مفتی مصر کے دورہ بیت المقدس پر علماء کی شدید تنقید

مفتی مصر کے دورہ بیت المقدس پر علماء کی شدید تنقید

قاہرہ(مرکزاطلاعات فلسطین) مصر کے کئی سرکردہ علماء اور مذہنی شخصیات نے مفتی مصر کے اسرائیلی ویزے پر مقبوضہ بیت المقدس کے دورے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ مفتی مصر ڈاکٹر علی جمعہ نے اسرائیلی ویزے پر مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ القدس اسرائیلی ریاست کا حصہ ہے۔ علماء نے مفتی علی جمعہ کے بلا جواز القدس کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مصر کے کئی ممتاز علماء جن میں جامعہ الازھر کے اساتذہ اور شیوخ بھی شامل ہیں نے مفتی علی جمعہ کے دورہ بیت المقدس کو مسترد کر دیا ہے۔ ناقد علماء میں مصر کے سابق مفتی اعظم شیخ فرید واصل اور جامعہ الازھر کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب بھی شامل ہیں۔ علماء کا کہنا ہے کہ سرکردہ دینی قیادت کے لیے یہ بات قطعاً نا مناسب ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے ویزے کے حصول کے بعد بیت المقدس کا دورہ کریں۔ مفتی اعظم نے القدس کا دورہ کر کے پوری دینی قیادت کے موقف کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جس پروہ اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
قاہرہ میں مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے سابق مفتی اعظم شیخ فرید واصل نے کہا کہ اسرائیلی ویزے پر بیت المقدس کا دورہ کرنے کے بعد مفتی اعظم شیخ علی جمعہ کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ کیونکہ بیت المقدس کی موجودہ حیثیت ایک آزاد علاقے کی نہیں اور اس پراسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے۔ اسرائیل جس کو اجازت دیتا ہے وہ بیت المقدس کا دورہ کرتا ہے حالانکہ بیت المقدس اسلامی وقف زمین ہے جہاں کم سے کم اسرائیلی حکومت کی طرف سے اجازت نامے کے حصول کی کوئی ضرورت ہے۔ مسلماء علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ  جب تک القدس اسرائیل کے قبضے میں ہے وہ اسرائیلی ویزے یا اس کی پرچی پر وہاں نہیں جائیں گے۔
مصر کے ایک دوسرے عالم دین اور اہل سنت والجماعت کی علماء کونسل کے سربراہ الشیخ صفوت حجازی نے بھی شیخ علی جمعہ کے دورہ بیت المقدس کی مذمت کرتے ہوئے ان سے فوری طور مستفعی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ شیخ حجازی کا کہنا ہے کہ مفتی اعظم مصر کی سابق حکومت کے طرز عمل پر چل رہے ہیں لیکن انقلاب کے بعد کسی مصری شہری کے لیے یہ بات قطعی غیرمناسب ہے کہ وہ اسرائیلی ویزے کے حصول کے بعد بیت المقدس کا دورہ کرے۔ مفتی مصرکی اپنی ایک دینی شناخت ہے اور ان کا منصب اس طرح کے متنازعہ اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں مصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ نے اسرائیلی ویزے پر القدس کا دورہ کیا تھا، جہاں ان کے ہمراہ یمن کےایک عالم دین بھی تھے۔ تاہم  علماء کے اس دورے پر فلسطین اور عرب ممالک کی دینی قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین