صدردارالافتا دارالعلوم زاہدان مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے اکیسویں تقریب ختم بخاری و دستاربندی دارالعلوم زاہدان کے حاضرین سے ’خاندان اور اس کی اصلاح کی اہمیت‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «یا ایهاالذین آمنوا قوا أنفسکم و اهلیکم نارا…» کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے مزیدکہا: خاندان اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ قرآن پاک اور متعدد احادیث میں شادی کرنے اور خاندان بنانے پر بہت تاکید آئی ہے۔ خاندان کسی بھی معاشرے کا پہلا یونٹ ہے؛ اگر خاندان جو معاشرے کی جڑ ہے اصلاح ہوجائے تو پورا معاشرہ ٹھیک ہوجائے گا۔ اگر خاندان اصلاح ہوجائے تو قوم اصلاح ہوجائے گی۔ اگر قوم ٹھیک ہو تو اسے اچھے حکمران نصیب ہوں گے۔ چونکہ جابر حکمران لوگوں کے اعمال کے نتائج ہیں؛ ’اعمالکم عمالکم‘، تمہارے اعمال تمہارے حکام ہیں۔
استاذالحدیث دارالعلوم زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: معاشرے میں موجود گھرانے باغ کی طرح ہیں، خاندان کے سربراہ مالی کی طرح ہے اور اس باغ کے بہترین ثمرات نیک بچے اور بچیاں ہیں۔ اگر مالی محنت نہ کرے اور سستی کا مظاہرہ کرے تو اس کا باغ تباہ ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر سربراہ خاندان سستی و غفلت کا مظاہرہ کرے تو اس کا گھرانہ بھی خطرے میں پڑجائے گا۔
انہوں نے مزیدکہا: انبیاء علیہم السلام نیک اولاد کیلیے اہمیت دکھاتے اور اس کیلیے نصیحت بھی کرتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا مشہور ہے۔ آپؑ نے اپنی اولاد اور عیال کیلیے امن و سکون کی دعا مانگی۔ چونکہ امن کے بغیر ترقی کی راہ بند ہوتی ہے۔ پھر ان کی دعا ہے: ’واجنبنی و بنی ان نعبدالاصنام‘، یہ عقیدے کی صحت و سلامت کیلیے دعا ہے۔ شرک سے بچنے اور توحید پر قائم رہنے کیلیے دعا کرنی چاہیے۔ نماز پڑھنا اور اللہ کی عبادت کرنا اصلاح خاندان کا پہلا موثر طریقہ ہے۔
مدیراعلی ’ندائے اسلام‘ میگزین نے سورت التحریم کی تلاوت شدہ آیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: قرآن پاک کی رو سے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے اہل و عیال کی بھی نجات کی فکر کرنی چاہیے۔ ارشادنبویﷺ ہے: ’کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ‘، تم سب چرواہے کی طرح ہو اور اپنے ماتحتوں کے بارے میں تم سے سوال پوچھا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے گھر کا سرپرست ہوکر ذمہ داری کا احساس ہوجائے۔ انہیں نماز کا حکم دیاجائے۔ سب اہل خانہ گناہوں سے بچیں اور یا درکھیں ان کے فساد سے پورا معاشرہ فساد سے دوچار ہوگا۔ اس مقصد کیلیے زبردستی اور طاقت کا استعمال بھی کیاجاسکتاہے۔
مولانا مفتی محمدقاسم نے ’حرام سے بچنے‘ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اگر ہمیں نیک اولاد چاہیے تو حرام چیزوں سے سختی کیساتھ بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہرحال میں قناعت و توکل کا سہارا لینا چاہیے۔ اگر بچوں کے پیٹ میں حرام کھانا چلاگیا تو اس کا منفی اثر ان کی حرکات وسکنات پر بھی پڑے گا۔ دنیا میں موثر کردار ادا کرنے والی شخصیات حلال کھاتے اور استعمال کیاکرتے تھے۔ جو حرام کھانے سے پرورش پاتاہے ایک دن اپنے باپ پر ہاتھ اٹھائے گا اور طپانچہ مارنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ایسا بچہ اپنے خاندان اور ملک کیلیے عار و ننگ کا باعث ہوگا۔
مفتی دارالعلوم زاہدان نے ’برے دوستوں سے دوری‘ کو اولاد کی تربیت کیلیے صحیح و موثر نیز ضروری قرار دیتے ہوئے کہا: اپنے بچوں کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں جو ان کے اعمال و افکار، اخلاق اور عقائد کو گمراہی کی راہ پر لیجاتے ہیں۔ نیز منشیات اور اخلاقی جرائم سے انہیں بچانا چاہیے جو نوجوانوں کیلیے زہرقاتل ہیں۔ انہیں نیک و صالح افراد کی مجالس میں بٹھا کر تربیت کرانی چاہیے۔
آخرمیں مفتی محمدقاسم قاسمی نے ’دعا‘ کو خاندان کی تربیت و اصلاح کیلیے موثرترین سبب قرار دیتے ہوئے کہا: مذکورہ بالا امور کو ملحوظ رکھنے کے بعد اپنے بچوں کی صحیح تربیت و اصلاح کیلیے دعا کرنی چاہیے۔ انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اولاد کی تربیت کیلیے دعا کیا کرتے تھے۔ حضرت زکریاؑ کی دعا قرآن پاک میں آیاہے: ’ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریٰتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما۔‘
SunniOnline.us

آپ کی رائے