جامعہ عثمانیہ رحیم یارخان پاکستان کے مہتمم وشیخ الحدیث مولانا محمدیوسف دامت برکاتہم نے زاہدان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا: جنات اور شیاطین کی تمام کوششوں کا مقصد انسان کو گمراہ کرنا اوراسے درست راستے سے ہٹانا ہے اور لوگوں میں کاہن وعامل ان کی نمائندگی کررہے ہیں۔
شیخ التفسیر مولانا محمد یوسف رحیم یارخانی نے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیات: «لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ*اللّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوُرِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَآؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [بقره: 256-257] کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی کا بڑا احسان ہے کہ ہم امت اسلامیہ کا حصہ ہیں اگرچہ یہ کمال نہیں ہے۔ کمال ان کا ہے جو دیگر باطل ادیان کو چھوڑکر اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے، ہمیں ان آباو ¿ اجداد کا شکرگذار ہونا چاہیے۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہوا کہ ہمارے آباو ¿اجداد نے کلمہ پڑھا اور ہم مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح ہمیں شکرکرنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل فرمایا۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے ممتاز پاکستانی عالم دین نے کہا: لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ دشمن کی کوشش ہے جس طرح کافر ومشرک اپنے کفر وشرک پر رہیں، مسلمان بھی گمراہی اور جہنم کی طرف چلیں اور ان کا انجام برا ہو۔
ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان کے صدرمقام کے سنی شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمدیوسف نے انسان کی گمراہی کے لیے شیطان کی بعض چالوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: انسان کو گمراہ کرنے کے لیے شیاطین سخت ترین مشکلات برداشت کرتے ہیں اور اپنی جان بھی اس راہ میں گنوادیتے ہیں۔ مثلا احادیث کے مطابق شیطان غیب نہیں جانتاہے لیکن کوئی چھپی خبر حاصل کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتاہے تاکہ اس خبر سے انسانوں میں گمراہی پھیلائے۔ اس کے لیے جنات وشیاطین ایک دوسرے پر چڑھ کر آسمان تک لائن بناتے ہیں تاکہ فرشتوں کی گفتگو سے انہیں کوئی خبر ہاتھ آئے۔ لیکن فرشتے انہیں میزائل کی طرح ’شہاب ثاقب‘ سے مارتے ہیں۔ ختم ہونے اور جلنے سے پہلے ان کی کوشش ہوتی ہے یہ خبر زمین تک کسی طرح پنچ جائے تاکہ بعد میں ایک سچ سے سو جھوٹ لوگوں میں پھیلاکر انہیں گمراہ کیاجائے۔ اس سے وہ جنات کو عالم الغیب سمجھ بیٹھیں گے۔ یہ تمام خطرات کو مول لے کر شیطان انسان کو جہنمی بنانے کی کوشش کرتاہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن نے مزیدکہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا: «من أتی کاهنا فصدقه فقد کفر بما جاء به النبی صلی الله علیه وسلم»، اگر کوئی کاہن کے پاس جائے جو محض وہم وگمان کی بنا پر غیب کی خبریں دیتاہو اور پھر اس کی تصدیق بھی کرے تو اس شخص نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی چیز کا انکارکیا ہے اور کفر کے مرتکب ہوا ہے۔ چونکہ قرآن وسنت میں صاف آیاہے کہ علم غیب صرف اللہ کے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر اور کفریات کا مقابلہ فرمایا۔ لیکن افسوس کا مقام ہے آج بہت سارے مسلمان کاہنوں اور جعلی عاملوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ بلکہ انہیں اولیاءاللہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ان کی اکثر باتیں وہم وگمان کی بنا پر ہوتی ہیں۔ ان کا تعلق جنات وشیاطین سے ہے جو جھوٹی باتیں ان تک پہنچاتے ہیں۔
شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف نے مزیدکہا: اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کو ’افاک اثیم‘ کہاہے؛ افاک بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے کو کہاجاتاہے اور ’اثیم‘ گناہوں کی آلودگی میں ملوث شخص کو کہتے ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو ایسے گندے لوگوں کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہے جو نہ صرف قرآن وسنت کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں بلکہ جنات وشیاطین کے نمائندے ہیں۔ بیمار ہونا اور مشکلات سے دوچار ہونا ایک طبعی امر ہے لیکن ایسے حالات میں ایمان نہیں کھونا چاہیے۔ ایمان کی حفاظت تمام حالات میں ضروری ہے۔ بعض لوگ لاکھوں روپے خرچ کرکے انڈیا جاتے ہیں تاکہ ہندو عاملوں سے علاج کرائیں، ایسا کرنا کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔
جامعہ عثمانیہ رحیم یارخان کے مہتمم نے ’عزیٰ‘ نامی بت کی تباہی کا واقعہ سناتے ہوئے کہا: سیف اللہ خالدبن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عزی نامی بت کو تباہ کیا ، اس سے پہلے وہاں موجود مکانات اور درختوں کو تباہ کیا جہاں لوگ منتیں مانگتے اور شرک کرتے تھے۔ تیسری دفعہ خالد نے جب بت ہی کو تباہ کرڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جاءالحق و زھق الباطل“؛ جس بت سے لوگ حاجات مانگتے تھے خود اپنی حفاظت نہیں کرسکا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے واقعے سے استدلال کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے بہت ساری مخلوقات کو حضرت سلیمان کے اختیار میں رکھاتھا جن میں جنات بھی شامل ہیں۔ جنات حضرت سلیمان کے حکم پر مسجد الاقصی کی تعمیر پر مامور تھے اور آپ علیہ السلام اپنی عصا پر ٹیک لگاکر ان کی نگرانی کررہے تھے۔ اسی حالت میں روح پرواز کرگئی ، جن کام کرتے رہے یہاں تک کہ دیمک نے عصا کو اندر کھالیا اور حضرت سلیمان گرپڑے۔ اس وقت مسجد کا کام مکمل ہوچکاتھا اورجنات کو معلوم ہوا حضرت سلیمان وفات پاگئے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتاہے جن غیب نہیں جانتے ہیں۔
استاذالعلما مولانا محمدیوسف نے زور دیتے ہوئے کہا: شیاطین دو قسم کے ہیں جس طرح قرآن پاک کی آخری سورت میں آیاہے؛ جنی و انسی۔ یہ شیاطین وسوسوں اور دیگر طرق سے انسان کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا اللہ کی پناہ لینا چاہیے۔ علمائے حقانی جو انبیائے کرام کے سچے وارث ہیں، انہیں چاہیے مسلم معاشرے کی آگاہی واصلاح کے لیے کوشش کریں۔ ارشاد الہی ہے: «فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ» [اعراف:6] اگر لوگ گمراہی میں مبتلا ہوجائیں اور عقیدے میں انحراف کا شکار ہوجائیں تو روزحساب انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔
یادرہے مولانا محمدیوسف رحیم یارخانی جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے اہم رہنمااور علمی حلقوں میں ممتاز دینی شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ دارالعلوم زاہدان کے ممتاز استاذ مولانا احمد رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے انہیں تعزیت کے لیے نمائندہ بنا کرزاہدان، ایران بھیجا گیا۔خطبہ جمعہ کے آخر میں مولانا محمدیوسف نے جمعیت علمائے اسلام اور اس کے قائد مولانا فضل الرحمن کی طرف سے ایرانی اہل سنت خاص کر زاہدانی عوام اور شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید سے تعزیت کا اظہارکیا اور مولانا احمد کی مغفرت و علودرجات کے لیے دعا کی۔

آپ کی رائے