حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور طالبان کے درمیان پرامن مذاکرات اور 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے جاری پرتشدد واقعات کے خاتمے کے لیے خفیہ بات چیت چل رہی ہے۔
وزیر اطلاعات پرویز رشید نے جمعہ کو ڈان کو بتایا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان غیر آفیشل گفتگو چل رہی ہے، حکومت ملک میں دیرپا امن کے قیام کیلیے تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے اور مختلف سطح پر طالبان سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دیے گئے بیان کی تصدیق کی جس کے مطابق طالبان سے ایک ماہ کے اندر مذاکرات کیلیے بنیادی نکات تیار کر لیے گئے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ مولانا صاحب ایک ذمے دار شخص ہیں اور وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں ٹھیک ہوتا ہے۔
اس سے قبل جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان سے ایک ماہ کے اندر مذاکرات کرنے کیلیے بااختیار اور ذمے دار افراد پر مشتمل فورم تشکیل دے دیا گیا ہے۔
تاہم وزیر اطلاعات نے یہ واضح نہیں کیا کہ طالبان کے کس گروپ یا ان سے کس سطح پر بات چیت شروع کی جائے گی لیکن ان کا کہنا تھا کہ حکومت بات چیت پر آمادہ کسی بھی طالبان گروپ سے مذاکرات کیلیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم طالبان کے کس گروپ سے مذاکرات کریں گے کیونکہ آج ہم دو گروپوں سے بات کر رہے ہیں لیکن اگر کل کوئی اور گروپ بات چیت میں شامل ہونا چاہے تو ہم ان کو بھی خوش آمدید کہیں گے۔
پرویز رشید نے کہا کہ حکومت کا اصل مقصد امن کا قیام ہے اور وہ اس کے حصول کیلیے ہر ممکن کوشش کرے گی، ‘ہم نے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنا ہے اور اس کیلیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے’۔
وفاقی وزیر سے جب پوچھا گیا کہ کیا حکومت طالبان سے مذاکرات سے قبل حزب اختلاف کو اعتماد میں لے گی، تو ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے خصوصاً پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ ہر رسمی اور غیر رسمی ملاقات میں رائے لی جاتی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور طالبان سے بات چیت کیلیے بنائے گئے فورم میں کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں ہو گا لہٰذا اس تمام معاملے کے دوران قائد حزم اختلاف کو شامل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس سے قبل حکومت نے کہا تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کیلیے فارمولہ ترتیب دینے کیلیے ایک آل پارٹیز کانفرنس طلب کرے گی تاہم ابھی تک کانفرنس کا انعقاد عمل میں نہیں آ سکا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر اہم اپوزیشن جماعتیں طالبان سے مذاکرات کے حق میں ہیں۔
جے یو آئی ف کے ترجمان مولانا اچکزئی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت نے طالبان سے کچھ روابط قائم کر لیے ہیں اور درپردہ مذکرات کیلیے قدم اٹھا لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بات چیت کیلیے ایک اسٹریٹیجی تیار کی ہے جس پر فورم عمل کرے گا اور حکومت اس اسٹریٹیجی پر اتحادی جماعتوں سے تبادلہ خیال بھی کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ امن عمل کیلیے انٹیلی جنس اداروں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
طالبان کی تصدیق:
مزید براں سینئر طالبان رہنما نے حکومت اور طالبان کے درمیان روابط کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ بات چیت کے دوران فرقہ ورانہ حملوں کو روکنے اور طالبان اور لشکر جھنگوی سے تعلقات ختم کرنے سمیت کئی
معاملات پر گفتگو ہوئی۔
ڈان نیوز

آپ کی رائے