ایرانی اہل سنت کے عظیم دینی ادارہ دارالعلوم زاہدان میں ’’النادی العربی‘‘ کے زیراہتمام جامعہ کے مرحوم استاذ الحدیث مولانا احمد ناروئی رحمہ اللہ کی یاد میں خصوصی نشست کا انتظام کیا گیا۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ’سنی آن لائن‘ کے نامہ نگاروں کے مطابق اتوار بیس اپریل کی شام کو جامع مسجدمکی میں مولانا احمد ناروئی رحمہ اللہ کی یاد میں خصوصی جلسے کا اہتمام کیاگیا جہاں بعض سینئر اساتذہ نے عربی وفارسی زبانوں میں خطاب کرتے ہوئے مولانا احمدکے سوانح حیات اور خدمات کے مختلف گوشوں کو نمایان کیا۔
اطلاع کے مطابق مذکورہ تعزیتی نشست میں دارالعلوم زاہدان کے بعض طلبہ نے بھی مقالوں اور نظموں کی صورت میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ جامعہ دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ وطلبا کے علاوہ زاہدان شہر کے بعض دیگر مدارس اور تعلیمی اداروں کے اساتذہ وطلبا نے بھی اس نشست میں شرکت کی۔
دارالعلوم زاہدان کے استاذ مولوی حبیب اللہ مرجانی نے مولانا احمد ناروئی رحمہ اللہ کے سانحہ وفات کو ’انتہائی المناک اور ہلادینے والا‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: مولانا ناروئی کے انتقال سے دارالعلوم زاہدان نے اپنے عظیم ترین شاگردوں، خیرخواہوں اور محافظوں میں سے ایک کو کھودیاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اللہ تعالی جس کے قبضہ قدرت زمین وآسمانوں اور تمام کائنات کے خزانے ہیں، اس عالم فاضل کی خالی جگہ کو پرکرسکتاہے۔ مولانا احمد ناروئی کے انتقال کا مطلب ہرگز اندھیرے کا طلوع نہیں ہے۔ طلبہ کو چاہیے مولانا احمد کی طرح تعلیم وتعلم کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق میں رہیں اور دینی مدارس کو جزیرہ نہ بنائیں جن میں صرف ماضی کی باتیں دہرائی جاتی ہیں۔
مولوی مرجانی کے خطاب کے بعد دارالعلوم زاہدان کے ایک طالب علم، جلیل الرحمان صحت، نے عربی زبان میں چند اشعار پڑھ کر مولانا احمد ناروئی کی جدائی پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مولوی عبدالحکیم عثمانی ، جامعہ ہذا کے استاذ و ایڈیٹر ’سنی آن لائن‘، نے حاضرین سے خطاب کیا۔
مولوی عثمانی نے اپنے خطاب میں ’قوی ایمان اور تعلق مع اللہ‘ ، ’فہم قرآن‘ سیرت نبوی سے تعلق‘، ’بڑی فراست‘، ’حالات حاضرہ پر واقفیت‘، ’تدریس وتفہیم میں مہارت‘، ’ہر کام میں میانہ روی‘، ’معاشرے کے مختلف افراد سے اچھے تعلقات ‘، ’اخلاص‘، ’اہل خانہ وطلبہ سے خوش اخلاقی کرنا‘ اور ’تھکاوٹ نہ دکھانے‘ کو مولانا احمد ناروئی رحمہ اللہ کی اہم ترین صفات وخصوصیات قرار دیا۔
عالمی اسلامی میگزین ’ندائے اسلام‘ کے مدیر اور دارالافتا دارالعلوم زاہدان کے صدر مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے نشست کے آخر میں خطاب کرتے ہوئے مولانا احمد کی یاد میں منعقدہ نشست کو حدیث شریف ’اذکروا محاسن موتاکم‘ پر تعمیل قرار دیا۔
انہوں نے کہا: یتیمی نے مولانا احمد کو والدہ کی صحیح تربیت اور دعاوں سے نوازا اور اس کے ساتھ مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ جیسی شخصیت کی تربیت اور دعائے خیر نے مولانا احمد کو ایک ممتاز مقام تک پہنچایا۔
استاذالحدیث دارالعلوم زاہدان نے مولانا ناروئی کی بعض خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: مولانا احمد رحمہ اللہ مشورت کے دلدادہ تھے، مشکلات کے سامنے ڈٹنے والے تھے، اطاعت امیر میں بہترین تھے، حکمت وفراست سے کام لیتے تھے، تنقید اور نصیحت کو کشادہ چہرے سے مان لیتے، تدریس وتعلیم سے عشق رکھتے تھے، اپنے اسلاف واکابر سے محبت کرکے ان کا بہت احترام کرتے اور دعا وعبادت سے ہرگز غافل ہونے والے نہیں تھے۔
مفتی قاسمی کے خطاب سے پہلے مولانا احمد ناروئی کے فرزندارجمند، الیاس ناروئی نے اپنے خاندان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک مختصر خطاب میں جامعہ دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ وطلبا کا شکریہ ادا کیا اور حاضرین سے درخواست کی اپنی دعاوں میں مولانا کے اہل خانہ اور اولاد کو یاد رکھیں۔

آپ کی رائے