کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت

کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت

اسلام آباد(جنگ نيوز/ایجنسیاں) کراچی میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان سرفراز شاہ کے ماورائے عدالت قتل پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سینٹ اور قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور واقعہ کی پرزور مذمت کی جبکہ قومی اسمبلی میں بعض ارکان جذباتی ہو گئے اور ارکان نے خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واقعہ کی مکمل تحقیقات اپنی نگرانی میں کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ادارے کو گالی نہ دی جائے اور وزیراعظم کی درخواست پر اسپیکر نے قابل اعتراض جملے کارروائی سے حذف کرا دےئے۔ جبکہ صدر آصف زرداری نے بھی نوجوان کی ہلاکت کے واقعہ پر رحمن ملک سے رابطہ کیا اور قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ رینجر اہلکار نے کراچی میں ایک نوجوان کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باوردی رینجر اہلکار کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو گولی مار دیں کل اس قسم کا کوئی اور واقعہ ملک کے کسی اور حصہ میں بھی رونما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رینجر اہلکار کیخلاف دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور 30 دنوں میں فیصلہ کیا جائے۔ اس معاملے پر خواجہ سعد رفیق نے جارحانہ انداز میں قابل اعتراض جملے ادا کئے۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی تشویش کو نظر انداز نہ کیا جائے‘ اگر عام پاکستانی کا احترام نہیں ہو گا تو کسی ادارے کا بھی احترام نہیں ہو گا اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین