انقلاب بچانے کے لیے اخوان المسلمون کا نائب صدر کے نام پر باقاعدہ مذاکرات کا اعلان

انقلاب بچانے کے لیے اخوان المسلمون کا نائب صدر کے نام پر باقاعدہ مذاکرات کا اعلان

قاہرہ(العربیہ ڈاٹ نیٹ) مصر میں پندرہ ماہ کے بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون کے ڈاکٹر محمد مرسی اور سابق صدر حسنی مبارک کے دور کے وزیراعظم احمد شفیق کے بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبروں پر آنے کے بعد سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہونے لگا ہے۔ حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اخوان المسلمون نے انقلاب کے ثمرات بچانے کے لیے نائب صدر کے عہدے کے لیے دیگر سیاسی قوتوں سے بامقصد مذاکرات کا اعلان کیا ہے۔
“العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق اخوان المسلمون کے ایک مرکزی رہ نما یاسر علی نے قاہرہ میں نیوزکانفرنس کے دوران بتایا کہ ان کی جماعت نائب صدر کے عہدے کے لیے دیگر تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ فوری مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں ترجیحی بنیادوں پر ڈاکٹر عبدالمنعم ابو الفتوح اور بائیں بازو کے صدارتی امیدوار حمدین الصباحی کے ساتھ بھی بات چیت کی جائے گی۔ بات چیت میں نائب صدر کے عہدے کے لیے کسی متفقہ امیدوار کے چناؤ کے ساتھ ساتھ نئی وجود میں آنے والی حکومت میں زیادہ سے زیادہ جماعتوں کو شامل کرنے کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ادھر گذشتہ روز جب صدارتی انتخابات کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور نتائج میں خلاف توقع حسنی مبارک دور کے وزیر اعظم احمد شفیق کے سر فہرست آنے پر اخوان المسلمون نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اس موقع پراخوان المسلمون کے رہ نماؤں نے احمد شفیق کی کامیابی کو ایک خطرناک اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد مرسی کے مقابلے میں احمد شفیق کامیاب ہوگئے تو یہ “امت کے لیے ایک بڑا خطرہ” ہوگا۔
اس موقع پر اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ “ازادی و انصاف” کے نائب صدر ڈاکٹرعصام العریان نے کہا کہ “ایسے لگ رہا ہے کہ پہلے راؤنڈ میں کامیابی کے بعد اب ان کی جماعت کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی اور احمد شفیق کے درمیان آخری مقابلہ 16 اور 17 جون کے انتخابی راؤنڈ میں ہوگا”۔
ڈاکٹر عصام العریان نے خبردار کیا کہ بعض نادیدہ قوتیں مصری قوم سے انقلاب کے ثمرات سلب کرنا چاہتی ہیں لیکن اس نازک موقع پر تمام سیاسی قوتوں کو حکمت اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انقلاب کو ضائع ہونے سے بچانا ہوگا۔
انہوں نے انکشاف کہ اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی نے دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ بھی مذاکرات کا اغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم نے مذاکرات شروع کرکے گیند دوسری سیاسی قوتوں کےکورٹ میں پھینک دی ہے۔
خیال رہے کہ مصر میں صدارتی انتخابات کی گنتی کے دوران غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈاکٹرمحمد مرسی اور احمد شفیق کی حمایت میں ڈالے گئے ووٹوں میں معمولی فرق ہے۔ ڈاکٹر مرسی نے مجموعی طور پر 24 اعشاریہ نو فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل احمد شفیق کے ووٹوں کی تعداد چوبیس اعشاریہ چار فی صد بتائی گئی ہے۔ حمدین الصباحی 21 اعشاریہ ایک فی صد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین