زاہدان میں مولانا عبدالحمید کی پریس کانفرنس

زاہدان میں مولانا عبدالحمید کی پریس کانفرنس

ایران میں ’ہفتہ وحدت‘ اور عالم اسلام کے مسائل کے حوالے سے گیارہ جنوری دوہزار چودہ کو مولانا عبدالحمید کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوگئی جس میں متعدد مقامی وقومی صحافیوں اور نامہ نگاروں نے شرکت کی۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ نے رپورٹ شائع کی ہے کہ اس پریس کانفرنس کے شروع میں مولانا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد مبارک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے خیروبرکت کے باعث تھے اور آپ ہی کی برکت سے اہل دنیا بھائی چارہ کی نعمت سے بہرہ مند ہوگئے۔ جس خطے میں آپﷺ کی بعثت ہوئی وہاں قتل وغارتگری کو فخر سمجھ کر لوگ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے تھے اور بعض قبائل کے درمیان برسوں تک لڑائیاں جاری رہتیں۔ تمام لوگ بغض ونفرت کے پیکر بن چکے تھے، ایسے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور جوں جوں اسلام کا دائرہ وسیع ہوتارہا، اتنا ہی بغض وعداوت کا دائرہ سکڑتا رہا اور حقیقی اسلام کے غلبے سے محبت وبھائی چارہ کا غلبہ ہوگیا۔

انہوں نے کہا: مسلمانوں کے درمیان اتحاد ’دینی واسلامی‘ ہے، لیکن ایک اور رشتہ تمام انسانوں کے درمیان ہے جو انسانی بھائی چارہ ہے؛ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ہماری کسی بھی شخص سے دشمنی نہیں ہے مگر وہ لوگ جو جنایت کا مرتکب ہوتے ہیں اور دراندازی کرتے ہیں۔

’ہفتہ وحدت‘ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: اتحاد صرف ایک ہفتے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ پورے سال میں اتحاد کا خیال رکھنا لازم ہے اور ہمیں ہمیشہ برادرانہ زندگی گزارنا چاہیے۔ یہ ہفتہ محض اتحاد کی ضرورت پر گفتگو اور اس کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہے۔ اتحاد کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم فریق مخالف کی فقہ یا عقائد کو اپنالیں؛ اتحاد کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے مشترکہ امور اور مسائل پر توجہ دیں، ایک دوسرے کا احترام کرکے سب کی عزت کریں اور الزام تراشی ونفرت پھیلانے سے گریز کریں۔ مسلمانوں کے درمیان اتحاد دینی ذمہ داری ہے اور اسے کوئی سیاسی یا عارضی مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس تمہید کے بعد پریس کانفرنس میں موجود میڈیا کے نمائندوں نے اپنے سوالات پیش کیے۔ ایک سوال کے جواب میںمولانا عبدالحمید نے کہا: ہمارے صوبے میں معیشت کافی کمزور ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مالدار لوگوں کو یہاں ڈرایا دھمکایاگیا اور وہ سرمایہ کاری کے بجائے صوبہ چھوڑکر کہیں اور چلے گئے، لہذا یہاں معیشت کمزور پڑگئیِ، صنعت بے دخل ہوگئی اور بے روزگاری عام ہوتی چلی گئی۔

نئی حکومت کے اہل سنت کو دیے گئے وعدوں پر جب آپ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سمیت اکثر عوام خاص کر لسانی ومذہبی برادریاں بہت پرامیدہیں؛ اب تک تو کوئی خاص عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آیاہے لیکن بہرحال اندرونی وبیرونی سطح پر ملک کی مشکلات میں کمی آئی ہے۔ نئی حکومت کو ہمارا مشورہ یہی ہے کہ ملک میں قومی مصالحت کرانے کی کوشش کی جائے ۔ بندہ نے صدرمملکت سے اپنی ملاقات میں یہی کہاتھا کہ تمام مسالک وقومیتوں کو قریب لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ افراط سے اجتناب ضروری ہے؛ اسلام میں افراط وتفریط کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایرانی شہریوں کی قومیت، سوچ اور مسلک سے قطع نظر کرکے قومی وعلاقائی سطح پر ان کی صلاحیتوں سے کام لینا چاہیے؛ اسی سے ملک کو اس کا جائز مقام ملے گا اور دنیا می اسے پذیرائی حاصل ہوجائے گی۔

مشرق وسطی میں جاری تبدیلیوں کے حوالے سے اظہارخیال کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: عراق، شام اور مصر کی سیاسی تبدیلیوں میں اجنبی اور اسلام دشمن عناصر مداخلت کررہے ہیں تاکہ اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں۔ ان کی خواہش یہی ہے کہ ہم مسلمان دنیا کے پس ماندہ ملکوں میں شمار ہوجائیں۔ مسلمانوں کو چاہیے مشرق ومغرب کی وفاداری سے جان چھڑاکر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اپنی قوموں کی مشکلات حل کرائیں۔

عراق وشام میں جاری لڑائیوں پر اپنا تبصرہ پیش کرتے ہوئے مولانا نے کہا: وہاں کی لڑائیاں مسلکی نہیں بلکہ طاقت حاصل کرنے کے لیے ہیں، عراق وشام میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں ہورہی ہے بلکہ بعض عناصر اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے مسلک کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اگر وہاں طاقت منصفانہ طورپر تقسیم ہوتی تو یہ مسائل وجودمیں نہ آتے۔

ایک صحافی نے تہران میں اہل سنت کی مسجد کے مسئلے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا: دارالحکومت تہران میں اہل سنت کو مسجد کی شدید ضرورت ہے، وہاں اہل سنت کی بڑی تعداد آباد ہے اور دیگر علاقوں کے سنی شہریوں کو اپنے ذاتی کاموں کے سلسلے میں بھی تہران جانا پڑتاہے، لیکن مسجد نہ ہونے کی وجہ سے نماز کی ادائیگی کے حوالے سے انہیں سخت مشکلات کاسامنا ہے۔ امیدہے جلدازجلد اہل سنت کا یہ مسئلہ حل ہوجائے۔

جب ’جہادنکاح‘ کے من گھڑت دعوے اور خودکش حملوں کے بارے میں مولانا کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: اہل تشیع اور اہل سنت کے دینی مصادر میں ’جہادنکاح‘ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ جھوٹ کا پلندہ ہے جو بعض انتہاپسند عناصر عوام کی دینی حمیت وعقائد کاغلط فائدہ اٹھاکراپنے مخالفین پر الزام لگاتے ہیں۔ خودکش حملوں کا آغاز فلسطینی مزاحمت کاروں نے کیا تاکہ اپنی آواز دنیا تک پہنچائیں، کوئی ان کی مشکلات پر توجہ نہیں دیتا تو انہوں نے اسرائیل کو کمزور کرانے اور دنیا کو ہلانے کے لیے فدائی حملے کرائے۔ لیکن مسلمانوں کو ہدف بنانے کے لیے خودکش حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر دنیا شدت پسندی سے جان چھڑانا چاہتی ہے تو اس کا واحد حل مکالمہ ومذاکرہ ہے؛ عسکریت پسندوں کی باتیں سن کر ان کے ساتھ مکالمہ کیاجاسکتاہے۔ ایران میں پہلے معلول سے مقابلے پر زوردیاجاتا تھا لیکن اب نئی حکومت شدت پسندی کی ’علت‘ کی شناخت اور ازالے کی کوشش میں دکھائی دیتی ہے۔

اہل بیت کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے عقیدے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ’عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘ کے رکن نے کہا: اہل بیت نبوی کا احترام ہمارا عقیدہ ہے، کوئی سنی مسلمان ان کی بے عزتی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جس طرح اہل سنت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا احترام کرتے ہیں اور ان سے عشق کی حدتک محبت کرتے ہیں، بالکل اسی طرح اہل بیت نبوی ﷺ سے عشق کرتے ہیں، خاص کر ان بزرگوں سے جو صحابہ اور اہل بیت دونوں جماعتوں میں شامل ہیں۔

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین