شام میں ملٹری پولیس کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل عبد العزیزجاسم الشلال صدر بشار الاسد کی حکومت سے منحرف ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جنرل عبدالعزیز شام چھوڑ کر ترکی چلے گئے ہیں جبکہ شام کے شمالی صوبہ رقا کے ایک گاؤں میں سرکاری فورسز کی گولہ باری میں 8بچے اور 3خواتین سمیت 20افراد جاں بحق اور ایک خاندان کے تمام افراد سمیت درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم واچ ڈاگ کا کہنا ہے کہ مارچ 2011کے بعد سے شروع ہونے والی بشارالاسد حکومت مخالف تحریک میں اب تک 45ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں ادھر شامی صدر بشارالاسد نے شام کے تنازع کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کے ایلچی خضر براہیمی کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر بات چیت کیلئے اپنے ایک سنیئر سفارتکار کو ماسکو روانہ کیا ہے ادھرگزشتہ ماہ باغیوں کے بم حملے میں زخمی ہونے والے شام کے وزیر داخلہ محمد ابراہیم بیروت میں علاج کرانے کے بعد واپس دمشق آگئے ہیں بم دھماکے میں انکے پیٹ ،پاؤں اور کندھوں پر زخم آئے تھے منحرف ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل عبدالعزیز صدر بشار الاسد کی حکومت کے سب سے اعلیٰ عہدیدار ہیں جو شام میں حکومت مخالف بغاوت میں شامل ہو گئے۔
انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ فوج شامی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے اور وہ ایک ’قاتل گروہ‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔اطلاعات کے مطابق جنرل عبدالعزیز نے ترکی جانے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’میں فوج سے اس لیے منحرف ہونے کا اعلان کرتا ہوں کیونکہ فوج شامی عوام کو تحفظ دینے کے اپنے بنیادی مقصد سے ہٹ گئی ہے اور قتل وغارت کرنے والی گینگ بن گئی ہے۔‘

آپ کی رائے