یہ کہ قول و عمل اور لفظی اور معنوی تواتر سے حد رجم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور خلفاء راشدین کا بھی اس پر معمول رہا ہے جن کا دور خیرالقرون بھی ہے انہی لوگوں کے بارے اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
’’ وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ‘‘ (سورۃ توبۃ:۱۰۰)
ترجمہ: ’’اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور جو ان کے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے اور تیار رکھے ہیں واسطے ان کے باغ کی بہتی ہیں نیچے ان کے نہیریں رہا کریں انہی میں ہمیشہ یہی ہے بڑی کامیابی‘‘۔
لہذا اس دور خیرالقرون اور خلافت راشدہ کی اتباع بحکم قرآن فرض ہے۔
واقعات رجم کی تاریخ
عن براء بن عازب رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال بعد رجم الیھودیین: اللھم انی اول من احیا امرک اذا ماتوہ
ترجمہ: ’’حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودیوں کے رجم کرنے کے بعد فرمایا کہ اے اللہ میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو دوبارہ زندہ کیا بعد اس کے کہ انہوں (یہود) نے اس کو ترک کررکھا تھا۔‘‘ [صحیح مسلم، جلد دوم، ص۷۰، باب حدالزنا]
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ کنت جالسا عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذ جاء رجل من الیھود۔۔۔ الخ
ترجمہ:’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ یہودیوں میں سے ایک شخص آیا۔۔۔ الخ [تفسیر ابن جریر، ص۳۵، سورۃ المائدہ، جلد۶]
قال المحافظ فی الفتح جلد ۱۲ ص۱۵۲ فی باب احکام اھل الذمۃ ’’انہ (رجم الیھودی) وقع بعد فتح مکۃ فی السنۃ الثامنۃ‘‘ و قال عبداللہ بن الحارث بن الجراح ’’فکنت فیمن رجمھما‘‘
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے رجم کرنے کا واقعہ ۸ ہجری میں فتح مکہ کے بعد پیش آیا اور عبداللہ بن الحارث بن الجراح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنھوں نے ان دونوں کو رجم کیا تھا۔ [مجمع الزوائد، جلد ۶، ص۳۷۱]
و قال الحافظ: ان عبداللہ بن الحارث انما قدم المدینة مسلما مع والدہ بعد فتح مکة۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ مسلمان ہوکر فتح مکہ کے بعد اپنے والد کے ساتھ مدینہ تشریف لائے تھے۔
نیز دونوں یہودی اہل فدک میں سے تھے اور اس فیصلے کو اہل خیبرنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تھا اور ظاہر ہے کہ اس وقت خیبر مسلمانوں کے زیر نگیں ہوچکا تھا حتی کہ علماہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری، باب الرجم فی البلاط، ج۱۱، ص۱۵۳ میں لکھا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ اس واقعے کو احکام اھل الذمۃ میں نقل کرکے یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس وقت خیبر کے یہود ذمی بن چکے تھے۔
فائدہ
بنو قریظہ کے قتل کے بعد اگرچہ یہود کی اکثریت مدینہ اور گرد و نواح سے شہر بدر کردی گئی تھی لیکن پھر بھی کچھ یہود وہاں آباد تھے چنانچہ علامہ سمہودی وفاء الوفا، ص۱۶۳، ج۱ میں رقم طراز ہیں کہ:
ان یھود امن بنی ناغضة لم یزالوامقیمین فی شعب بنی حرام حتی نقلھم سیدنا عمر الی قریب من مسجد الفتح۔
ترجمہ: ’’بنی ناغضہ کے کچھ یہود شعب بنی حرام میں ہی مقیم رہے حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مسجد فتح کے قریب ایک جگہ پر منتقل کردیا۔
اور اسی بات پردرج ذیل حدیث بھی شاہد ہے:
ان درع النبیﷺ کان مرھونا عند رجل من الیھود عند وفاتهﷺ
ترجمہ:’’ بوقت وفات آپ ﷺ کی درع ایک یہودی کے پاس بطور رہن رکھی تھی‘‘۔
جبکہ قصہ افک احزاب سے قبل غزوۃ بنی المصطلق کے بعد پیش آیا اور حافظ ابن حجرؒ فتح الباری، ج۷، ص۲۳۲۔۲۳۳ میں دلائل سے ثابت کرتے ہیں کہ یہ غزوہ، احزاب سے پہلے ۵ ہجری میں پیش آیا تھا۔ بدرالدین عینی رحمہ اللہ بھی اسی کی تائید کرتے ہین (عمدۃ القاری، جلد۸، ص۲۶۶)۔
خلاصہ مبحث یہ کہ سورۃ نور ۵ یا ۶ ہجری میں نازل ہوئی اور رجم کے جتنے بھی واقعات ہیں سورۃ نور کے نزول بلکہ فتح مکہ کے بعد پیش آئے ہیں۔ کیونکہ سب سے پہلا واقعہ جس میں عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں موجود تھے۔ جبکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنہ ۷ ھ میں اور عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے ہیں چنانچہ واضح ہوا کہ باقی واقعات رجم فتح مکہ کے بعد ۸ یا ۹ ہجری میں پیش آئے۔
واقعہ حضرت ماعر رضی اللہ عنہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما موجود تھے (کما فی المستدرک للحاکم، ج۴، ص۳۶۱) اور یہ معلوم ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ کے ساتھ ۹ ہجری میں مدینہ تشریف لائے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری، ج۱۲، ص۱۰۶ میں اس کی تصریح کی ہے۔ اگرچہ اس کی سند میں مقال ہے تا ہم یہ بات صحاح سے متعین ہے کہ یہ واقعہ رجم یہودیین کے بعد کا ہے غامدیہ عورت اور مزدور کے رجم میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شریک تھے جیسا کہ صحاح میں مذکور ہے اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے چند ماہ پہلے مسلمان ہوئے اور مدینہ پہنچے۔ (طبقات ابن سعد، ص۲۵۲)
اس کے علاوہ وہ دو آدمی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلہ لے کر آئے ان کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عسیف کے باپ کو سو درے کا علم ہوا تھا اسی لئے تو وہ فیصلہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںآیا تھا اسی طرح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ افرمانا کہ: کنا عند النبی ﷺ فقام رجل۔۔۔ الخ (باب الاعتراف بالزنا) سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد کا واقعہ ہے کیونکہ وہ سنہ ۷ھ مین مسلمان ہوئے تھے اور یہ بات بھی یاد رہے کہ غامدیہ اور جہینیہ دونوں ایک ہی عورت ہیں۔ قال الغسانی: جھینہ و غامدیۃ و بارق واحد کہ جہینہ اور غامدیہ اور بارق سے مراد ایک ہی عورت ہے۔ (بذل المجہود، ص۱۳۵، ج۵)
امام ابوداؤد رحمہ اللہ یہی اشارہ دے رہے ہیں کہ جہینہ اور غامدیہ دونوں ایک ہی عورت کے دو نام ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جتنے بھی واقعات ہیں وہ ۸ یا ۹ ہجری کے ہیں۔ قول اور عمل دونوں تواتر سے ثابت ہیں لہذا تواتر کے ثبوت کے بعد بعض جزئی تفصیلات میں بعض اختلاف جو کہ رواۃ کے تصرف کا نتیجہ ہے، کو بہانہ بنا نا اور ان واقعات متواترہ کا انکار کردینا محض ضد، عنا اور مغرب زدہ ذہن کا نتیجہ تو ہو سکتا ہے اس کو نہ تو تحقیق کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی قرآن و سنت کی ترجمانی۔
بحث سوم:
رجم کی حد تمام آسمانی کتابوں کا متفقہ حکم ہے چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
’’پوری رکوع نمبر ۹ میں ان احکام الہیہ کا ہر زمانہ واجب العمل رہنا اور اس کا ترک حرام اور مورد وعید ہونا جن کا ظہور کبھی تورات کے واسطہ سے ہوا اور کبھی انجیل کے واسطہ سے اور اب قرآن مجید کے واسطہ سے ہے۔‘‘ (بیان القرآن، ص۳۸۲)
اللہ تعالی کے فرمان ’’ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَابِ اللّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَاء فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ‘‘ (سورہ مائدہ :۴۴) کی تفسیر میں امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ان ھذہ الآیۃ انمانزلت فی مسئلۃ الرجم فلا دب ان تکون الاحکام الشرعیۃ داخلۃ فی الآیۃ‘‘
ترجمہ: یہ آیت مسئلہ رجم کے بارے نازل ہوئی چنانچہ ضروری ہے کہ احکام شرعیہ بھی اس آیت میں داخل ہوں (تفسیر کبیر، ص۳۶۵، ج۴)
اسی طرح فرمان باری تعالی ہے ’’ وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُوْلَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ‘‘ (سورۃ مائدہ:۴۳)
ترجمہ: اور وہ آپ ﷺ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس توراۃ ہے جس میں اللہ کا حکم ہے‘‘۔
اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ’’ھذا تعجیب من اللہ تعالی لنبیه علیه السلام لتحکیم الیھود ایاہ بعد علمھم بما فی التوراۃ من حد الزانی ثم ترکھم قبول ذلک الحکم۔۔۔ الخ‘‘ کہ اس آیت میں اللہ تعالی اپنے نبی سے تعجب کرنے کا کہہ رہے ہیں کہ کیسے یہود نے توراۃ میں موجود زانی کی حد کے حکم کو جانتے ہوئے بھی اسے ترک کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم بنایا۔ (تفسیر کبیر، ج۴، ص۱۱)
فائدہ
جیسا کہ بیان ہوا کہ زنا کیلئے حد رجم کا حکم تمام آسمانی کتب میں یکساں طور پر موجود ہے چنانچہ اس کو تمام شریعتوں کا اجماعی مسئلہ کہا جائے گا جس پر پہلے انبیاء نے عمل فرمایا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
’’ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَابِ اللّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَاء فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ‘‘ (سورۃ مائدہ: ۴۴)
ترجمہ: ’’ہم نے توراۃ نازل فرمائی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا۔ انبیاء جو کہ اللہ تعالی کے مطیع تھے اس کے موافق حکم دیا کرتے تھے اور اہل اللہ اور علماء بھی بوجہ اس کے ان کو اس کتاب اللہ کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس کے اقراری ہوگئے تھے‘‘۔
اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم ہوا کہ: فاحکم بما انزل اللہ
یعنی شریعتیں اگرچہ ہر ایک کی اپنی اپنی تھیں تا ہم مسئلہ سب میں ایک ہی تھا۔ جیسا کہ توحید، رسالت اور آخرت کے مسائل تمام شریعتوں میں یکساں رہے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ ‘‘ (سورۃ آل عمران: ۶۴)
ترجمہ: ’’آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔‘‘
چنانچہ جو شخص بھی ان عقائد حقہ کو اختیار کرتا ہے اس کے بارے میں یہ ہرگز نہیں کہا جائے کہ یہ شخص تورات و انجیل پر عمل کررہا ہے بلکہ اس کا یہ عمل دین اسلام کا عمل ہی سمجھا جائے گا اس طرح رجم کا مسئلہ ہے کہ تمام شریعتوں میں مشترک ہونے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس پر عمل تورات پر عمل ہے بلکہ یہ عین اسلام کے حکم ہر عمل ہوگا۔
’’ وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِيهِ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ‘‘ (سورۃ مائدہ: ۴۷)
ترجمہ: ’’اور چاہئے کہ حکم کریں انجیل والے موافق اس کے جو اتارا اللہ نے اس میں اور جو کوئی حکم نہ کرے موافق اس کے جو کہ اتارا اللہ نے سو وہی لوگ ہیں نافرمان‘‘۔
قال ابوبکر فیه دلالة غلی ان ما لم ینسخ من شرائع الانبیاء المتقدمین فهو ثابت علی معنی انه صار شریعة للنبی صلی الله علیه وسلم الی ان قال فثبت بذلک انهم مامورون بامتثال احکام تلک الشریعة علی معنی انها قد صارت شریعة للنبی صلی الله علیه وسلم. (احکام القرآن للجصاص، ص442، ج2)
ترجمہ: ابوبکر جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت میں دلالت ہے کہ پہلے انبیاء کی شریعتوں میں سے جو باتیں منسوخ نہیں کی گئیں تو وہ بایں معنی اب بھی باقی ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بن چکی ہیں۔۔۔ چنانچہ اس سے ثابت ہوا کہ وہ اس طور پر اس شریعت کے احکامات کو بجا لانے کے پابند ہین کہ وہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بن چکی ہے۔
خلاصہ یہ کہ انجیل والے جو کچھ اس انجیل میں ہے اللہ تعالی نے اتارا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں اور وہ حکم جو انجیل میں موجود ہے اور منسوخ نہیں ہوا وہ اب آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کہلائے گی اور اس غیر منسوخ حکم کی اتباع اس آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع متصور ہوگی۔ ابوبکر جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: لان ما کان شریعة لموسی فلم ینسخ الی ان بعث النبی ﷺ فقد صارت شریعة للنبیﷺ۔ (ص۴۴۳، ج۲، احکام القرآن للجصاص)
ترجمہ: ’’موسی کیلئے جو کچھ شریعت تھی اور منسوخ نہیں ہوئی یہاں تک کہ نبی آخر الزمان مبعوث ہوگئے تو وہ اب اس آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بن چکی ہے‘‘۔
تورات والوں پر بھی اس حکم کی تعمیل اس معنوں میں فرض ہوگی کہ یہ اب آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہے۔
فائدہ
اشتراک حکم کے باوجود اسلام اور باقی شریعتوں میں حد رجم کے سلسلہ میں بعض جزئی تفصیلات میں فرق ہے جس کی توضیح درج ذیل ہے:
۱۔ تورات اور انجیل میں حد زنا صرف اور صرف رجم تھی جبکہ اسلام میں اس سزا میں تخفیف کر دی گئی کہ یہ سزا صرف اسی زانی کو ملے گی جو محصن یعنی شادی شدہ ہوگا غیرشادی شدہ کیلئے سو دروں کی سزا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ ’’الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ‘‘ [زانی عورت اور زانی ہر ایک کو دونوں میں سے سو کوڑے لگاؤ]
۲۔ سابقہ شریعتوں میں اس کے ثبوت کیلئے چار گواہوں کے علاوہ اور طریقے بھی موجود تھے مثلاً دلہا ثابت کردے کہ کنواری لڑکی باکرہ نہیں ہے تو پھر بھی اس کو حد رجم لگ جاتی تھی۔ کتاب مقدس استثناء آیت ۲۱ میں ہے کہ ’’اگر یہ بات سچ ہو کہ لڑکی میں کنوارے پن کے نشان نہیں پائے گئے تو وہ اس لڑکی کو اس کے باپ کے گھر کے دروازے پر نکال لائیں اور اس کے شہر کے لوگ اس کو سنگ سار کریں کہ وہ مرجائے‘‘
اسلام میں سزا کے ثبوت کیلئے چار گواہ لازمی قرار دیے گئے ہیں جو کہ قریب قریب ایک جیسی گواہی دیں اور اس گواہی میں تزکیۃ الشھود کے حوالے سے کڑی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ اگر چہ ماحول کو برائی سے پاک رکھنے کیلئے تعزیری تفصیلات ہیں تا ہم حد زنا صرف اسی وقت لاگو ہوگی جب یہ شرائط پوری ہوں گی۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: ’’لو لا جاء وا علیہ باربعۃ شھداء۔۔۔الخ‘‘
ترجمہ: یہ لوگ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے۔
اور اسی طرح ارشاد فرمایا:
’’ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاء فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ‘‘ (سورۃ نور: ۴)
ترجمہ: ’’اور جو لوگ تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو اور چار گواہ نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اسی درے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی قبول مت کرو‘‘۔
زنا کی سزا ایک فطری فیصلہ ہے اور بعض اوقات اللہ تعالی جانوروں کے ذریعے فطرت راہنمائی فرماتے ہین جیسا کہ ہابیل و قابیل کے قصہ میں ایک کوے نے قابیل کو فطری طریقے سے اپنے بھائی کی لاش کو چھپانے کا طریقہ سکھایا۔ باری تعالی کا ارشاد ہے:
“فَبَعَثَ اللّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الأَرْضِ” (الآیۃ)
ترجمہ: ’’پھر اللہ تعالی نے ایک کوا بھیجا جو زمین کو کھودتا تھا۔‘‘
اسی طرح بخاری میں مذکور بندروں کا واقعہ بھی اسی فطرت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
عن عمرو بن میمون قال رایت فی الجاھلیۃ قردا قد رجموا قردۃ۔۔۔الخ (بخاری، ج اول، باب القسامۃ فی الجاھلیۃ۔ ص۵۴۳)
ترجمہ: حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت مین کچھ بندروں کو دیکھا کہ وہ ایک بندر کو رجم کررہے تھے۔
بحث چہارم: آیات قرآنیہ کا مفہوم:
۱۔ ’’الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ ‘‘
ترجمہ: زانیہ عورت اور زانی مرد ہر ایک کو ان دونوں میں سو کوڑے لگاؤ‘‘۔
احادیث متواترہ کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا مصداق غیرشادی شدہ زانی اور زانیہ ہیں اور یہ کوئی آیت کی تخصیص یا تقیید نہیں ہے بلکہ ضابطہ ہے کہ ’’الاصل فی اللام العھد‘‘ (الرضی) کہ لام تعریف چاہے موصول کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو، اس میں اصل یہی ہے کہ یہ عہد خارجی کیلئے ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے یہی مراد متعین ہے۔
۲۔ قولہ تعالی: “فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ”
یہاں ’’المحصنت‘‘ سے مراد غیر شادی شدہ آزاد عورتیں مراد ہیں جو کہ الزانی اور الزانیۃ میں متعین ہوچکی ہیں۔ یہاں بھی الف لام عہد خارجی کا ہے چنانچہ اگر ان پر سو درے ہیں تو باندیوں پر پچاس درے ہوں گے۔
۳۔ ’’ وَيَدْرَأُعَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ‘‘ (سورۃ نور: ۸)
لعان کی صورت میں جب عورت نے انکار کیا اور عذاب اس سے ہٹ گیا۔ اس عذاب سے مراد غیرشادی شدہ والی سزا مراد لینا احتمالی معنی ہے۔ اس وقت تک نہ کسی عورت نے اقرار کیا تھا اور نہ اس عذاب کی شکل سامنے آئی تھی۔ ہاں جب غامدیہ عورت کا معاملہ سامنے آیا تو اس سے واضح ہوگیا کہ شادی شدہ عورت کیلئے جس عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد رجم ہے جو کہ تواتر سے ثابت ہے۔ محض احتمالی معنی سے تواتر کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔
۴۔ اللہ کا ارشاد ہے:
’’ يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ‘‘ (سورۃ احزاب:۳0)
ترجمہ: ’’اے نبی کی عورتوں جو کوئی کر لائے تم میں سے کام بے حیائی کا صریح، دونا ہو اس کو عذاب دہرا‘‘۔
یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے آداب کے بارے میں ہے۔ اس فاحشہ سے کیا مراد ہے اس کی وضاحت آیت کا سیاق کرتا ہے۔ قولی فاحشہ کی طرف ’’فلا تخضعن‘‘ میں اشارہ ہے کہ غیر مرد کے ساتھ بات نہ کرے اور فعلی فاحشہ کی طرف ’’لاتبرجن تبرج الجاھلیۃ‘‘ میں اشارہ ہے کہ عریان لباس میں خصوصا باہر پھرنا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج کیلئے ممنوع ہے۔
۵۔ ’’ وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ‘‘ (سورۃ النساء:۱۵)
ترجمہ: ’’اور وہ عورتیں جو بے حیائی کا کام کریں تمہارے بیبیوں میں سے سو تم ان عورتوں پر چار آدمی اپنوں میں سے گواہ کر لو سو اگر وہ گواہی دے دیں تو تم ان کو گھروں کے اندر مقید رکھو‘‘۔
اللہ تعالی نے تا حکم ثانی زانیہ عورتوں کو گھروں میں پابند رکھنے کا حکم فرمایا حتی کہ ۹ ہجری میں جس حکم کا انتظار تھا عملا اس کو نافذ کرکے دکھایا۔ عروۃ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’البکر باالبکر جلد ماءۃ و نفی سنۃ و الثیب بالثیب جلد ماءۃ و الرجم‘‘ [کہ غیرشادی شدہ کی سزا سو درے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور شادی شدہ کی سزا سو درے اور رجم ہے۔] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا‘‘
ترجمہ: ’’مجھ سے لے لو مجھ سے لے لو اللہ تعالی نے ان کیلئے راہ پیدا کردی‘‘
فائدہ
حدیث مذکور میں غیر شادی شدہ کیلئے سو درے اور ایک سال کی شہر بدری اور شادی شدہ کیلئے سو درے اور رجم کا بیان ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء راشدین کا عمل ہے جو کہ عملی تواتر ہے۔
فائدہ
حدیث جابر رضی اللہ عنہ میں ہے کہ: ’’ان رجلا زنا بامراۃ فامر النبی ﷺ فجلد ثم اخبر انہ قد کان احصن فامر بہ فرجم‘‘ ’’کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کر لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درے مارنے کا حکم دیا جو مارے گئے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ یہ شخص شادی شدہ ہے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا‘‘۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شادی شدہ کیلئے حد رجم ہی ہے جب تک علم نہیں تھا اس وقت تک تو اس پر غیرشادی شدہ کی سزا نافذ کی گئی اور جب علم ہوگیا تو پھر اس پر شادی شدہ کی سزا جاری کی گئی۔
تحقیق و تحریر: مولانا ابوالفتح محمدیوسف، سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل
مجلہ اجتہاد ، دسمبر ۲۰۱۲

آپ کی رائے