بڑے پیمانے پر نامزد امیدواروں کی اہلیت مسترد کرنے پر تنقید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا:

گارڈین کونسل دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے قومی اتحاد مضبوط بناسکتی ہے

گارڈین کونسل دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے قومی اتحاد مضبوط بناسکتی ہے

اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے ایران کے پارلیمانی انتخابات میں شرکت کے لیے نامزد امیداروں کی اہلیت تصدیق کرنے کو ’گارڈین کونسل‘ کی فراخدلی و دوراندیشی قرار دیتے ہوئے کہا اس سے قوم میں مزید اتحاد و وفاق آئے گا۔
’سنی آن لائن‘ کے نامہ نگاروں کے مطابق، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے سنی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے بائیس جنوری دوہزار سولہ (گیارہ ربیع الثانی) کے خطبہ جمعہ میں رجسٹرڈ امیدواروں کی اہلیت مسترد کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے بہت سارے دشمن ہیں جو قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں، ایسے میں بڑی تعداد میں امیدواروں کی اہلیت مستردکرنا قومی مفاد میں نہیں ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ گارڈین کونسل جو امیدواروں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کرتی ہے، فراخدلی و دوراندیشی کا مظاہرہ کرے۔ کسی کو غلط فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: ہماری رائے میں جو لوگ دیگر قابلیتوں کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران کو تسلیم کرتے ہیں، ان کی اہلیت تصدیق ہونی چاہیے۔ آزاد اور اصلاح پسند امیدواروں کو مجلس شورا (پارلیمان) میں جگہ دینے سے تنوع اور گوناگونی آئے گی اور دشمن کو مایوسی ہوگی۔ امید ہے نظرثانی کی درخواستوں کو جانچ پڑتال کرتے ہوئے مزید امیدواروں کی اہلیت تصدیق کی جائے گی۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے کہا: اصلاح پسندوں میں بہت سارے قابل افراد موجود ہیں جنہوںنے ملک کی خدمت کی ہے اور ساتھ ساتھ وہ مجلس شورا کو طاقت ور اور متنوع بناسکتے ہیں۔ جو لوگ نااہل قرار دیے گئے ہیں، انہیں چاہیے قانونی راستوں سے اپنا مسئلہ حل کرائیں اور نظرثانی کی درخواست کرائیں۔ سب کچھ قانون اور آئین کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

جوہری مفاہمت اور پابندیوں کے خاتمہ سے اسرائیلی سازش ناکام ہوئی
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں معاشی پابندیوں کے خاتمے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: معاشی پابندیوں کا خاتمہ ایرانی قوم کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ الحمدللہ مذکورہ مفاہمت کے بعد ہمارے ملک کے خلاف جنگ رچانے کی سازش ناکام ہوگئی جس کے لیے صہیونی قوتیں سرگرم تھیں۔ اب تجارت کے دروازے کھول گئے ہیں اور معاشی سرگرمیوں کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ ملکی اثاثوں کے بڑے حصے واپس کردیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا: یوں معلوم ہوتاہے معاشی اور علاقائی لحاظ سے ایرانی قوم کا مستقبل روشن و تابندہ ہے۔ ہمارے بین الاقوامی تعلقات بڑھ جائیں گے۔ ہماری توقع اور امید یہی ہے کہ مسلم ممالک کے باہمی تعلقات میں استحکام آئے اور جن ممالک نے ہم سے تعلقات منقطع کیاہے، دوبارہ تعلقات بحال کردیں۔ مسلم ممالک کے سربراہوں کو چاہیے مسائل و اختلافات کے حل کے لیے ساتھ بیٹھ جائیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطاب کے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا: ہم نے ہمیشہ نصیحت کی ہے کہ جنگ اور لڑائی میں کسی کا فائدہ نہیں ہے اور یہ ہرگز کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مشرق وسطی میں جاری جنگ سے صرف دنیا و آخرت کا نقصان ہو رہاہے۔ لہذا شام، عراق اور یمن جیسے ملکوں کے مسائل کا واحد حل مذاکرات اور سیاسی گفتگو ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین