شام کے باغی جنگجوؤں نے شمال مشرقی شہرالرقة میں سرکاری فوج کو شکست دے کر اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔انھوں نے وہاں سے سرکاری سکیورٹی فورسز کے سربراہ کو گرفتار کرلیا ہے اور بعث پارٹی کے اقتدار کی علامت سابق صدر حافظ الاسد کا مجسمہ مسمار کردیا ہے۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ”الرقة شام میں پہلا صوبائی دارالحکومت ہے جہاں باغیوں نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔اس وقت ان کا قریب قریب تمام شہر پر کنٹرول ہے اور صرف فوجی سکیورٹی اور بعث پارٹی کے ہیڈکوارٹرز پر ابھی ان کا قبضہ نہیں ہوا”۔
انھوں نے بتایا کہ ترکی کی سرحد کے نزدیک دریائے فرات کے کنارے واقع اس شہر پر قبضے کے لیے اسدی فوج کے ساتھ لڑائی میں النصرۃ محاذ سے وابستہ جنگجوؤں نے بھی جیش الحر کے شانہ بشانہ حصہ لیا ہے۔
انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق الرقة کے مکین شامی صدر بشارالاسد کے والد اور ان کے پیش رو حافظ الاسد کے شہر میں نصب قد آدم مجسمے کو گرارہے ہیں۔آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شہر کا پولیس سربراہ مارا گیا ہے اور دوسنئیر سکیورٹی عہدے داروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ باغی جنگجو اسٹیٹ سکیورٹی کے سربراہ کوسڑک کے راستے اپنے ساتھ ترکی لے گئے ہیں۔واضح رہے کہ شام کے اس علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان واقع سرحدی گذرگاہ پر باغی جنگجوؤں کا کنٹرول ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران باغی جنگجوؤں نے سرکاری فوج کے کمک کے تمام راستے منقطع کردیے تھے اور انھوں نے سرکاری سکیورٹی فورسز کے چیک پوائنٹس اور دوسری تنصیبات پر حملے تیز کررکھے تھے اور آج وہ سرکاری فورسز کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں۔
شامی صدر کے خلاف مسلح عوامی تحریک سے قبل الرقة کی آبادی دولاکھ چالیس ہزار نفوس پر مشتمل تھی لیکن گذشتہ دوسال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے شہر کے بیشتر مکین اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ملک ترکی چلے گئے ہیں اور اس وقت اس شہر میں اسی ہزار کے لگ بھگ افراد مقیم ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں

آپ کی رائے