مدارس کی تباہی اور فتنہ و فساد کے اسباب

مدارس کی تباہی اور فتنہ و فساد کے اسباب

آج کل مدارس میں فتنہ و فساد اور بے برکتی ہو رہی ہے کہ جائز ناجائز کو بھی بہت کم دیکھا جاتا ہے۔ چنانچہ بدوں طیب خاطر (دلی رضامندی کے بغیر) کسی سے وصول کرنا بالکل ناجائز ہے اور اس سے احتیاط شاذ و نادر کی جاتی ہے۔ (الافاضات الیومیہ ص۲۶ ج۸)

عمومی مرض
بعض باتیں ظاہر کرنے کی نہیں ہوتی مگر اس لئے ظاہر کئے دیتا ہوں کہ شاید اس کو سن کر لوگ اپنی حالت درست کرلیں اس وقت لوگوں میں یہ مرض بہت شدت سے پھیل رہا ہے کوئی تو خاص اصلی گناہ ہی میں مبتلا اور کوئی اس کے مقدمات یعنی اجنبی لڑکے یا اجنی عورت پر نظر کرنا حدیث میں ہے ’’اللسان یزنی الخ‘‘ اس میں ہاتھ لگانا بری نگاہ دیکھنا سب داخل ہے۔ یہاں تک کہ جی خوش کرنے کے لئے کسی حسین لڑکے یا لڑکی سے باتیں کرنا یہ بھی زنا اور لواطت میں داخل ہے اور قلب کا زنا سوچنا ہے جس سے لذت حاصل ہو۔ جیسے زنا میں تفصیل ہے ایسے ہی لواطت میں بھی اکثر لوگ مبتلا ہیں۔ شاید ہزار میں ایک اس سے بچا ہو ورنہ ابتلاء عام ہے۔
جب تھانہ بھون میں طاعون پھیلا تو طاعون کے قبل ایک روز اخیر شب میں بیٹھا ہوا تھا۔ نیند کا سا غلبہ ہوا اور قلب میں آیت آئی ’’انا منزلون علی اہل ہذہ القریۃ رجزا من السماء بما کانوا یفسقون‘‘ جو کہ قوم لوط پر عذاب کے ذکر میں آئی ہے اس پر میں نے لوگوں کو آگاہ کیا اور میں جانتا ہوں کہ اس زمانہ میں لواطت کا مرض لوگوں میں زیادہ ہے اس سے توبہ کرو، ورنہ عذاب کا اندیشہ ہے میں نے اس کو وعظ میں بیان کیا مگر لوگوں نے توجہ نہ کی آخر کار عذاب آہی گیا اور بہت طاعون پھیلا، غرض ایک سبب وہ بھی نکلا جو قوم لوط میں تھا۔ (حسن العزیز ص۱۶۱ ج۴۔ دعوات عبدیت ص۱۱۸ ج۹۔ الاتعاظ بالغیر)
فرمایا کہ طلبہ میں آزادی بہت ہی آگئی ہے۔ ہر شخص خود مختار ہوگیا کہ جو چاہتا ہے کرلیتا ہے یہی وہ مرض ہے جو دیوبند کے طلباء میں بڑھ کر ان واقعات کا سبب بن گیا جو آج کل ظاہر ہو رہے ہیں۔ (یعنی ہنگامہ اسٹرائک) (التبلیغ ص۸ ج۱۸)

اختلافات کی جڑ و بنیاد
فرمایا ہمارے حضرت مرشد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اختلاف و منافرت کی بنیاد کبر ہے۔ اختلاف ہمیشہ نفسانیت اور ترفع سے ہوا کرتا ہے۔ (مجالس حکیم الامت ص۲۷۸۔ حسن العزیز ص۲۴۲ ج۴)

اتحاد و اتفاق کس طرح باقی رہ سکتا ہے
حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے اتفاق کی جڑ تواضع ہے۔ وہ متکبروں میں کبھی اتفاق نہیں ہوتا کیونکہ جب کسی شخص میں تواضع ہوتی ہے تو اس کو یہ مشکل نہیں معلوم ہوتا کہ اپنے آپ کو دوسرے کا تابع بنادے اور اپنی رائے کو دوسرے کی رائے کے مقابلہ میں اصرار نہ کرے۔ اور متکبر سے یہ کام کبھی نہیں ہوتا۔ (تجارت آخرت ص۳۰)
اتفاق کی جڑ تواضع ہے جو لوگ متواضع ہوں گے آپس میں نزاع ہو ہی نہیں سکتا اور بدوں تواضع کے کبھی اتفاق پیدا نہیں ہوسکتا۔ (محاسن اسلام۔ مأخوذ وصیۃ العرفان)

مدارس میں انجمن بازی کی خرابی
فرمایا میں متعارف انجمن بازی کے خلاف ہوں خصوصا مدارس دینیہ میں۔ کیونکہ اس سے حریت پیدا ہوتی ہے جو مدارس کے واسطے زہر ہوجاتی ہے۔
ایک مولوی صاحب نے یہ کیا کہ پڑھنے والے لڑکوں کی انجمن بنائی۔ کسی طالب علم سے قصور ہوجاتا تو طلبہ سے مشورہ لیتے کہ کیا سزا دینا چاہئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دن سب طلبہ نے متفق ہوکر کسی بات میں مولوی کی مخالفت کی۔ آخر مولوی صاحب کو علیحدہ ہونا پڑا، یہ اثر ہے آزادی کا۔
دوسری بات یہ ہے کہ ایسی انجمنوں میں تقریر بھی لازم ہے اور تقریر کی فکر میں درسیات کا مطالعہ نہیں کرتے مضمون ہی تلاش کرتے رہ جاتے ہیں، تعلیم مقصود چو پٹ جاتی ہے۔ اس لئے میں نے اپنے یہاں یہ انتظام کیا ہے کہ اگر کوئی کافیہ پڑھنے والا ہے تو کافیہ ہی کا کوئی مضمون دے دیا کہ اس کی تقریر کرو اور اگر مشکوٰۃ پڑھ چکا ہے تو کوئی حدیث دے دی کہ اس کی تقریر کرو اس سے زبان بھی کھل جاتی ہے یعنی بولنے کا عادی بھی ہوجاتا ہے اور پڑھانے کا ڈھنگ بھی آجاتا ہے اور تعلیم کا نقصان بھی نہیں ہوتا۔ (الکلمۃ الحق ص۱۲۴)
آج کل کے جلسے اور انجمنیں بالکل رسم بلامعنی ہیں اور صورت میں بھی ٹھیک نہیں اور لوگوں نے ان کو محض رسم سمجھ کر اختیار کیا ہے، نفع پہنچانا ہرگز مقصود نہیں۔ (تجارت آخرت)

آپس کے اختلافات گروہ بندیاں اور ان کی مذمت
با وجود اس کے کہ سب مدارس اسلامیہ کی غرض متحد ہے مگر پھر بھی ان میں سے بعض میں باہم تزاہم و تصادم ہوتا ہے کہیں اعلانیہ کہ ہر مدرسہ کی طرف سے دوسرے مدرسہ کے خلاف تحریراً و تقریراً سعی ہوتی ہے، اشہارات میں دوسرے کو گھٹایا جاتا ہے، اہل چندہ کو دوسری جگہ اعانت کرنے سے منع کیا جاتا ہے اور کہیں خفیہ طور پر کہ عوام کو تو اطلاع نہ ہو مگر کارکن لوگ اور دوسرے اہل فہم بھی سمجھ جاتے ہیں پھر شدہ شدہ عوام پر بھی اس کا ظہور ہوجا تا ہے۔ اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ عوام یہ گمان کرتے ہیں کہ بس یہ مدارس اسی غرض سے قائم کئے گئے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے مال و جاہ حاصل کریں۔ پھر یہ تزاحم یہاں تک ترقی کرتا ہے کہ اہل چندہ سے متجاوز ہوکر طالب علموں تک کو کہ ہر مدرسہ اپنی طرف کھینچتا ہے حتی کہ بعض اوقات طالب علموں کی اطاعت کی جاتی ہے۔ یہ سب دلیل ہے عدم خلوص اور عدم للّہیت کی۔

تحفۃ العلماء جلد اول ص ۹۳۔۹۵، مطبوعہ دارالشاعت کراچی ۲۰۰۷
مرتب: حضرت مولانا مفتی زید مظاہری ندوی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین