لیسٹر (پ ر) اسلامی نظام بینکاری دنیا کا بہترین بینکاری نظام ہے جو عدل اور انصاف کے اصول پر مبنی اور عام لوگوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے کام کرتا ہے اس سے مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سنٹرل بینک نائیجریا کے گورنر معلم سنوسی لیمڈو سنوسی نے مارک فیلڈ انسٹیٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا نظام بینکاری دن بدن فروغ پا رہا ہے یہ عام رواتی بینکاری سسٹم کے متبادل ایسا نظام ہے جہاں لوگ حلال اور جائز طریقوں سے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
یہ اخلاقی اصولوں پر مبنی غیر استحصالی نظام ہے اس میں جو بھی رقم کاروبار میں لگائی جاتی ہے وہ سود، جوا، لاٹری، سٹہ، حرام چیزوں کی خرید و فروخت اور بے حیائی جیسے کاروبار سے پاک ہوتی ہے نیز اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ حقیقی کاروبار ہو تاکہ پیداوار بڑھے اور عام لوگوں کا استحصال نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری کا کاروبار اب ملین اور بلین سے بڑھ کر کئی ٹریلین تک جا پہنچا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے تجارتی مراکز مثلاً برطانیہ، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائشیا، متحدہ عرب امارات، بحرین اور جنوبی افریقہ میں بھی اسلامی بینکنگ کا نظام روز بروز آگے بڑھ رہا ہے۔
مغرب میں کئی عام بینکوں نے اسلامی کھاتے کھولے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں 435 ادارے ایسے ہیں جو یہ نظام پوری طرح چلا رہے ہیں اس کے علاوہ کئی عام بینکوں نے بھی اسلامی طریقے اپنائے ہیں۔
اس نظام میں کچھ ممالک میں مشکلات بھی ہیں، سب سے بڑی مشکل تو ماہرین کی کمی ہے خاص طور پر ان ماہرین کی کمی جو مروجہ بینکاری نظام کے ساتھ ساتھ اسلامی شریعت سے بھی واقف ہوں کیونکہ موجودہ دور میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خصوصی مہارت کا ہونا ضروری ہے۔
مارک فیلڈ انسٹیٹیوٹ کے ریکٹر ڈاکٹر مناظر احسن نے کہا کہ معلم سنوسی اس تقریب کیلئے خاص طور پر تشریف لائے ہیں جو ہمارے لئے اعزاز ہے۔ اس پروگرام میں طلبا کے علاوہ عام لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

آپ کی رائے