ممتازسنی عالم دین نے عراق میں ’کسی بھی گروہ‘ کی طرف سے لوگوں کے قتل وخونریزی کی مذمت کرتے ہوئے ایک ’جامع حکومت‘ کی تشکیل کو اس ملک کی نجات کا واحد راستہ قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بیس جون دوہزارچودہ کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں عراق کی جاری تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: عراق میں جاری تبدیلیوں اور نئے منظرنامہ نے سب کو ہلاکر رکھ دیاہے اور عراقی قوم کے خیرخواہ تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں کہیں یہ ملک تقسیم کا شکار نہ ہوجائے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں عراق کے قومی اتحاد کو ٹھیس پہنچے گا اور یہ ملک پارہ پارہ ہوجائے گا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: اگر ہم غیرجانبداری سے مسلم ممالک کے حالات کا جائزہ لیں تو واضح ہوگا انتہاپسندی و شدت پسندی کو ناانصافی اور قوموں کی باتوں پر توجہ نہ دینے سے تقویت ملی ہے۔ بعض لوگ حکومتوں کے رویوں کے تاب نہیں لاتے ہیں اور جب تمام رستوں کو بند دیکھتے ہیں، تو تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لہذا انصاف کی فراہمی اور عوام کی بات سننے سے انتہاپسندی کا مقابلہ ممکن ہے اور شدت پسندی کا سب سے اچھا علاج یہی ہے۔
عراق کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی اہل سنت کے سرکردہ رہنما نے کہا: عراق میں غلط پالیسیوں کے نتیجے میں بعض انتہاپسندوں کے علاوہ معتدل خیالات کے افراد بھی مرکزی حکومت کے خلاف ہوچکے ہیں اور وہ بھی حالیہ تبدیلیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اب مرکز سے نالاں اعتدال پسند اور ناراض لوگ بندوق اٹھانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ہمارے خیال میں صرف جامع حکومت بنانے سے یہ ملک بحران سے نجات پاسکتاہے؛ عراق میں رہنے والے تمام گروہوں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کے نمائندوں کو ایک نئی حکومت میں حصہ ملنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے گزشتہ سال ’ایک جامع حکومت کی تشکیل‘ کے اپنے مشورے کی یاددہانی کراتے ہوئے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ خیرخواہوں کے تجاویز اور مشوروں پر توجہ نہیں دی جاتی ہے اور موجودہ عراقی حکومت فرقہ وارانہ خیالات اور مخصوص سیاسی مفادات کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس رویے کا انجام برا ہے اور مزیدمشکلات ایسی حکومتوں کے حصے میں آئیں گی۔ جو حکومتیں مشکلات و بحرانوں سے دوچار ہیں، اگر دوراندیشی اور فراخدلی کا مظاہرہ کرکے جامع حکومت بنائیں اور قوم کی تمام اکائیوں کو حکومت میں شامل کریں، اس سے عوام کے دلوں میں قربت آئے گی اور ان کے ملکوں کی وحدت محفوظ ہوگی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے عوام کے قتل وخونریزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا: میرے خیال میں ایسے بحرانوں سے نجات کا راستہ قتل اور خونریزی نہیں ہے۔ میں قتل و خونریزی کی مذمت کرتاہوں، چاہے وہ کسی بھی فرد یا گروہ کی طرف سے ہو۔ کسی بھی گروہ، جماعت اور حتی کہ حکومت کے لیے جائز نہیں ہے اپنے کسی حق کی خاطر دوسروں کو قتل کرڈالے۔ تشدد اور لڑائی مزید تشدد کو جنم دیتی ہے۔ ایسے بحرانوں کا علاج مذاکرات، باہمی گفت وشنید، دوراندیشی اور فراخدلی ہے۔ حکومتوں کو چاہیے اپنے مخالفین کی باتیں سنیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی گروہ، جماعت اور فرقے سے ہو، اور ساتھ بیٹھ کر اپنی بات بھی ان تک پہنچادیں۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے زور دیتے ہوئے کہا: میرے خیال میں اگر عراق میں ایک نئی اور جامع حکومت اقتدار پر آئے تو حالات پر قابو حاصل کیاجاسکتاہے۔ اس لیے تمام مسلم ممالک اور بااثر شخصیات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ موافق ومخالف کو ساتھ بٹھائیں اور تاریخی ملک و قوم کے مسائل حل کرائیں۔ اس سے ان کے ملک کا مستقبل خطرے سے نجات پائے گا اور تقسیم کا خطرہ ٹل جائے گا۔
اپنے خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: عالمی طاقتوں اور صہیونی عناصر کی کوشش ہے مسلم قومیں آپس میں دست وگریبان ہوں تاکہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔ دنیا میں خانہ جنگی، مذہبی ونسلی فسادات کا وجود ان کی قلبی خواہش کے عین مطابق ہے۔ افسوس ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ایک پالیسی بن چکی ہے۔ حالانکہ ایسے اختلافات اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہیں۔ جن علاقوں میں ایسے بحران پائے جاتے ہیں، وہاں خیرخواہی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آپ کی رائے