شام:گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے 9 افراد سمیت 10 ہلاک

شام:گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے 9 افراد سمیت 10 ہلاک

دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں) شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب کے ایک قصبے میں مارٹر بموں کے حملے میں ایک ہی خاندان کے نو افراد سمیت دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دیرالزور میں باغیوں نے بارہ سرکاری فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق مارٹروں کے حملے میں مرنے والوں میں دوبچے بھی شامل ہیں اور بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ حملہ کس نے کیا ہے۔
ادھر شام کے مشرقی صوبہ دیرالزور میں فوجی اڈے کے باہر سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں بارہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق سرکاری سکیورٹی فورسز نے باغیوں کے حملے کے جواب میں مشین گنوں سے شدید فائرنگ کی اور مارٹرگولے فائر کیے ہیں جس کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک ہوگیا ہے۔سرکاری فوجیوں نے ایک اسکول کی عمارت بھی مسمار کردی ہے۔
قبل ازیں العربیہ ٹی وی نے اطلاع دی تھی کہ شامی فورسز نے رات کو دارالحکومت دمشق کے علاقے التدمون میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ کی تھی۔مقامی رابطہ کمیٹیوں کی اطلاع کے مطابق ایک اور قصبے جسر الشغور اور اس کے نواحی دیہات میں بھی گولہ باری کی گئی ہے جس سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔تاہم ان کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شام کے دارالحکومت دمشق اور ادلب میں حالیہ بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور شام کے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ ملک سے تشدد کے خاتمے کے لیے عالمی ادارے کے مبصرین کے ساتھ مل کر کام کریں۔ شمال مغربی شہر ادلب میں گذشتہ روز سکیورٹی اداروں کی عمارتوں پر بم حملوں میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
دوسری جانب شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے نائب ناصر القدوہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کو اپنے تمام وعدوں کو پورا کرنا ہوگا ورنہ اسے عالمی برادری کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین