فلسطین میں انسانی حقوق کے سرگرم اداروں کی جانب سے جاری اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ نومبر میں صہیونی فوج کی جانب سے بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاون عروج پر رہا۔ اس دوران 233 کم عمر لڑکوں سمیت 533 افراد کو حراست میں لیے کرجیلوں میں ڈالا گیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’’کلب برائے اسیران‘‘ کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر میں گرفتار کئے گئے بعض افراد کو کڑی شرائط کے تحت رہا کیا گیا ہے۔ بعض کو رہائی کے بعد گھروں میں نظربند کیا گیا، کچھ کو علاقہ بدر کیا گیا اور بعض سے جرمانوں کی آڑ میں بھاری رقوم وصول کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کا الخلیل شہر گرفتاریوں کے حوالے سے پہلے نمبر پر رہا، جہاں سے دو خواتین آمال السعدہ اور ھالہ ابو سل سمیت 120 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ رام اللہ سے 43، بیت لحم سے 34، نابلس سے 30، جنین سے 26، طولکرم سے 19، طوباس سے 12، اریحا سے چھ، قلقیلیہ سے آٹھ اور سلفیت سے پانچ شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں کی جانب سے ایک تازہ کارروائی مین 13 فلسطینیوں کو گذشتہ شب حراست میں لیا گیا۔ ان میں چھ کا تعلق الخلیل شہر سے بتایا جاتا ہے۔ محروسین میں 16 سالہ عمادالدین عصافرہ سمیت کئی دوسرے کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین

آپ کی رائے