دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ) شام کے شمالی شہر اِدلب کی علماء کونسل نے صدر بشار الاسد کی حمایت ترک کر کے باغیوں کی صفوں میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ علماء نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے قتل عام کے بجائے عوام کے تبدیلی کے لیے مطالبات جلد از جلد پورے کرے۔
“العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق ادلب کے سرکردہ علماء پر مشتمل کونسل نے اپنے مشترکہ اجلاس کے بعد ایک ویڈیو پیغام پڑھ کر سنایا جس میں صدر بشار الاسد سے اپنی وفاداریاں ختم کرنے اور باغیوں کی حمایت کرنے کا اعلان کیا گیا۔ علماء نے ملک بھر میں سرکاری فوج کے ہاتھوں ہونے والےسویلین کے قتل عام کی شدید مذمت کی۔ یو ٹیوب پر جاری اس ویڈیو میں ادلب کے علماء کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں صدر بشار الاسد کی حمایت نہیں کر سکتے بلکہ بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے وہ باغیوں کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔
حکومت سے علاحگی اختیار کرنے والے علماء کے ترجمان نے حکومت کے حامی علماء کو خبردار کیا کہ وہ ظالم حکومت کا ساتھ دے کر نہ تو حکومت کو نفع پہنچا سکتے اور نہ ہی اپنے عوام اور خدا کے سامنے خود کو سرخرو کر سکتے ہیں، وہ خدا کے غضب سے بچیں اور بے گناہ شہریوں کے قتل پر خاموشی توڑ دیں۔ انہوں نے ملک بھر کے علماء اور اہل علم پر زور دیا کہ وہ حکومت کی حکومت چھوڑ کر عوام کی صفوں میں شامل ہو جائیں تاکہ مظلوم لوگوں کی مدد کی جا سکے۔
بشار الاسد آدھے شام کا کنٹرول کھو چکے ہیں: کرنل ریاض الاسعد
شام کی فری آرمی کے سربراہ کرنل ریاض الاسعد کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد ملک کے نصف حصے پر اپنا کنٹرول کھو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فری آرمی کسی بھی علاقے پر اپنے مکمل کنٹرول اس لئے ظاہر نہیں کر رہی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے حکومت ہمارے اس ٹھکانے کو تباہ کرنے کے لئے بھاری اسلحہ استعمال کرے، جس سے عام شہریوں کو نقصان پہنچے۔
ادھر مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز سرکاری فوج کی فائرنگ سے 20 افراد ہلاک ہوئے۔ شامی فوج کے ٹینکوں نے ایک مرتبہ پھر دمشق کے ان مضافاتی علاقوں پر گولہ باری شروع کردی ہے جنہیں انقلابی کمیٹیوں نے تباہ حال علاقہ قرار دے دیا تھا۔
فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں: روس
سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس نے صدر بشار الاسد کے لیے اپنی روایتی حمایت جاری رکھی۔ اس موقع پر روسی مندوب برائے اقوام متحدہ “فیتالی چورکین” نے شام کی حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ تنازع کے حل لیے مذاکرات کی میز پر آئیں کیونکہ شام کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
روسی مندوب کا کہنا تھا کہ “میں جانتا ہوں کہ شام میں عالمی معائنہ کاروں نے سیکیورٹی کی خراب صورت حال کے بارے میں اہم معلومات دی ہیں تاہم میں ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دوں کہ ماسکو شام میں فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرے گا”۔ انہوں نے عرب لیگ کی جانب سے شام پر عائد پابندیوں کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ عرب لیگ کی دمشق کے خلاف پابندیاں بے سود رہی ہیں، انہیں ختم کر دینا چاہیے۔
اجلاس میں سلامتی کونسل میں مراکش کے مندوب یوسف عمرانی نے کہا کہ عرب لیگ کے مبصرین نے شام میں نہایت مشکل حالات میں کام کیا، جب ان کے مشن کو ناممکن بنانے کی کوشش کی گئی تو ہمیں مجبورا مبصر مشن کو روک کر معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھانا پڑا ہے۔ اب سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ عرب لیگ کی قرارداد کے مطابق شام کے بارے میں کوئی اقدامات کرے۔

آپ کی رائے