
ایرانی صوبہ کردستان سے تعلق رکھنے والے ممتازسنی عالم دین ’کاک ہاشم حسین پناہی‘ کو تہران میں ایک مخصوص عدالت میں بلانے کے بعد گرفتار کرکے جیل بھیج دیاگیاہے۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق ’تحریکِ مکتب قرآن کردستان‘ کی ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ منگل تین دسمبرکو کاک ہاشم حسین پناہی کو ’سپیشل عدالت برائے علمائ‘ نے بلانے کے بعد بدنام زمانہ اوین جیل کے سیکشن325 بھیج دیاہے۔
کاک حسین پناہی کردستان کے صدرمقام سنندج میں واقع مدرسہ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ، تحریک مکتب قرآن کے مرکزی شورا کے رکن، تحریک کے صدر کاک حسن امینی کے دفتر کے سینئررکن اور کردستان کے ممتاز دینی کارکن اور عالم دین ہیں۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل تین ستمبردوہزاربارہ کو دینی وتبلیغی سرگرمیوں کے پاداش میں کاک حسین پناہی کو کردستان کے انٹیلی جنس حکام نے گرفتار کرکے ایک مہینے تک کسی وضاحت کے بغیر اپنی حراست میں رکھاہے۔ نیزجاری سال کے دس ستمبر کو انہیں تہران کی ایک عدالت نے چھ مہینے قید اور تیس کوڑے مارنے کی سزا سنائی ہے۔
یاد رہے ایران کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد علمائے کرام، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو مختلف بہانوں سے عدالت بلایا جاتاہے یا حساس اداروں کے دفاتر میں انہیں بلاکر ہراساں کیاجاتارہاہے۔ اب بھی متعدد علمائے کرام اور سماجی کارکن جیل قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

آپ کی رائے