شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے دہشت گردی و شدت پسندی کی ’اصل وجوہات‘ سے مقابلے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے جو طاقتیں دنیا میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے دعوا کرتی ہیں وہ خود اس کے باعث ہیں۔
جمعہ پانچ ستمبر دوہزارچودہ میں زاہدان شہر کے فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا*خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» [کهف:107-108]، (بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے انکی مہمانی کے لیے فردوس (یعنی بہشت) کے باغ ہوں گے۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (نہ ان کو کوئی نکالے گا اور) نہ وہاں سے کہیں اور جانا چاہیں گے۔) کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: آج کی دنیا میں لوگ خوش ہیں کہ سائنس نے ترقی کی ہے اور وہ تہذیب، ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کے دور میں رہ رہے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ انسان کی تمام تر توجہ مادی اور ظاہری اسباب پر ہے اور اخلاق و روحانی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس حوالے سے انسان پستی کا شکار ہوچکاہے اور اللہ پر ایمان لوگوں میں کمزور ہوچکاہے۔ لوگوں کی تمام تر کوششیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اپنی دنیا آباد کرلیں۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے دورحاضر میں مسلمانوں کی ایمانی و دینی کمزوری وپستی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو مسلمان دین اسلام کو برتر و پسندیدہ دین سمجھتے ہیں وہ بھی اللہ تعالی کے احکام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں، کوٹھیوں اور لباس و سواری کی خوبصورتی کے لیے محنت کرتے نہیں تھکتے ہیں، لیکن اپنے اخلاق اور اعمال کی اصلاح کے لیے بہت کم کوشش کرتے ہیں۔
آج کی جاہلیت ریکارڈ توڑ ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے عصرحاضر کی جاہلیت و بربریت کو اسلام سے قبل کی جاہلیت سے کئی گنا اضافہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: لوگوں کی بڑی تعداد اس غلط فہمی میں ہے کہ دنیا میں کوئی بند دروازہ ان کے لیے نہیں ہے اور انہوں نے مکمل ترقی حاصل کرلی ہے۔ انہیںمعلوم نہیں کہ دراصل وہ پستی اور زوال کا شکار ہوچکے ہیں۔
مولانا نے مزیدکہا: آج ایسے اسلحے ایجاد ہوچکے ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاسکتے ہیں اور ہزاروں لوگ بیک اشارہ اپنی جانیں گنوا سکتے ہیں۔ دوران جاہلیت میں ایسے اسلحے اور اتنی سربریت نہیں تھی۔ آج سیٹلائیٹ، میزائل اور ڈرون طیارے جیسے آلات حرب انسانی معاشرے کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور ماحولیاتی خطرات بھی پیدا ہوچکے ہیں۔
دنیا کی سیاست ’خیانت ومنافقت‘ پر مبنی ہے
مولانا عبدالحمید نے آج کی دنیا میں سیاست کو خیانت اور منافقت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا: طاقتور ممالک ہمیشہ اس سوچ میں ہیں کہ دیگر قوموں کو کیسے لوٹیں اور ان کے ملکوں پر اپنا قبضہ جمائیں۔ ان کے دعووں اور کردار میں بہت فرق ہے؛ وہ مسکراہٹ سے ظاہر ہوکر خوبصورت الفاظ کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے ارادے کچھ اور ہوتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر دنیا میں دوغلاپن اور منافقت پھیل چکی ہے۔ دیانت اور سچائی کا درخت کمزور ہوچکاہے اور ریاکاری ودورنگی کو سیاست کا نام دیاگیاہے۔ افسوس کی بات ہے کہ انسان کی جان بے قدر ہوچکی ہے اور حیرت انگیز طورپر لوگوں کا خون بہایاجارہاہے۔ لوگ کسی جرم کے بغیر قتل عام ہوتے ہیں۔
مسلمان اپنے دشمنوں کے عزائم سے واقف نہیں ہیں
مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے بعض مسلمانوں کی کوتہ فکری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کی سازشوں سے واقف ہونا چاہیے؛ جو اسلام اور مسلمانوں سے عداوت کرتے ہیں انہیں پہچاننا ضروری ہے۔ بعض مسلمان سامراجی طاقتوں کو اپنے خیرخواہ اور انسانیت کی نجات وفلاح کے لیے کوشاں سمجھتے ہیں، حالانکہ ان کے لیے صرف ان کے اپنے مفادات اہم ہیں۔ یہ طاقتیں قوموں کی گردنیں کاٹ کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اپنا اسلحہ فروخت کرکے دیگر ملکوں کو تباہ وبرباد کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔ اس کے باوجود مسلمان ان سے بھلائی اور امید کی توقع رکھتے ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے اقوام متحدہ، سکیورٹی کونسل اور عالمی سامراجی طاقتوں سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ اگر ان اداروں نے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا تو مسلمانوں کی حالت اب یہ نہ ہوتی۔
مولانا نے دہشت گردی سے مقابلہ کے دعویدار ملکوں کو مسلمانوں کے بہت سارے مسائل کے باعث اور سبب قرار دیتے ہوئے کہا: سامراجی طاقتیں روز کسی نہ کسی ملک پر چڑھائی کرکے دہشت گردی کی بیخ کنی کا بہانہ پیش کرتی ہیں۔ ایسے میں بعض سادہ لوح مسلمان ان کو اپنا ناجی اور خیرخواہ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہی طاقتیں خود مسلمانوں کے متعدد مسائل کی جڑیں ہیں۔ جہاں بھی ان طاقتوں نے قدم رکھاہے تو سامراجی طبیعت اور ظالمانہ سوچ ان کے ساتھ رہی ہے۔ اگر ایک خرابی سے مقابلہ کرتی ہیں تو درجنوں اور خرابیاں پیدا کرنے کے باعث بن جاتی ہیں۔ کوئی نقطہ ایسا نہیں ہے جہاں ان کی آمد کے ساتھ ساتھ بدامنی نہ پھیل چکی ہو۔ افغانستان اور عراق میں مغربی ملکوں نے چڑھائی کرکے انہیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیاہے۔ پاکستان جو ایک پرامن ملک تھا، ان ہی طاقتوں کی مداخلت کے بعد ایک بدامن ملک بن چکاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: مغرب تشدد اور خوں ریزی سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہتاہے، حالانکہ اس کے انسداد کے لیے محض تشدد اور کشت وخون کافی نہیں ہے، عقل اور تدبیر سے کام لینا چاہیے۔ اسلامی معاشرے کے مسائل خاص کر مسئلہ فلسطین کا حل نکال کر دہشت گردی کا سدباب ممکن ہے۔ لہذا دہشت گردی کے انسداد عقل سے کام لے کر ممکن ہے محض طاقت سے نہیں۔
حضرت شیخ الاسلام نے اپنے بیان کے آخر میں کہا: علت سے مقابلہ ضروری ہے معلول اور نتیجے سے نہیں؛ دیکھنا چاہیے دنیا میں بدامنی کیوں پھیل چکی ہے۔ لڑائی، تشدد اور کشت وخون سے مزید لڑائی اور تشدد پیدا ہوتاہے۔ دنیا کے مسائل کا حل لڑائی اور خونریزی سے ممکن نہیں ہے۔ اس مہم کے لیے دوراندیشی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

آپ کی رائے