سعودی عرب نے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت اور اس کے اتحادی روس پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے الریاض میں اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”روس اور شامی فوج کے لڑاکا طیارے سیز فائر کی خلاف ورزیاں کررہے ہیں۔ہم اس سلسلے میں سترہ ممالک پر مشتمل شام معاون گروپ سے تبادلہ خیال کررہے ہیں”۔
شامی حزب اختلاف نے بھی صدر بشارالاسد کی حکومت اور اس کے اتحادیوں پر ہفتے کے روز پندرہ مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اتوار کو ان خلاف ورزی کے باوجود جنگ بندی پر عمل پیرا رہے گی۔
شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی (ایچ این سی) کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ”گذشتہ روز پہلا دن تھا جب لوگ سڑکوں پر نکل سکتے تھے”۔انھوں نے کہا کہ ایچ این سی اقوام متحدہ اور شام رابطہ گروپ میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کو حلب میں روسی فضائی حملوں اور الزبدانی میں حزب اللہ کے حملوں کے بارے میں مطلع کرنے کے لیے خطوط لکھے گی۔
انھوں نے بتایا کہ اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے امریکا کو بھی لکھا ہے کہ وہ جنگ بندی سمجھوتے پر عمل درآمد کی مانیٹرنگ کے طریق کار کی وضاحت کرے مگر اس کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔
درایں اثناء روسی فوج نے بھی اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران نو مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں لیکن زیادہ تر اس پر عمل کیا جارہا ہے۔شام میں روسی فوج کے رابطہ مرکز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سرگئی کرالینکو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اللاذقیہ میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے لیکن مجموعی طور پر شام میں اس پر عمل کیا جارہا ہے۔
حلب میں فضائی حملے
قبل ازیں برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے یہ اطلاع دی تھی کہ شام میں جنگی کارروائیاں روکنے سے متعلق سمجھوتے پر عمل درآمد کے آغاز کے ایک روز بعد ہی نامعلوم لڑاکا طیاروں نے شمالی صوبے حلب میں واقع چھے قصبوں اور دیہات پر بمباری کی ہے لیکن ان لڑاکا جیٹ کی شناخت واضح نہیں تھی۔شامی مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے روسی طیاروں نے اسد حکومت کی حمایت میں کیے تھے۔
آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا :”ہم نہیں جانتے کہ کس ملک کے لڑاکا طیاروں نے یہ فضائی حملے کیے ہیں اور ہمیں یہ بھی یقین نہیں ہے کہ اس کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھاجائے گا کیونکہ یہ واضح نہیں کہ حملوں کا نشانہ بننے والے قصبے جنگ بندی میں شامل ہیں یا نہیں”۔
شام کے سرکاری میڈیا نے ان حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے اور روسی وزارت دفاع نے بھی اس حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔امریکا اور روس کے درمیان طے شدہ جنگ بندی سمجھوتے کا اطلاق شام میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ پر نہیں ہوتا ہے۔
رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے جن بعض قصبوں پر بمباری کی ہے،ان پر النصرۃ محاذ اور بعض دوسرے اسلامی گروپوں کا کنٹرول ہے۔ان میں ایک قصبہ دیرت عزا بھی شامل ہے۔آبزوریٹری کے مطابق فضائی حملوں میں حلب کے مغرب میں واقع دیہات اور قصبوں قبطان الجبل ،اندان ،حریتان،کفر حمراء اور معرۃ العرتیق کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ان پر شامی باغیوں اور سابق فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کا کنٹرول ہے اور اس کے تحت علاقے جنگ بندی میں شامل ہیں۔
ایک باغی کمانڈر نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو ایک اور قصبے حرب نفسح پر حملے کی دو ویڈیوز بھیجی ہیں۔ان کے مطابق ایک حملہ اتوار کی صبح ساڑھے چھے بجے اور دوسرا سات بجے (0500 جی ایم ٹی) کیا گیا تھا۔اس فوٹیج میں بمباری کے بعد آسمان کی جانب دھواں بلند ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔
روس نے ہفتے کے روز شام کی فضائی حدود میں تمام پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ غلطی سے ایسے کسی ہدف کو نشانہ نہ بنایا جاسکے جو جنگ بندی کے تحت آتا ہے۔گذشتہ روز بظاہر جنگ بندی پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔ تاہم ایک باغی کمانڈر نے اطلاع دی تھی کہ حکومت نے خلاف ورزیاں جاری رکھی تھیں اور انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کو روکا نہ گیا تو جنگ بندی کا سمجھوتا ختم ہوسکتا ہے۔
جیش الحر سے وابستہ جیش النصر کا کہنا تھا کہ اسدی فوج نے صوبے حماہ میں مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے تھے اور مشین گنوں سے فائرنگ کی تھی جبکہ فضا میں لڑاکا طیارے بھی بدستور موجود رہے تھے۔اس گروپ کے میڈیا آفس کے سربراہ محمد رشید کا کہنا تھا کہ ”گذشتہ روز کے مقابلے میں تو یہ کچھ نہیں تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انھوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے”۔
جیش الحر سے وابستہ ایک اور گروپ علویات سیف الشام نے اطلاع دی ہے کہ دمشق کے مغرب میں واقع علاقے میں سرکاری فوج کی ٹینکوں سے گولہ باری سے اس کے دو جنگجو مارے گئے ہیں اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔
شامی فوج کے ایک ذریعے نے جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزی کی تردید کی ہے اور شام کے سرکاری میڈیا نے دمشق کے نزدیک داعش پر راکٹ باری کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ”جنگ بندی کی پاسداری کی جانی چاہیے تاکہ ملک میں گذشتہ پانچ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی مذاکرات کا عمل شروع کیا جا سکے”۔انھوں نے کہا کہ ”آج صورت حال مختلف ہے لیکن ہم روزانہ کی صورت حال کو مانیٹر کریں گے”۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

آپ کی رائے