میانمار: بدھ مسلم فسادات میں کم از کم 10 افراد ہلاک، مساجد نذر آتش

میانمار: بدھ مسلم فسادات میں کم از کم 10 افراد ہلاک، مساجد نذر آتش

میانمار میں ہونے والے تازہ ترین فرقہ ورانہ فسادات میں کم از کم دس افراد مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک بدھ راہب بھی شامل ہے جبکہ درجنوں مکانات سمیت کئی مساجد کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔

میانمار میں اپوزیشن جماعت (NLD) کے ایک رکن پارلیمان وِن تائن کے مطابق میکتِلا شہر میں ہونے والے ان فسادات میں دس سے زائد مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ایک بدھ راہب سمیت صرف دو افراد مارے گئے ہیں جبکہ شہر کی کئی مساجد کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایک مقامی رہائشی کا نیوز ایجسنی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ میں نے سڑکوں پر متعدد لاشیں دیکھیں ہیں اور صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ بدھوں کے کئی گروپ لاٹھیاں اور چُھریاں لیے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔‘‘

خبر رساں اداروں نے کہا ہے موجودہ بدامنی میانمار میں مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان سخت کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔ گزشتہ برس مغربی ریاست راکھین میں بدھوں اور روہنگیا مسلمانوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 180مسلمان مارے گئے تھے جبکہ ایک لاکھ دس ہزار سے زائد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔

امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر ہونے والے املاک کے نقصان اور تشدد پر تشویش لاحق ہے۔

رکن پارلیمان وِن تائن کے مطابق میانمار جسے برما بھی کہا جاتا ہے، کے مرکزی شہر میکتیلا میں تقریباﹰ 30 ہزار مسلمان آباد ہیں۔ شہر کی کل آبادی 80 ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور اس سے قبل یہاں کبھی بھی فرقہ ورانہ فسادات نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق یہ گزشتہ برس راکھین میں ہونے والے فسادات کا نتیجہ ہے۔

پولیس کی طرف سے فیس بُک پیج پر جاری ہونے والی ایک ابتدائی رپورٹ کے مطابق فسادات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب ایک سنار کی دکان پر ایک بدھ گاہک کا مسلمان مالک سے جھگڑا ہوا۔

برما کے نام سے مشہور میانمار میں بسنے والے زیادہ تر مسلمان بھارتی، چینی اور بنگلہ دیشی نژاد ہیں۔ اندازوں کے مطابق میانمار کی کل آبادی 60 ملین ہے اور ان میں مسلمانوں کی تعداد صرف چار فیصد بنتی ہے۔ میانمار کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران یہاں آکر آباد ہو گئی تھی لیکن ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود یہاں کے مسلمان اور بدھ مکمل طور پر اہم آہنگی سے زندگی بسر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ماضی میں متعدد مرتبہ فرقہ ورانہ فسادات رونما ہوچکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر واقعات ریاست راکھین میں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں سے نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔

DW.DE

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین