مسلم لیگ نون آج طالبان سے مذاکرات پر غور کرے گی

مسلم لیگ نون آج طالبان سے مذاکرات پر غور کرے گی

پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کے پارلیمانی اراکین کے اجلاس میں آج کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے لائحہِ عمل پر غور کیا جائے گا۔

گذشتہ شب پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر کہا تھا کہ پیر کو پارٹی کے اجلاس میں اس پیشکش کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ سیاسی بیان ہے یا وہ ملک کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے پر تیار ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ پیر کی شام کو پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس بھی متوقع ہے جس میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق عمومی ایجنڈے کے علاوہ ملک کی سکیورٹی صورتحال پر بھی بحث کی جائے گی۔
واضح رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان نے کئی بار اپنے بیانات میں پاکستان کے موجودہ جمہوری نظام کو غیر اسلامی قرار دیا ہے اور ان کے مطالبات میں شریعہ قوانین کا نفاذ شامل ہے۔
وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے اتوار کو بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دنوں طالبان نے مسلح افواج، سکولوں، عبادت گاہوں اور عام شہریوں پر متعدد حملے کیے ہیں اور اب ایک دم ان کا ذہن بدلا ہے تو اس پر ہم پارٹی کے اعلیٰ اجلاس میں ضرور غور کریں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی موجودہ قیادت گذشتہ عام انتخابات کے دوران اور عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد ہمیشہ ہی طالبان سے مذاکرات اور فوجی کارروائی نہ کرنے کی بات کرتی رہی ہے اور اس حوالے سے ایک کُل جماعتی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا تھا۔
دوسری جانب تحریکِ طالبان پاکستان کا موقف ہے کہ حکومتِ پاکستان متعدد بار مذاکرات کی بات کر چکی ہے تاہم وہ اس سلسلے میں سنجیدہ نہیں۔
تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنے حالیہ بیان میں مذاکرات کی پیشکش کو دہرایا تھا اور حکومتی عدم سنجیدگی کے حوالے سے بتایا کہ طالبان کے پاس مولانا سمیع الحق کے قاصد سمیت جتنے بھی امن کے خواہاں وفود آئے، طالبان نے انھیں مثبت اور حوصلہ افزا جواب دیا، جبکہ حکومت کی طرف سے صرف میڈیا پر بیان بازی ہوتی رہی ہے، تاکہ عوام کو مغالطے میں ڈال کر حقیقت سے گمراہ کیا جاتا رہے۔
تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ ’طالبان نے بارہا یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان بامعنی، پائیدار اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔‘
کُل جماعتی کانفرس کے کچھ عرصے بعد نومبر میں تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے طالبان سے بات چیت کے عمل کو نقصان پہنچا ہے۔
تاہم طالبان سے بات چیت کس سطح پر تھی اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔اس کے بعد حالیہ دنوں میں طالبان کی جانب سے شدت پسندی کے متعدد واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد حکومت پر دباؤ آیا ہے کہ وہ بات چیت یا فوجی کارروائی کا فوری فیصلہ کرے۔
اس دوران بنوں اور راولپنڈی میں فوجی جوانوں کو تحریکِ طالبان کی جانب سے نشانہ بنانے کے بعد وزیرستان کے علاقے میر علی میں فوج نے بمباری کر کے اہم طالبان کمانڈروں سمیت چالیس طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس حملے میں تین جرمن اور 33 ازبک دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

بی بی سی اردو

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین