انسانی حقوق پر مولانا ملکی پور کابیان

انسانی حقوق پر مولانا ملکی پور کابیان

کنارک کے سنی خطیب مولانا عبدالمالکی ملک پور نے ’انسانی حقوق‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی آیت: «وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا» کی تلاوت سے کیا۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے متعدد مقامات پر مسئلہ توحید اور شرک سے اجتناب پر زور دینے کے فورا بعد حقوق الناس کی بات کی ہے، سب سے پہلے ماں باپ کے حقوق کی خیال داری پر تاکید آئی ہے۔ دستورخداوندی ہے کہ والدین کے سامنے ہرگز ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس سے گستاخی کا شبہہ ظاہر ہو۔

تلاوت شدہ آیت میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ہم نے انسان کو عزت دی اور پوری کائنات اس کیلیے مسخر بنادیا۔ قرآن پاک کی رو سے انسان ہر جہت سے افضل المخلوقات ہے۔ اسلام میں دوسروں کے حقوق کی خیال داری پر بہت تاکید آئی ہے۔ قرآن پاک میں ایک مقام پر آیاہے: «وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا» ، (اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا)۔ ایک حدیث شریف میں آتاہے: ’الراحمون یرحمہم الرحمن‘، رحم کرنے والوں پر اللہ رحم فرماتاہے۔ اسلام میں نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے حقوق پر بھی زور دیاگیا ہے۔ متعدد احادیث مبارکہ اس بات کی گواہی دیتی ہیں۔

مولانا ملکی پور نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اسلام انسانی حقوق کا محافظ ہے۔ آج کل دنیا میں بہت ساری پارٹیاں اور ممالک انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے دعویدار ہیں، لیکن ان میں سے کوئی فساد کے خاتمے کیلیے کوشاں نہیں ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ ہرقسم کی گمراہی اور فساد ان کی نگرانی میں ہو۔ چنانچہ ان کیلیے بعض ممالک میں مزاحمت شدت پسندی اور دہشت گردی ہے جبکہ اگر کسی ملک میں ان کے مفادات کا تقاضا ہو تو مسلح جدوجہد مزاحمت اور جائز قرار پاتی ہے۔ یہ دورخی اور ڈبل سٹینڈرڈ ہے۔

انہوں نے مزیدکہا: انسانی حقوق کے جھوٹے علمبردار بچوں اور خواتین سمیت کسی بھی شخص پر رحم نہیں کرتے حالانکہ نبی کریم ﷺ نے دوران جنگ خواتین، بچوں اور عمررسیدہ افراد نیز عابدوں اور راہبوں پر ہاتھ اٹھانے کو ممنوع قرار دیا۔ جب ایک خاتون کی لاش پر ان کی نظر پڑی تو انہوں نے سخت غصے اور غم کا اظہار کیا۔ اس سے ثابت ہوتاہے اسلام انسانی حقوق کا حقیقی علمبردار ومحافظ ہے۔

SunniOnline.us


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین