پاکستان کے معاشی حب کراچی میں ایم کیوایم اورجماعت اسلامی کے بعداب اے این پی بھی تخریبی کارروائی کا شکارہوئی ہے جس کے دفترکے باہرہوئے دھماکے میں 11افرادجاں بحق ہوئے ہیں۔
آزادبرطانوی نیوزویب سائٹ دی نیوزٹرائب کے نمائندہ کراچی کے مطابق انتخابی جلسے سے قبل ہونے والے دھماکہ کے متعلق سیکورٹی اداروں نے شبہ ظاہرکیا ہے کہ یہ خودکش بھی ہو سکتاہے۔
واقعہ میں 1بچے سمیت اب تک 11افرادکے جاں بحق ہونے جب کہ 35سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
نمائندہ دی نیوزٹرائب کے مطابق واقعہ نارتھ ناظم آبادکے علاقے مومن آبادمیں واقعہ انتخابی دفترکے باہر پیش آیاہے۔جہاں کچھ ہی دیربعداے ین پی کے امیدواراورصوبائی جنرل سیکرٹری بشیرجان نے کارنر میٹنگ سے خطاب کرنا تھا۔
شہرکے 3مختلف طبی مراکزجناح ہسپتال،عباسی شہیدہسپتال اورسول ہسپتال کے میڈیکولیگل آفیسزنے طبی مراکزمیں متععدنعشوں کے پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔
کراچی پولیس کے افسرآصف اعجازنے دی نیوزٹرائب کو بتایاکہ دھماکہ خود کش حملہ کا نتیجہ ہو سکتاہے۔
اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے دفترکو بھی گزشتہ روزبم حملے ک نشانہ بنایاجاچکاہے۔ جب کہ جماعت اسلامی کے انتخابی دفترکو نذرآتش کرنے کے علاوہ انتخابی مہم کے دوران تشددکا نشانہ بنایاگیاہے۔
ایم کیو ایم کے دفترپرہونے والے دھماکہ کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی تھی۔جماعت اسلامی نے اپنے کارکنان کے اغواء اورانتخابی دفترجلانے کا الزام متحدہ قومی موومنٹ پر عائد کیاہے۔
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدرسینیٹرشاہی سید نے دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کل ہفتہ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیاہے۔
دی نیوز ٹرائب

آپ کی رائے