“ایرانی اہل سنت کی آبادی بڑھنے پر پریشان نہیں ہونا چاہیے”

“ایرانی اہل سنت کی آبادی بڑھنے پر پریشان نہیں ہونا چاہیے”

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 28 مارچ 2014 میں بعض شیعہ مراجع اور بااثر علما کی بے جا تشویش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ کچھ عرصے سے ایرانی اہل سنت کی ’بڑھتی آبادی‘ پر کچھ حلقے تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور بعض بااثر شیعہ علما ایسے الفاظ زبان پر لاتے ہیں جن سے صدمہ ہوتاہے اور دشمن بھی غلط فائدہ اٹھاتاہے۔

ممتاز سنی عالم دین نے کہا: حال ہی میں بعض شیعہ علماءنے ایرانی اہل سنت کی آبادی بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیاہے؛ اگر کوئی عام آدمی ایسی بات کرتا تو اس کی نادانی پر محمول ہوتی، لیکن جب اہل علم ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو شکوہ کا مقام ہوگا۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: پہلی بات یہ ہے کہ ایسی رپورٹس اگر درست بھی ہوں تو کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے؛ شیعہ وسنی دونوں ایرانی قوم کے حصے ہیں اور ایران ان کی سرزمین ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان بیانات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ان سب باتوں کی بنیاد غلط اور جھوٹی رپورٹس ہیں جو بااثر شیعہ علما ومراجع تک پہنچائی جاتی ہیں۔مثلا کسی حکومتی عالم دین نے دعوی کیا ہے کہ ایک صوبے میں اہل سنت کی آبادی اکثریت اختیار کرچکی ہے حالانکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ لیکن تحقیقات کے مطابق پہلے ہی سے اس صوبے میں اہل سنت کی آبادی اکثریت میں تھی اور اس پر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہے بعض علماءشیعہ برادری کو آبادی بڑھانے پر اکسانا چاہتے ہیں تاکہ شیعہ برادری میں شرح پیدائش بڑھ جائے؛ لیکن یہ طریقہ بالکل نامناسب اور غلط ہے جو شیعہ وسنی علما کی شان کے خلاف ہے۔ اگر کسی مسلم برادری کی آبادی بڑھ جائے ہمیں اس پر خوشی ہوگی اور ہم اپنے بھائیوں کی تعداد بڑھنے پر مضطرب نہیں ہوتے ہیں۔ بہرصورت حقیقت یہ ہے کہ شیعہ وسنی برادریوں میں شرح پیدائش برابر ہے اور ایک ہی نسبت سے ملک کی آبادی بڑھتی جارہی ہے۔

مولانا عبدالحمید نے ایران میں اونچی سطح پر جھوٹ اور دروغ گوئی کے عام ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: کچھ عرصہ قبل ایک اعلی حکومتی عہدیدار نے دعوی کیا تھا ایران میں ہر سنی مسجد میں ایک سو طالب علم زیرتعلیم ہیں۔ حالانکہ یہ دعوی جڑ سے غلط ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اہل سنت کی مساجد نماز قائم کرنے کے لیے ہیں طلبہ کی قیام گاہ نہیں! طلبہ مدارس میں رہائش اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ نیز اگر کسی مسلم برادری میں دیندار اور نمازی لوگوں کی تعداد بڑھ جائے تو یہ تشویش کی نہیں فخر کی بات ہوگی اور شیعہ وسنی دونوں کو خوش ہونا چاہیے کہ دیندار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے۔

آئین کے مکمل نفاذ سے حکومت کی بقا ممکن ہے
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ایران میں یوم اسلامی جمہوریہ (یکم اپریل) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یکم اپریل انیس سو اسی کو ایرانی قوم نے رفرنڈم میں شرکت کرکے ’اسلامی جمہوریہ‘ کے حق میں ’ہاں‘ کا ووٹ ڈالا۔ اس انتخابات میں شرکت کا مقصد یہی تھا کہ عوام خود اپنے مسائل میں حصہ لیں اور حکام کا انتخاب وتقرری ان کے ووٹوں سے ہو۔

انہوں نے کہا: ایرانی قوم کے نزدیک مادرپدرآزاد جمہوریت قابل قبول نہیں بلکہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کو چن کر قوم نے ثابت کردیا اسلام اور اسلامی اصول وقوانین اس کے لیے اہم ہیں۔ اس کے بعد ماہرین کے بورڈ منتخب ہوگیا تا کہ اسلام کی بنیاد پر آئین کا مسودہ تیار کرے۔

مولانا عبدالحمید نے کہا: آئین کسی بھی ملک کے لیے بہت ہی اہم ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اہم آئین کا درست نفاذ ہے۔ اگر ایران میں آئین درست اور مکمل طور پر نافذ ہوجائے تو ’اسلامی جمہوریہ‘ کی بقا کی ضمانت ہوسکتی ہے۔

ایرانی آئین میں بعض شقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: آئین کی رو سے تمام سیاسی ومذہبی گروہوں اور جماعتوں کو مکمل آزادی حاصل ہے، آئین میں آزادی اظہار رائے پر زور دیاگیاہے اور کوئی بھی حکومتی یا غیرحکومتی ادارہ یا فرد ایسی آزادیوں پر قدغن نہیں لگاسکتاہے۔ نئی حکومت اور دیگر حکام کی ترجیحات میں آئین کا مکمل اور درست نفاذ شامل ہونا چاہیے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے ایران میں آبادی کی رنگارنگی اور لسانی ومسلکی تنوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: ملک میں متعدد قومیتوں اور مسالک ومذاہب کے پیروکار آباد ہیں اور آئین میں ان سب کے حقوق پر زور دیاگیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف اکائیوں کے حقوق پر کوئی قدغن نہ لگایاجائے اور بلاوجہ انہیں ہراساں کرنے اور رکاوٹیں ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ حکومتی اور غیرحکومتی ادارے سب کے حقوق کا احترام کریں۔ اسی صورت میں حکومت کی بقا ممکن ہوسکتی ہے۔

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین