حق وباطل کا پہلا معرکہ

حق وباطل کا پہلا معرکہ

جنگ کا سبب ہمیشہ وحشیانہ انداز میں ذاتی انتقام ، بغض و عناد ، نفرت و دشمنی اور ہوس اقتدار و حصول مال ہوتا ہے جبکہ جہاد ایک ایسا پاکیزہ اور اعلیٰ ترین عمل کا نام ہے جس کا مقصد خدا کی رضا کا حصول اور انسان کو غیروں کی غلامی سے چھڑا کر اس کے حقیقی مالک خدائے لا شریک کے سامنے سر تسلیم خم کرانا ہے۔ غزوہ بدر حق و باطل کا پہلا معرکہ تھا کہ جس میں خدا نے اہل ایمان کو عظیم کامیابی سے نوازا ۔غزوہ بدر کا معرکہ کیسے عمل میں آیا تاریخ اسلام سے اس کے اسباب یوں مل رہے ہیں۔نا قابل بیان ،کربناک اور درد ناک اذیتیں سہنے شعب ابی طالب میںقید و بند کی صعوبتیں برداشت او ر سخت ترین اقتصادی ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کے بعد جب نبی صلعم کورب کائنات کی طرف سے ہجرت مدینہ کا حکم ملا تو آپ صلعم نے اپنے جانثار صحابہ کے ساتھ مدینہ طیبہ کی جانب سے ہجرت فرمائی۔ مدینہ کے اہل ایمان کی قسمت جاگ اٹھی جو آپ صلعم کی مدینہ تشریف آوری کے نہایت بے تابی کیساتھ منتظر تھے جونہی آپ جلوہ افروز ہوئے تو مدینہ طیبہ کے شجر و مدر اور کوہ ودمن نوری نبوی سے جگمگا اٹھے۔اہل مدینہ پرآفتاب رسالت مآب صلعم کی نورانی شعائیں پڑیں تو ان کی آنکھیں روشن اور دل منور ہوئے اہل مدینہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔انہوں نے’’ بدر کامل‘‘ سے تشبیہ دیکر آپ کیلئے گلہائے عقیدت پیش کئے۔ مدینہ کے ہر گھر کی یہ تمنا تھی کہ آپ صلعم اس میںرونق افروز ہوں لیکن آپ صلعم جس سواری پر مدینہ طیبہ میں جلوہ افروز ہوئے اس معاملے کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ’’ قصویٰ ‘‘جس گھر کے سامنے رک جائے گی آپ صلعم اس گھر کو تخصیصاً رونق بخشیں گے۔چنانچہ قسمت نے جلیل القدر صحابی سیدناابو ایوب انصاری کا بھر پور ساتھ دیا اور قصویٰ ا ن کے دولت خانے کے سامنے بیٹھ گئی۔یوں حضرت ابو ایوب انصاری کے ہاں اولین و آخرین کے سردار رونق افروزہوئے۔ آپ صلعم نے مدینے میں نزول فرمانے کے معاً بعد سب سے پہلا کام جو سر انجام دیا وہ ’’قبا‘‘ کے مقام پر’’ مسجدقبا ‘‘کی تعمیر کا تھا۔ اہل ایمان اور اہل تقویٰ نے اس مسجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس طرح آپ کی معیت میں اسلام کی اس پہلی مسجد کو نہایت ہی آن بان اور شان کے ساتھ تعمیر فرمایا۔ مسجد قباء کی تعمیر دراصل ریاست مدینہ کی خشت اول تھی اور جس پاکیزگی کے ساتھ کرہ ارض کی اس پہلی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تو مسجد قبا کی تعمیر نے انسان کے کرہ ارض پر مقصد و نظریہ حیات اور غرض و غایت کو نہایت پاکیزگی کے ساتھ واضح کیا۔
آپ جن خطوط پر اسلامی ریاست ’’مدینہ الرسول‘‘ کی تعمیر فرما رہے تھے وہ قریش کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا اور اسلامی ریاست کے قیام کو دیکھ کر وہ آتش انتقام میں سلگ رہے تھے۔ اس لئے وہ اس نوزائیدہ اور پاک ریاست کو تہہ و بالا کرنے کے نا پاک عزائم کے ساتھ اس ریاست کے خلاف گھنائونی سازشوں کا جال بننے لگے۔ اہل ایمان پر مزید قیامتیں ڈھانے اور مکہ کی طرح مدینہ طیبہ کی سر زمین بھی ان پر تنگ کرنے کیلئے قریش نے اپنے منصوبہ بند تجارتی قافلے کوا بو سفیان کی قیادت میں شام روانہ کر دیا ۔ اس تجارت سے کشید منافع کا مقصد اہل ایمان کے ساتھ جنگ و جدل جاری رکھنے کیلئے سامان فراہم کرنا تھا۔قریش کے ان نا پاک عزائم کے واضح ہو جانے پر نبی صلعم نے قریش کی اس اقتصادی رگ پر ضرب لگانے کا منصوبہ ترتیب دیاکہ جس سے انہیں اہل ایمان کیخلاف جنگ جاری رکھنے پر تقویت مل رہی تھی۔قریش کا جو کاروانِ تجارت ابو سفیان کی سرداری میں شام کو بھیجا گیا تھا اس پر مکہ کی پوری آبادی نے اپنی پونجی لگا دی تھی ۔ اس لیے قافلہ کی واپسی کا قریش بڑی شدت سے انتظار کر رہے تھے ابھی شام سے واپسی کے لئے قافلہ روانہ بھی نہ ہوا تھاتو ابو سفیان نے’’ ضمضم‘‘ نامی شخص ناقہ سوار کو مکہ دوڑایا کہ مکہ والوں کو یہ خبر دو کہ مسلمان قافلہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اس لئے فوراًمدد کرو کیونکہ مدینہ کے منافقین اور یہود کے ذریعہ سے ابو سفیان اہل ایمان کے منصوبے سے با خبر ہو چکا تھا۔ ادھر قریش تو پہلے سے بپھرے پڑے تھے۔ جب یہ افواہ مکہ پہنچی تو اس نے بارود میں چنگاری کا کام کیا، شعلہ بھڑک اٹھا۔ قریش نے لڑائی کی تیاریاں شروع کر دیں اور مدینہ میں یہ مشہور ہوا کہ قریش ایک ’’بھاری جمعیت ‘‘ لے کر مدینہ آرہے ہیں۔
قریش مدینہ طیبہ پر چڑھائی کرنے کے نا پاک ارادے سے مدینہ کی طرف چل پڑے ۔ عتبہ بن ربیعہ کی کمانڈ میں تقریباً ایک ہزار کی یہ فوج تھی اور ہر ممکن جنگی سازو سامان سے انہیں لیس کر دیا گیا تھاجن میں ابو لہب کے بغیر تمام روسائے قریش سب شریک تھے تا ہم ابو لہب نے گناہ کا طوق گردن میں ڈالنے کیلئے اہل ایمان کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے اپنا قائمقام بھیج دیا تھا۔ قریش کے پاس رسد کا معقول انتظام تھا فوج میں 100 سواروں کا رسالہ تھا اور کئی سواونٹ تھے۔ جنگی دستے میں سے600 زرہ پوش تھے۔ اس موقعہ پر قریش مکہ کو مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی حمایت اور ان کا بھر پور تعاون حاصل تھا۔ نبی صلعم کو اس ساری صورتحال سے آگہی ہوئی۔
چنانچہ آپ نے مدینہ کے اہل ایمان انصار اور مہاجرین کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ قریش مدینہ پر چڑھائی کیلئے نکل پڑے ہیں مدافعت پر آپ کا کیا مشورہ ہے؟ آپ صلعم نے انصار و مہاجرین کے سامنے پوری صورتحال رکھی کہ شمال کی طرف سے تجارتی قافلہ آرہا ہے اور جنوب کی طرف سے قریش کا لشکر تو مدینہ کے اہل ایمان کا جو بیک زبان جواب تھا اسے رہتی دنیا تک تاریخ اسلام نے اپنے سینے میں محفوظ بنا دیا۔ سردارانِ انصار کا کہنا تھا اے نبی اگر آپ ہمیں حکم فرمائیں گے کہ سمندر میں اتر جائو تو اس سے گریز نہیں کیا جائیگا۔ ہم صرف آپ کے حکم کے منتظر ہیں۔ مہاجرین نے بھی قریش سے نمٹ لینے کا عزم دھرایا تو آپ صلعم نے مدافعت کا راستہ اختیار فرمایا ۔ سرداران انصار کی حوصلہ افزاء تقریروں کے بعد یہ فیصلہ ہو گیا کہ’’ صاحب مدینہ ‘‘ اور اس ریاست کی جغرافیہ کا مکمل تحفظ کرنا ہے اور یہ کہ جم کر اور پوری مستعدی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس فیصلے کے بعدحق و صداقت کا کاروان نکل پڑا۔ سپہ سالار اعظم صلعم خود بنفس نفیس اس کاروان کی کمانڈ فرما رہے تھے۔قافلہ سخت جان میں شامل مقدس نفوس کی تعداد کل313 تھی جن میں60 مہاجرین باقی انصار تھے گھوڑے صرف دو تین تھے۔ سامان جنگ نہایت ہی کم اور نا کافی تھا یہاں تک کہ صرف چھ زرہیں تھیں ۔سواری کے لئے اونٹوں کی تعداد صرف70 تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ایک اونٹ تین چار اشخاص کے لئے تھا جس پر باری باری سے سوار ہو نا پڑا۔ اہل ایمان نہ صرف سامان حرب و ضرب کی قلت کا شکار تھے بلکہ لٹے پٹے اور ظلم کے ستائے ہوئے یہ عظیم المرتبت بندگان خدا کسمپرسی کی حالت سے بھی دو چار تھے۔ آپ صلعم کی مبارک قیادت میں مجاہدین اسلام پر مشتمل پہلی اسلامی فوج 16 رمضان المبارک 2الھجری کو بدر کے قریب پہنچی تواطلاع آئی کہ لشکر قریش وادی بدر کے سرے پر پہنچ آیا ہے۔ کاروان اسلام نے ’’بدر‘‘ کے مقام پراپنا پڑائو ڈالا اور دشمن کے لشکر کو آگے بڑھنے کے بجائے یہیں رکنے پر مجبور کردیا ۔
نبی صلعم بدر پہنچتے ہی رب کائنات کے سامنے سر بسجود ہوئے اورکاروان حق کی صحیح صورتحال رب کے سامنے نہایت ہی دلنشین اور دل آویزانداز میں یوں رکھی۔خدایا! یہ آپ کے بھوکے پیاسے بندے محض اسلام کی سر بلندی کیلئے نکل پڑے ہیںآج انہیں فتح مندی عطا کر کے شکم سیر فرما۔ یہ ننگے پیر چل کرتیری رضا کے حصول کیلئے مدینہ سے چل کر بدر پہنچے انہیں ایسی کامیابی سے ہمکنار فرما کہ واپسی پر یہ سواریوں پر مدینہ میں با وقار داخل ہو سکیں۔خدایا !اس کاروان کے پاس پہننے ، اوڑھنے اور تن ڈھانپنے کیلئے بھر پور مقدار میں لباس نہیں پھر بھی محض کلمتہ الحق کی سر بلندی کیلئے نکل پڑے انہیں آج ایسی سر فرازی عطا فرما کہ مال غنیمت سے مالا مال ہوں۔خدایا! اگر آج توحید کا یہ کاروان دشمنوں کے ہاتھوںختم ہوا تو پھر قیامت کے دن تک اس کائنات میں تیری توحید کا اقرار کرنیوالا کوئی باقی نہیں رہے گا۔
اسی اثناء میں بدر کا چشمہ’’جو آج کل موجود نہیں‘‘ کے پا س مشرکین کے دو غلام پانی پیتے پائے گئے جنہیں نبی صلعم کے پاس لے جایا گیا۔آپ صلعم نے ان غلاموں سے مکہ کے لشکر کا مقام دریافت کیا تو دونوں نے بتایا کہ وہ اس پہاڑے کے پیچھے ’’ عدوۃ القصویٰ‘‘ کے پاس ہے۔پھرفرمایاقوم کتنی بڑی ہے؟ دونوں نے جواب دیا بہت ہی زیادہ پھر دریافت فرمایا۔ان کا شمار کیا ہو گا؟جواب دیاہم نہیں جانتے۔ پھرآپ صلعم نے پوچھا ہر روز کتنے اونٹ ذبح کئے جاتے ہیں دونوں غلاموں نے جواب دیاکسی دن نو اور کسی دن دس تو آپ صلعم نے جانثار صحابہ سے فرمایا کہ قریشی لشکرنو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔
چنانچہ بدر کے قریب پہنچ کر قریش کو معلوم ہو گیا کہ ابو سفیان تجارتی قافلہ مع اپنا قیمتی سامان محفوظ طریقے سے مکہ پہنچ گیا چنانچہ اس خبر کو سن کر ابو جہل اوردیگر سرداروں نے فیصلہ کیا کہ سر زمین مدینہ پر چڑھائی ہو چکی ہے اب پلٹ جانا نا ممکن ہے دشمن کے تیور دیکھ کر آپ صلعم نے اپنے ممتاز جانبازجرنیلوں کے ساتھ میدان جنگ کا جائزہ لیا اور اس کی اسٹریٹجک پوزیشن کا معائنہ فرمایا۔اس دوران آپ صلعم نشاندہی فرماتے رہے کہ جنگ مسلط کرنیوالے سرداران قریش میں سے کل 17 رمضان کو کون کس جگہ مارا جائے گا۔ سپہ سالار اعظم کا انتہائی خطرہ کے موقع پر قطعی اطمینان پوری اسلامی فوج میں جو خود اعتمادی اور جوش ولولہ پیدا کر رہا تھا وہ محتاج وضاحت نہیں۔ دریں اثناء نزول وحی کے ذریعے سے اس جنگ کے موقع پر ایک اہم حربی ہدایت یہ فرمائی گئی کہ انگلیوں کے جوڑوں پر مارو ظاہر ہے کہ دشمن کو لڑائی کے لئے نا قابل کر دینے اور ساتھ ہی خونریزی کو حتی الامکان گھٹانے کی اس سے بہتر ہدایت کسی دست بدست معرکہ کے لئے نہیں دی جا سکتی۔
حق و باطل کا یہ پہلا معرکہ اسی جگہ ہوا جہاں اب شہدائے بدر کاقبرستان واقع ہے۔ غزوہ بدر کے موقعے پر پاکیزہ رضا کار خواتین اسلام بھی مقرر تھیں جو زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔ اپنی صف بندی مکمل کر کے انتظام کی طرف سے مطمئن ہو کرآپ صلعم اس ٹیلے پر تشریف لائے جہاں آپ کیلئے عریش(سائبان) تیار کیا گیا تھا اور جہاں سے میدان جنگ صاف نظر آ رہا تھا۔عریش پر ایک محافظ دستہ کا پہرہ بھی تھا۔آپ صلعم نے اس موقع پر نہایت عاجزی کے ساتھ رب کائنات سے فتح و نصرت ،کامیابی اور کامرانی کیلئے مسلسل دعا مانگتے رہے۔ اس معرکہ میں سب سے بڑا امتحان مہاجرین مکہ کا تھا جن کے اپنے بھائی بند جو ابھی تک حلقہ بگوش اسلام نہ ہوئے تھے اوردشمنان اسلام کی صف میں کھڑے تھے آج ان کی تلوار وںکی زد میں آرہے تھے۔نبی صلعم کے چچا عباس ؓ سامنے تھے۔سیدنا ابو بکر ؓ کے سامنے ان کا بیٹا عبد الرحمن تھا ، سیدنا عمر ؓ کے سامنے ان کے سگے ماموں تھے جبکہ سیدنا ابو حذیفہ کے سامنے ان کا والد عتبہ تھا۔اسی طرح رشتہ خون سے جڑے لوگ دیگر مہاجرین مجاہدین کے سامنے تھے۔ انصار کا امتحان بھی کچھ کم نہ تھا کیونکہ وہ تو اب کھل کر اسلام کی ا عانت میں جنگ کرنے کے لئے اس طرح نکل آئے تھے کہ کاروان نبوی صلعم میں ان کے تعداد مہاجرین کی نسبت زیادہ تھی۔ اس کا صاف یہ مطلب تھا کہ انہوں نے مقدس شہر اپنی بستی مدینہ کے خلاف سارے عرب کو دشمن بنا لیا تھا۔ حالانکہ مدینہ کی آبادی چند ایک ہزار سے زیادہ نہ تھی۔اس میں کوئی کلام نہیں کہ یہ امتحان انصار اورمہاجرین کیلئے یکساں سخت ، مشکل اور صبر آزماتھا لیکن اس کے باوجود اس کاروان میں اتحاد اور مثالی نظم و ضبط تھا۔خونی رشتے پر خدا ، رسول اور اسلام ترجیح پا چکا تھا ۔
دوسری طرف قریش میں یہ کمزوریاں تھیں کہ اول تووہ(Baseless ) تھے وہ محض اپنی سرداری کیلئے اہل ایمان کیخلاف بر سر جنگ تھے ۔ وہ باطل کے پرستار تھے ۔ جس وجہ سے ان میں باہم اتفاق نہ تھا۔ ان کی فوج میں کوئی ترتیب و صف بندی نہ تھی وہ اس قدر مرعوب ہو گئے تھے کہ اسلامی فوج کا تخمینہ غلط لگا رہے تھے انہیں اہل ایمان کے ساتھ فرشتوں کی شرکت سے اہل ایمان کی تعداد زیادہ دکھائی دے رہی تھی۔وہ اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کو اپنے آپ سے کئی گنا دیکھ رہے تھے۔دوسری طرف پچھلی رات بارش ہو جانے کی وجہ سے بالائی حصہ میں جہاںاہل ایمان کاکیمپ قائم تھا پانی کے ذخیروں کے علاوہ جن کا وضو و غسل کے لئے استعمال کر سکتے تھے ،ریت جم گئی جس سے زمین سخت ہو جانے سے قدم جمنے اور نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہو گئی۔ علی الرغم اس کے نشیبی حصہ جہاں دشمن کا کیمپ تھا کیچڑ میں تبدیل ہو گیا جس سے دشمن پائوں دھنسنے لگے۔ بارش ہو جانے سے دشمن کی سپہ رات بھر بے اطمینانی کی وجہ سے سو بھی نہ سکی اور وہ صبح تھکے ہوئے اور سست ہو چکے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ معرکہ شروع ہوتے ہی قریش کے پیر اکھڑنے لگے۔ بالآخر ان کا ایک عام حملہ ہوا تب نبی صلعم نے تیروں کی بارش کا حکم دیدیا ان تیروں نے سواروں کو گھوڑوں سے اتار پھینکا ، گھوڑے مڑ کر بھاگے اور پیادہ فوجوں کی صفوں کو توڑ دیا۔ وہ ایسے بد حواس ، ہراساں اور منتشر و سراسیمہ ہو کر بھاگے کہ ان کی اپنی ہی کمندیں طوق گردن بنی ہوئی تھیں۔ بھاگنے والے بوجھل ہو کر اپنے جھلم ، خود ، زرہیں اور دیگر ہتھیار پھینکتے جاتے تھے جنہیںصحابہ کرام اٹھاتے جاتے تھے اس طرح باطل کے پرستاروں کا شیراہ بری طرح بکھر گیا۔
خاتمہ جنگ پر معلوم ہوا کہ صرف14 صحابہ نے شہادت پائی جن میں6 مہاجر ین اور8 انصار تھے جبکہ قریش کے 70 جنگجو مارے گئے اور اتنے ہی قید ہوئے مارے جانے والوں میں ان کے قبائل کے بڑے بڑے سردار جو قریش کو اسلام کی مخالفت پر ابھارنے والے تھے سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ شیبہ ، عتبہ ، ابو جہل ، امیہ وغیرہ ، ان کی ہلاکت نے قریش کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی۔ اس طرح بدر میں سردارانِ قریش کی ہلاکت سے تحریک اسلامی کی جڑ یں مضبوط ہو گئیں۔ قرب و جوار کے علاقوں پر مسلمانوں کی دھاک جم گئی اور معرکہ بدر کے مثبت اثرات نے مدینہ میں منافقین و یہود کو بھی ڈھیلا کر دیا۔ ادھر مکہ میں شکست خوردہ مشرکین کی واپسی پر کہرام مچ گیا ،ہر گھر ایک ماتم کدہ بنا ہوا تھا لیکن غیرت کی وجہ سے قریش، نے منادی کرا دی کہ کوئی شخص رونے نہ پائے۔ نبی صلعم نے شہداء بدر کو سپردخاک کرنے کے ساتھ ہی دشمن کو بھی پاس ہی کے ایک پرانے وسیع کنویں(قلیب) میںگڑھا برد کرا دیا۔ واپسی سے قبل آپ پہاڑی سے اترتے ہوئے اس گڑھے( قلیب) کے قریب تشریف لائے جس میں روسا ئے قریش گڑھا برد تھے اور پھر ان سے ایک ایک کا نام لے لے کر پکارا اور فرمایا۔ کیا تم نے اس وعدے کو حق پایا جو میرے رب نے میرے ذریعے سے تم سے کیا تھا اور تحقیق میں نے اس وعدے کو حق پا لیا ہے جو میرے رب نے مجھ سے کیا تھا۔سرداران قریش کا ہلاک ہو جانا قریش کیلئے صدمہ عظیم تھا ۔شیبہ ، عتبہ ، ولید ، ابو جہل ،امیہ بن خلف ،ابو البختری ،ذمعہ بن اسود اور عاص بن حشام قریش کی صف اول کی قیادت تھی ۔جو پوری کی پوری غز وہ بدر میں ہلاک کر دی گئی ۔غزوہ بدر نے یہودیوں کی خباثت ، بد ظنی ، مکروفریب اور سازشوں کا پردہ چاک کر دیا نیز اس غزوہ نے تمام قبائل عرب میں یہ احساس پیدا کیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ کہ اسلام کے سامنے سر تسلیم خم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
میدان بدر کا نام زمانہ قدیم میں موجود اس علاقے کے ایک چشمہ بدر کے نام پر پڑ گیا یہ چشمہ زمین دوز تھا۔ جس کا بہائو بستی سے جبل عریش کے دامن سے ہوتے ہوئے نخلستان کی طرف تھا۔ بدر کا میدان تقریباساڑھے پانچ میل لمبا اور4 میل چوڑا ہے۔ اطرف میں بلند پہاڑ ہیں یہ مکہ، شام اور مدینہ جانے والے راستوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ میدان سنگلاخ یا ریتیلا ہے مگر جنوبی مغربی حصہ کی زمین نرم ہے۔ بدر کا وہ مقام جہاں قریش کا پڑائوتھا کسی حد تک دلدل نما بن گیا۔اب وہیں سر سبز نخلستان ہے اطراف کے پہاڑوں میں سے دو سفید ریت کے تودے نظر آتے ہیں۔ آج بھی ان سفید پہاڑوں میں سے ایک کو’’ العدوہ الدنیا ‘‘اور دوسرے کو’’ العدوۃ القصوی‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان جنوب مغرب میں جو ایک اونچا پہاڑ ہے اسے اب ’’جبل اسفل‘‘ کہتے ہیںاس کے پیچھے دس بارہ میل پر بحر احمر ہے۔ میدان کے بیچ میں بستی سے ملحق ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس پر یادگار’’ مسجد عریش ‘‘ کے نام سے ایک مختصر سی مسجد ہے۔ اسی مسجد کے مقام پر نبی صلعم کے لئے عریش بنایا گیا تھا۔آج کل کھجور کے اونچے درختوں کے جھنڈ کی وجہ سے معرکہ کارزار نہیں نظر آتا۔

رافع رسول
بصیرت فیچرس


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین