شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کا “کفن پوش” احتجاجی مارچ

شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کا “کفن پوش” احتجاجی مارچ

شام میں موجود فلسطینی پناہ گزینوں کے خلاف بشارالاسد کی وفادار فوجوں کی جانب سے ہونے والے حملوں اور پناہ گزینوں کے مرکزی یرموک مہاجر کیمپ کی ناکہ بندی کے خلاف مہاجرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز نماز جمعہ کے اجتماع کے بعد کیمپ میں موجود جامع مسجد فلسطین سے ہزاروں افراد نے اپنے جسم پر کفن لپیٹ کر حکومت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ مٓظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سرکاری فوج فلسطینی پناہ گزینوں پر تشدد بند کرے، یرموک مہاجرکیمپ کا تین ماہ سے جاری محاصرہ ختم کیا جائے اور پناہ گزینوں کو شہر میں آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت فراہم کی جائے۔

یرموک مہاجر کیمپ میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے سرگرم اداروں نے بھی پناہ گزینوں کی حالت زار پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، تنظیم آزادی فلسطی، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی اداروں سے شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کی فوری مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

مہاجرکیمپ کے انسانی حقوق کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج کی جانب سے کیمپ کی ناکہ بندی کے نتیجے میں ادویہ اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوچ کی ہے۔ لوگ درختوں کے پتے کھانے پر مجبورہو گئے ہیں۔ اس لیے تمام عالمی امدادی ادارے فلسطینیوں کی فوری مدد کو پہنچیں اور ان کی زندگیاں بچائیں۔

ادھر انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق سرکاری فوج  اور اسد نواز فورسز کی جانب سے ملک میں جاری حملوں کے نتیجے میں پچھلے چوبیس گھنٹے میں مزید چار فلسطینی بھی شہید ہو گئے ہیں۔

انسانی حقوق گروپ “ایکشن فرنٹ برائے شام وفلسطین” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری فوج کی جانب سے مہاجرکیمپ میں الریجہ کے مقام پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں کم سے کم چار فلسطینی مارے گئے۔  انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوی نے حراست میں رکھے گئے ایک فلسطینی عبدالرزاق خلف کو تشدد کر کے شہید کر دیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین