واشنگٹن (العر بیہ ڈاٹ نیٹ) گیارہ ستمبر سنہ 2001ء کو امریکا میں دہشت گردی کے واقعات اور ان میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے بعد یہ تاثرعام ہو گیا تھا کہ امریکی معاشرے میں مسلمانوں کو مذہبی معاملات میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا، تاہم ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکا میں مساجد کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس وقت امریکا میں مساجد کی کل تعداد 2100 تک پہنچ چکی ہے۔ مساجد کی تعمیر میں تیزی نہ صرف بڑے شہروں میں دکھائی دیتی ہے جہاں مسلمان تارکین وطن اور مقامی مسلم آبادی بکثرت موجود ہے بلکہ دیہی علاقوں میں بھی مساجد کی تعمیر کا کلچر زور پکڑ رہا ہے۔
“العر بیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق امریکا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ” “کیئر” کے ڈائریکٹر نہاد عوض نے امریکا میں مساجد کے بڑھتے رحجان کے بارے میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں مساجد اور مسلمانوں کے مذہبی مراکز کی تعمیر معاشرے میں مسلمانوں کی دوسری اقوام کے افراد کے بارے میں پائی جانے والی فراخدلی اور دیگر معاشروں کی جانب سے مسلمانوں کو حاصل مقبولیت کی دلیل ہے۔ مساجد کی تعداد میں اضافہ اس امرکی بھی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا میں بطور مذہب اسلام کو تیزی سے پذیرائی مل رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا میں گذشتہ 10 سال میں 27 مساجد کا اضافہ ہوا ہے۔ “العربیہ” ٹی وی کی ٹیم نے ریاست ورجینیا میں مسلمانوں کے ایک بڑے دینی مرکز اور جامع مسجد “النور” کا دورہ کیا، جو سنہ 2005ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ مسجد میں جمعہ کے روز سینکڑوں افراد نماز میں موجود ہوتے ہیں، جو وہاں پر مسلمانوں کی بڑی تعداد کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ورجینیا “مسلم فاؤنڈیشن” کے ڈائریکٹر محمد محبوب نے “العربیہ” کو بتایا کہ جامع مسجد النور بھی مقامی مسلم آبادی کے تناسب سے تنگ پڑتی جا رہی ہے کیونکہ مسجد میں نماز جمعہ کے لیے دو مرتبہ نماز باجماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ورجینیا اسلامی مرکز کی دیگر سرگرمیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ “ہم اسلامی مرکز کے توسط سے دینی کتب اور جیلوں میں اسلام قبول کرنے والے قیدیوں کو قرآن کریم کے نسخے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
امریکا میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو الگ الگ مشکلات درپیش رہتی ہیں تاہم انہیں جامع مسجد النور کی تعمیر میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔ مقامی غیر مسلم آبادی کی جانب سے ان کے ساتھ نہایت فراخدلی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہمارے ( یعنی مسلمانوں کے) عیسائی کلیساؤں کے پادرویوں اور یہودی تنظیموں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کو بھی ہم سے کوئی شکایت نہیں۔ جب سے ہم نے النور اسلامی مرکز کی تعمیر شروع کی اس کے بعد سے ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ نائن الیون کے واقعات کے بعد مساجد کے آئمہ اور خطباء کو امریکی معاشرے میں اپنی اور مجموعی طور پر اسلام اور تمام مسلمانوں کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوںکہ دہشت گردی کے واقعات نے امریکی معاشرے میں مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں گھٹن کی فضاء پائی جا رہی تھی۔
امریکی مسلمانوں کی تنظیم”کیئر” کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں 98 فی صد مساجد کے آئمہ کرام مسلمانوں کے امریکی تنظیموں کے ساتھ اچھے تعلقات کے قیام کے حامی ہیں، جبکہ 91 فی صد مسلمان علماء میں گذشتہ دس سال کے دوران امریکا میں سیاسی عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کی حمایت کرنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں مساجد کے صرف ایک چوتھائی علماء اور آئمہ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا میںمسلمانوں کے بارے میں غیر مسلم اقوام معاندانہ رویہ رکھتے ہیں۔ ان علماء کی بھی نصف تعداد نائن الیون کے واقعات سے پہلے بھی اسی طرح کی سوچ رکھتی تھی۔
“کیئر” کے ڈائریکٹر بیان کرتے ہیں کہ امریکا میں مسلمانوں کو مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ مشکلات قانونی نوعیت کی نہیں بلکہ مسجد کے آس پاس کی آبادی کی وجہ سے درپیش رہتی ہیں۔ تاہم نائن الیون کے واقعات کے بعد مساجد کی تعداد میں اضافہ مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی گھٹن کی فضاء میں کمی کا ثبوت ہے۔

آپ کی رائے