شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے انفرادی واجتماعی زندگی کے تمام لمحوں اور زاویوں میں قرآن وسنت ہی کے احکامات و ہدایات پر عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے شریعت کے نفاذ کو مشکلات سے نجات کا واحد راستہ قرار دیا۔
زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے اپنے خطبہ جمعہ (انتیس نومبر دوہزار تیرہ) کا آغاز قرآنی آیت: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِی السِّلْمِ کَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّهُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِینٌ»، (اے ایمان والواسلام میں پورے پورے داخل ہو (فاسدخیالات میں پڑ کر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو واقعی وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔(؛ [02: 208]کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی ایسے تمام مسلمانوں کو خبردار فرماتاہے جو احکام شریعت پر عمل کرنے سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں کی مانند نہیں ہونا چاہیے جو اللہ رب العزت کے بعض احکام پر عمل کرتے تھے اور بعض دوسرے احکام کو نظرانداز کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالی کو ایسا مسلمان پسند نہیں جو اس ذات اقدس کی شریعت کا کچھ حصہ مان لے اور بعض کو ٹکرادے۔ ایمان واسلام کا تقاضا یہی ہے کہ شریعت پر پوری طرح عمل کیاجائے۔
ممتاز سنی عالم دین نے مزیدکہا: بعض لوگ بظاہر نماز پڑھتے ہیں، حج پر جاتے ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ سودخوری جیسی لعنت کا مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اللہ کے احکام سے گریز کرتے ہیں؛ کچھ لوگ دین بیزار ہیں اور بعض دوسرے مسلمان شریعت بیزار ہیں!ایسے مسلمان اپنی خواہشات و ہواووں پر عمل کرکے اپنے ایمان کے تقاضوں سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے دشمن شیطان کی راہ پر چلنے والے ہیں جو اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ حالانکہ ارشاد الہی ہے کہ شیطان کی راہ پر نہ چلیں اور اس کی پیروی نہ کریں۔
انہوں نے کہا: اللہ کے احکام سے بغاوت کرنا بڑے نقصان کا باعث ہے۔ جو لوگ اللہ کی شریعت کے حوالے سے عمل اور عقیدے میں بیزاری کا مظاہرہ کرتے ہیں دراصل اللہ سے بغاوت کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال حجاب اور پردہ ہے؛ بعض مسلم خواتین عریانی یا نیم عریانی کے سنگین گناہ کا ارتکاب کرتی ہیں۔ مسلم خواتین کی شان کے خلاف ہے کہ وہ فیشن کی دلدادہ بن جائیں اور اسلامی لباس کا خیال نہ رکھیں۔ تنگ، چست اور نازک کپڑوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انہیں نامحرموں کے سامنے پورے جسم ڈھانپ کر ظاہر ہونا چاہیے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے خواتین کی عفت، عزت اورحفاظت حجاب اور پردے ہی میں ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: ہمیں ہرحال میں اور کسی بھی صورت میں قرآن وحدیث کے احکام پر عمل کرنا چاہیے؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب شریعت کا کوئی حکم ہمارے مفادات کے مطابق ہو ہم ’باعمل‘ مسلمان بن جائیں اور مفادات سے تضاد کی صورت میں بے عملی کا مظاہرہ کریں۔ انفرادی واجتماعی زندگی کے ہر موڑ پر شریعت کے تمام احکام پر عملدرآمد ضروری ہے۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے اس حصے کے آخرمیں تمام حاضرین کو ترغیب دی اپنی جان ومال کو اللہ کی رضامندی حاصل کرنے میں لگادیں، نفس وشیطان کی خواہشات و وسوسوں سے اجتناب کریں جو ہمارے ازلی دشمن ہیں۔ کسی بھی گناہ کی مجلس میں نہ بیٹھیں اور گناہ کاروں سے دوری اختیار کریں۔ اللہ تعالی کی نافرمانی کسی بھی صورت میں قابل برداشت نہیں ہے، حتی کہ اگر ماں باپ نے ایسا کوئی حکم دیا جس سے اللہ تعالی کی نافرمانی لازم ہوتی تو اس سے بھی پرہیز ضروری ہے۔
پاکستانی حکام ہمارے بلوچ بھائیوں کے مطالبات پر کان دھریں
اپنے خطاب کے دوسرے حصے میںایرانی بلوچستان کے سرکردہ عالم دین نے کوئٹہ سے کراچی تک بلوچوں کے احتجاجی لانگ مارچ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا لاپتہ افراد کے اہل خانوں کی بات سنیں اور انہیں ’تشفیبخش‘جوابدیدیں۔
ممتازسنی عالم دین نےکہا: بلوچ کارکنوں اورلاپتہ افرادکےخاندانوں کےکوئٹہ سےکراچی تک کاپیدل احتجاج ایک پرامن اقدام تھاجسےمیڈیامیں کوریج ملا۔گزشتہ جمعےکو اختتام پذیرہونےوالےاس لانگ مارچ کے دوران متعدد طبقات کے لوگوں نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کیا، بہت سارے مرد، خواتین، بچے ، طلباءاور عمررسیدہ افراد لانگ مارچ میں شامل ہوگئے۔
انہوں نے مزیدکہا: احتجاج کرنے والوں نے 700کلومیٹر سے زیادہ فاصلے کو اپنے پیروں سے طے کیا تاکہ اپنی آواز پاکستانی حکام تک پہنچائیں؛ بعض پاکستانی خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی اداروں پر الزام لگایا جارہاہے کہ بلوچ کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کے پیدا ہونے میں انہی اداروں کا ہاتھ ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: پاکستانی حکام کو چاہیے احتجاج پر مجبور ہونے والے عوام کی بات پر کان دھریں اور انہیں تشفی بخش جواب دیدیں۔ بلوچ عوام کی بات سننی چاہیے۔ پاکستان کی عدلیہ کی ذمہ داری بنتی ہے مسخ شدہ لاشوں اورکئی مہنیوں اور سالوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے غیرجانبداری سے تحقیقات کرے اوران افسوسناک واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
کوئٹہ تا کراچی لانگ مارچ کرنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صدر شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت بلوچستان نے کہا: سات سو کلومیٹر پیدل سفر کرنے والے لوگ خیرخواہ انسان ہیں جنہوں نے اپنی صدائے احتجاج حکام اور دنیا تک پہنچانے کیلیے ایسے کٹھن احتجاج کا راستہ اپنایا۔ امید ہے پاکستان کے سیاسی وعدالتی حکام ہمارے بلوچ بھائیوں اور بہنوں کے مطالبات پر توجہ دیں اور انہیں کوئی منطقی جواب دیدیں۔
نیوکلیئرمعاہدے سے صرف اسرائیل کی ناراضگی قوم کیلیے اچھی خبر ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے ہونے والے حالیہ تاریخی معاہدے کو ایرانی قوم کے مفادات کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے کہا: اختلاف وانتشار سے سب کو نقصان پہنچتاہے لیکن اتفاق سب کیلیے مفید ہوتاہے۔ ہم کبھی نیوکلیئر ہتھیار کے درپے نہیں تھے اور صرف نیوکلیئر انرجی سے ملک وقوم کو فائدہ پہنچتاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: مذکورہ معاہدے سے سب سے زیادہ اسرائیل کو نقصان پہنچا؛ اسرائیل کی صہیونی ریاست ہم پر کوئی جنگ مسلط کرنا چاہتی ہے، لیکن اس معاہدے سے ایک اور موقع اس کے ہاتھ سے چلاگیا۔ اسرائیل اور بعض مغربی انتہاپسندوں کی ناراضگی سے پتہ چلتاہے یہ معاہدہ قوم کے مفاد میں ہے۔ اگر اسرائیل اس معاہدے سے خوش ہوتا ہم شک میں پڑجاتے کہ کہیں یہ معاہدہ دشمن کے مفاد میں نہ ہو!
نئے گورنر کی تقرری صدر کا مثبت عندیہ ہے
سیستان وبلوچستان کے لیے متعین نئے گورنر کو معتدل اور سمجھدار یاد کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: گزشتہ ہفتے میں نئے گورنر اور وزارت انٹیلی جنس کے صوبائی ڈائریکٹر کی تقرری سے معلوم ہوتاہے حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ صدرمملکت نے وعدہ دیا تھا قانون ہرحال میں نافذ ہوگا چاہے کسی کے فائدے میں ہو یا نقصان میں! نئے گورنر ایک معتدل اور سمجھدار شخص ہے جنہوں نے انصاف کو اپنا شعار بنایاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: نئی حکومت سے یہی امیدکی جاسکتی ہے کہ ملک سے پولیس گردی کا خاتمہ کرے، میانہ روی کا بول بالا ہو اور مسائل وبحرانوں کے دروازے تدبیر وحکمت کی چابی سے کھلوائے جائیں۔ لوگوں کی عزت مزید محفوظ ہو۔
عالمی اتحاد برائے علماءمسلمین کے رکن نے مزیدکہا: بھائی چارہ صرف قانون اور انصاف کے نفاذ سے حاصل ہوتاہے۔ پائیدارامن انصاف کی فراہمی سے یقینی ہوسکتاہے۔ حکومت کی کامیابی واستحکام کا رازانصاف ہی میں ہے۔

آپ کی رائے