کوئٹہ(بی بی سی) انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ِپاکستان صوبہ بلوچستان میں مشتبہ شدت پسندوں اور سرگرم کارکنوں کی خفیہ اداروں اور نیم فوجی ادارے فرنٹئیر کور کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر گمشدگیاں فوری طور پر بند کروائے۔
ہیومن رائیٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) جمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ لاپتہ ہوجانے والے کئی افراد حالیہ دنوں میں صوبے میں ماورائے عدالت قتل کے درجنوں واقعات میں مارے بھی جاچکے ہیں۔
قدرتی وسائل سے مالامال مگر تشدد زدہ صوبۂ بلوچستان کے بارے میں ایک سو بارہ صفحات پر مبنی ایچ آر ڈبلیو کی اس رپورٹ کا عنوان ’ہم تشدد اور قتل کرسکتے ہیں یا پھر تمہیں برسوں اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے پاکستانی اداروں کی جانب سے جبری گمشدگی‘ رکھا گیا ہے۔
اس دستاویز میں درجنوں گمشدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکام لوگوں کو حراست میں لیتے ہیں پھر ان افراد کے بارے میں کسی علم، سراغ، معلومات یا ذمہ داری سے انکار کردیتے ہیں۔
رپورٹ میں مبینہ جبری گمشدگی کے ایسے پینتالیس معاملات کو حوالہ دیا گیا ہے جن میں زیادہ تر دو ہزار نو یا دو ہزار دس میں ہوئے، جبکہ بلوچستان میں سن دو ہزار پانچ سے اب تک سینکڑوں افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوچکے ہیں۔
ایشیاء کے لئے ادارے کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمس کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرکاری ادارے لاپتہ ہوجانے والے بلوچ قوم پرستوں اور مشتبہ شدت پسندوں کے ساتھ بدسلوکی میں ملوث ہیں، جو کئی بار تو قتل بھی کردیئے کردیئے جاتے ہیں اور وفاقی حکومت اس قتل عام کو روکنے کے لئے بہت ہی کم اقدامات کرسکی ہے جس سے فوج اور خفیہ اداروں کو گرفت میں لینے کی اس کی صلاحیت اور ارادوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
یہ رپورٹ مرتب کرنے کے لئے ایچ آر ڈبلیو نے بلوچستان میں گمشدہ ہوجانے والے افراد کے اہل خانہ، حراست میں رہنے والوں، انسانی حقوق کے مقامی سرگرم کارکنوں، وکلاء، اور سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں اغواء کی ایسی وارداتوں کے گواہوں کے قریباً سو انٹرویوز کئے ہیں۔
ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ میں جن معاملات کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے تحت کسی سرکاری اہلکار نے کبھی خود اپنی شناخت کروائی، نہ تعارف کروایا، نہ ہی حراست میں لئے جانے والے کے بارے میں بتایا کہ اسے کیوں حراست میں لیا جارہا ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اسے کہاں لے جایا جارہا ہے۔ کئی واقعات میں تو زبردستی لے جائے جانے والے افراد کو مارا پیٹا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، انہیں گھسیٹا گیا اور ہتھکڑی ڈال کر آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا گیا۔ دوران حراست بھی ان افراد کو تشدد بدسلوکی اور نیند یا خوراک سے طویل عرصے تک محروم رکھنے معاملات بھی سامنے آئے۔
ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستانی اداروں کے ہاتھوں ان گمشدگیوں کی اصل تعداد کا علم نہیں۔ جو اعداد و شمار حکام نے فراہم کئے ہیں وہ کبھی یکساں نہیں رہتے۔ دو ہزار آٹھ میں وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا تھا کہ بلوچستان میں قریباً گیارہ سو افراد لاپتہ ہیں اور جنوری دو ہزار گیارہ میں بلوچستان کے وزیر داخلہ ظفراللہ زہری نے صوبائی اسمبلی کو بتایا کہ محض پچپن افراد لاپتہ ہیں۔
انسانی حقوق کے ادارے ایچ آر ڈبلیو نے بلوچستان بھر میں جنوری سے اب تک ایسے ڈیڑھ سو واقعات رپورٹ کئے ہیں جنہیں زیادہ تر افراد ’کل اینڈ ڈمپ‘ یا مارو اور پھینک دو جیسی کارروائی کہتے ہیں اور جس کے ذمہ دار پاکستانی ادارے سمجھے جاتے ہیں۔
دسمبر دو ہزار دس میں بلوچ شدت پسندوں کے ہاتھوں سرکاری اداروں کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں جاری ہونے والی ’ان کا مستقبل داؤ پر ہے‘ نامی اسی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بلوچستان میں شدت پسند گروہ شہریوں کی جان و مال کے خلاف واقعات میں ملوث ہیں اور شہریوں کے قتل، جائیدادوں کی بربادی کے ذمہ دار ہیں۔

آپ کی رائے